آپ کے جسم سے پرفیوم سے بہتر خوشبو کیسے آئے؟
جن لوگوں کے منہ سے بدبو آتی ہے یا جسم سے ناگوار بو آتی ہے اور وہ بار بار تیز پرفیوم استعمال کرتے ہیں،
اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے جسم سے بغیر پرفیوم کے قدرتی خوشبو آئے تو اس کے لیے ایک سادہ نسخہ آزما سکتے ہیں۔
1۔ سنا مکی Senna Leaves
2۔ گلاب کی پتیاں یا اچھا عرق گلاب
3۔ تین چھوٹی الائچیوں کے دانے
ہم وزن لیکر ایک کپ پانی میں اچھی طرح گرم کرکے قہوہ تیار کریں اور صبح شام اس کو پی لیں
فائدے:
1۔ قبض بالکل ختم ھو جائے گی
2۔ منہ کی بدبو %100 ختم ھو جائے گ
3۔ آپ کے جسم سے بغیر کوئی باڈی سپرے لگائے بہت ہی کمال کی خوشبو آنا شروع ھو جائے گی
خواتیں استعمال کریں تو 7 دن میں جسم سے خوشبو آنا شروع ھو جائے گی جب کہ مردوں کے جسم سے 10 سے 15 دن لگیں گے۔
سنا مکی سے قبض کے مسائل 100 فیصد ختم اور آپ کے جسم کے مسام کھلنا شروع جائیں گے جس سے الائچی اور گلاب کے مکس ھونے سے کمال کا پرفیوم آپ کے مساموں سے باہر آئے گا
آپ خود بھی بہت اچھا محسوس کریں گے اور آپ کے پاس بیٹھنے والے بھی
مذاق سمجھنے کی بجائے اس کو 15 دن کرکے رزلٹ بتائیں
فرمائشی گرفتاریوں کا سیزن شروع۔
اگلا کون؟
____________________
سی ایم صاحب یہ ڈرامے اب پرانے ہوچکے۔ کسی اور ٹرک کی بتی کے پیچھے یوتھیوں کو لگاؤ۔۔
اور آپ کا کام پنجاب میں ڈرامہ بازیاں کرنا نہیں بلکہ اپنے صوبے کی حالات ٹھیک کرنے ہیں
@SohailAfridiISF
پر یہاں تو آپ نے پہلے سے ہی کہا ہے کہ “وزیراعلی نے اپنے لندن وزٹ کے تمام اخراجات ادا کئے ہیں”۔۔
یعنی آپ اس وقت بھی جھوٹ بول رہی تھی اور اب بھی جھوٹ بول رہی ہو
@AzmaBokhariPMLN
سالار جمہوریت مولانا فضل الرحمٰن کی شیخ الحدیث اور تبلیغی جماعت کے رکن مرکزی شوری حضرت مولانا احسان الحق رحمہ اللّٰہ علیہ کی وفات پر مولانا احمد بٹلہ ۔مولانا عبید اللہ خورشید ۔مولانا عامر احسان وبرادران اور دیگر علماء سے تعزیت کیلئے قائد پنجاب مولانا امجد خاں کے ہمراہ رائے ونڈ آمد ملاحظہ فرمائیں مولانا کا ناقابلِ یقین استقبال کا منظر
عقیل یوسف زئی کے الزامات کا حقیقت پر مبنی جواب
امیر انصار الامہ پاکستان، مولانا فضل الرحمن خلیل نے عقیل یوسف زئی کی جانب سے قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن پر عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کا مدلل اور جامع جواب۔
مولانا فضل الرحمن خلیل نے اپنے بیان میں مختلف دعوؤں اور الزامات کا حقائق و شواہد کی روشنی میں جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کے پسِ پردہ موجود مبالغہ آرائی اور یک طرفہ پروپیگنڈے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی و مذہبی قیادت کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت قیاس آرائیوں کے بجائے مستند حقائق، تاریخی پس منظر اور قابل اعتماد شواہد کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے عقیل یوسف زئی کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت اور کسی زمہ دار ریاستی عہدیدار کا حوالہ دیئے بغیر محض من گھڑت الزامات اور یک طرفہ دعووں کی بنیاد پر کسی شخصیت کی کردارکشی کرنا صحافتی اصولوں اور ذمہ دارانہ طرز اظہار کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
مولانا فضل الرحمن خلیل کے مطابق، حقائق کو مسخ کرنے کے بجائے انہیں دیانت داری کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرنا ہی ذمہ دار صحافت اور سنجیدہ سیاسی مکالمے کا تقاضا ہے۔