ارشد شریف کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کے لئے میری درخواست ایک سال تک اسلام آباد ��ائی کورٹ میں زیر سماعت رہی ایک سال بعد عدالت نے کہا کہ یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے ہم سماعت نہیں کر سکتے اور آج سپریم کورٹ نےانصاف دئیے بغیر ہی کیس نمٹا دیا ارشد شریف کی والدہ سے انصاف کے بڑے بڑے وعدے کئے گئے تھے وہ سب وعدے آج دفن ہو گئے
چلو چلو لندن چلو :
8 فروری 2024 سیاہ ترین دن پاکستان کی عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ۰فارم 47 کے زریعے جعلی حکومت قائم کی گئی ۰پاکستان میں جمہوریت انصاف اور انسانی حقوق آزادی رائے کا قتل کیا گیا ۰ اس ظلم جبر بربریت فسطائیت کے خلاف اور قائد عمران خان کی رہائی کے لئے بہت بڑا “ احتجاجی مظاہرہ “ وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہو گا ۰
8 فروری
بروز اتوار
1 بجے دن
London SW1A 2AA
یوکے میں رہنے والوں تمام اوورسیز پاکستانیو ں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے ۰
#سٹریٹ_موومنٹ_کی_تیاری_پکڑیں #سڑکوں_پر_مزاحمت_واحد_حل بند مطلب بند #ReleaseImranKhan #PTIofficial #رسائی_نہیں_خان_کی_رہائی #ptinorthwest #asifbutt
لاہور ہائیکورٹ
پنجاب موٹر بائیکل ارڈیننس 2025 میں بھاری جرمانوں کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی
عدالت نے درخواست پر فریقین سے جواب طلب کررکھا ہے
جسٹس فاروق حیدر جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کرینگے
درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہونگے
ای ٹریفک چالان کےلیے میکنیزم بنانے کےلیے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کو مراسلہ
جوڈیشل ایکٹوازیم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مراسلہ جاری
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں مراسلہ
صرف زیبرہ کراسنگ کی بنیاد پر چالان کیے جا رہے ہیں مراسلہ
نا کوئی ویڈیو دیتے ہیں جس اپیل کا حق مو��ود ہے مراسلہ
جرمانے ادا نہ کرنے پر گاڑیاں روک کر زبردستی جرمانہ وصول کیا جاتا ہے مراسلہ
ٹریفک کا نظام بہتر کیے بغیر جرمانے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے مراسلہ
لائن تبدیل کرنے پر جرمانوں کو ختم کیا جا��ے مراسلہ
موٹر وہیکل آرڈینینس سے متعلق درخواست پہلے ہی ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے مراسلہ
ای چالان کے لیے مکمل میکنزم بنائے جائے مراسلہ
اگر جرمانے واپس نہ لیے گئے تو اعلی عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا مراسلہ
@OfficialDPRPP @NHMPofficial @ccpolahore
کیا اٹھارویں ترمیم کے معاملے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد ٹوٹ سکتا ہے؟ اٹھارویں ترمیم پر ہمیں بھی ابتدا ہی سے کئی تحفظات تھے اور بعد میں اس کے نتیجے میں متعدد مسائل سامنے آئے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اٹھارویں ترمیم کے تحت مقامی حکومتوں کا نظام واقعی پنپنے نہیں دیا گیا؟
@Dr_fizakhan@suno_newshd
مکمل پروگرام لنک:
https://t.co/iDKNowh6tP
حقِ منصفانہ سماعت (Fair Trial) اور حقِ دفاع کو عالمی سطح پر بنیادی انسانی حقوق تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ حقوق انصاف کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اور فرد کی آزادی کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان حقوق کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ منصفانہ انداز میں چلایا جائے اور اسے اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے!!
بین الاقوامی سطح پر ان حقوق کو اہم قانونی دستاویزات میں تسلیم کیا گیا ہے۔ عالمی منشورِ انسانی حقوق 1948ء کے آرٹیکل 10 اور 11 میں ہر فرد کے لیے آزاد اور غیر جانبدار عدالت کے سامنے منصفانہ اور علانیہ سماعت، بے گناہی کے اصول، اور دفاع کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ بعد ازاں بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق 1966ء (ICCPR) کے آرٹیکل 14 میں ان حقوق کو مزید تفصیل سے بیان کیا گیا، جن میں قانونی معاونت، دفاع کی تیاری کے لیے مناسب وقت اور سہولیات، اور گواہوں سے جرح کا حق شامل ہے!!
علاقائی سطح پر بھی انسانی حقوق کے نظام ان اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔ یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق، امریکی کنونشن برائے انسانی حقوق اور افریقی چارٹر برائے انسانی و عوامی حقوق میں بھی منصفانہ سماعت اور دفاع کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ان معاہدات کی وسیع توثیق اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حقوق عالمی عرفی قانون (Customary International Law) کا حصہ بن چکے ہیں!!
اس کے باوجود، عملی طور پر ان حقوق کا نفاذ دنیا بھر میں یکساں نہیں ہے۔ مختلف ممالک کے قانونی نظام، سیاسی حالات، عدالتی آزادی اور وسائل کی کمی یا فراوانی ان حقوق کے مؤثر اطلاق کو متاثر کرتی ہے۔ بعض ریاستوں میں خصوصی عدالتیں، طویل حراست، وکیل تک محدود رسائی یا عدالتی امور میں مداخلت منصفانہ سماعت کے حق کو کمزور کر دیتی ہے!!
اگرچہ حقِ منصفانہ سماعت مکمل طور پر مطلق نہیں، تاہم اس کے بنیادی عناصر ناقابلِ تنسیخ ہیں۔ ہنگامی حالات یا قومی سلامتی کے نام پر بھی ایسے بنیادی حقوق,جیسے آزاد عدالت تک رسائی، بے گناہی کا اصول اور دفاع کا موقع ختم نہیں کیے جا سکتے۔ بین الاقوامی عدالتوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ان بنیادی ضمانتوں کی خلاف ورزی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے!!
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقِ منصفانہ سماعت اور حقِ دفاع کو قانونی طور پر دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہیں، تاہم ان پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد آج بھی عالمی سطح پر ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے!!
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل افریدی 5 جنوری کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وکلاء سے
“پاکستان کی بقا جمہوریت میں ہے” کے عنوان سے خطاب کریں گے۔
وکلا میدان میں!
سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ محمود اچکزئی کو مذاکرات کرنے کی اتھارٹی کس نے دی ہے؟ کیا اسپیکر کا اس معاملے میں کوئی کردار ہے؟ اسپیکر کی اصل حیثیت کیا ہے؟ کیا پارلیمنٹیرینز کو بلا جواز شامل کیا جا رہا ہے؟ مذاکرات کے نام پر کیا دوبارہ میثاقِ جمہوریت کو نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ میثاقِ جمہوریت کو ماضی میں ہی روند دیا گیا تھا اور اب بھی وہی عمل دہرایا جائے گا۔ آئندہ کے لیے واضح کر دیا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کی پامالی میں پاکستان دنیا میں سب سے آگے ہو گا۔ ملک کو کس مقام تک پہنچا دیا گیا ہے، یہ تشویشناک ہے۔
@365dotNews
مکمل پروگرام لنک:
https://t.co/1S9hkcAwdY