Political anylist, Human Rights activist, Reformist and Public Speaker. I believe every human being deserves liberty and equal opportunities to excel & deliver.
@Mamoon_R@UNHumanRights@MaryamNSharif History rarely remembers how loudly a society defended its traditions; it remembers how faithfully it defended human dignity.
The real question is not why she was killed. The real question is why some people believe they own another human being’s life, choices and destiny. Honor is not lost when someone chooses differently; honor is lost when love is replaced by possession and respect by violence.
Federal PSDP vs Provincial ADPs
2021:
Federal & Provincial development budget was almost equal (1:1).
Federal PSDP: 650 b
Provincial ADP: 674 b
2026:
In five years, provinces have tripled the development funds compared to Federal with 3:1 ratio.
Federal PSDP: 1000 b
Provincial ADP: 2869 b
The gap is increasing yearly.
Source: Planning Division
@PlanComPakistan@Pakistan
Max Weber warned that bureaucracy is essential for a modern state because it creates order, continuity and merit. But he also warned of the “Iron Cage” a system so rule-bound that humans become trapped inside procedures. Pakistan often suffers from this paradox. Files move, meetings happen, summaries are written, yet real problems remain untouched.
@insaanshareef25 In fact Terrorism does not merely destroy buildings; it erodes the moral foundations of society until fear becomes more common than hope.
اقرار الحسن، 25 سال کی قربانی دینے والی شازیہ مری کو 'غلاموں سے بدتر' کہنے والے آپ خود کس حیثیت میں ہیں؟
آپ کی 'عوام راج' تو بس ایک شخص کی ریٹنگز اور اینٹی PPP/بلاول بھٹو مہم لگتی ہے۔ جہاں پارٹی کا 'مالک' آپ خود بن بیٹھے ہوں، کیمرہ آن کر کے ڈرامہ کرتے ہوں۔
فرعونیت کی لیکچر دینے سے پہلے اپنے رویے کا آئینہ دیکھ لیں۔
بھائی @Sherazi_Silmian، ایک طرف منتخب ایم این اے اسمبلی کے فلور پر ڈپٹی کمشنر پر سنگین الزامات لگا رہے ہیں، دوسری طرف سول سرونٹس کے پاس کوئی آواز ہی نہیں ہے۔
وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے، کوئی فورم نہیں جہاں فوری جواب دے سکیں، اور نہ ہی میڈیا میں آزادانہ بات کر سکتے ہیں۔ جس نے چاہا، جب چاہا، جتنا مرضی الزام لگا کر چلا جاتا ہے۔
ایک طرفہ الزامات لگانا آسان ہے، مگر سچائی جاننے کے لیے شفاف انکوائری ضروری ہے۔ سول سرونٹس کو بھی کم از کم اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ بغیر ثبوت کے کسی کی عزت کو نشانہ بنانا بھی انصاف نہیں۔
لوگ صاف سڑکیں، بغیر کسی قبضے، بہتر ٹریفک نظام، کھلے نالے اور گندگی سے پاک ماحول تو ضرور چاہتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی اتھارٹی ان مسائل کے خلاف ایکشن لیتی ہے، فوراً پروپیگنڈا اور احتجاج شروع ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ جہاں کچھ لوگ (خاص طور پر غریب ریڑھی والے یا چھوٹے دکاندار) متاثر ہوتے ہیں، وہاں پورے شہر کے لاکھوں لوگ روزانہ ٹریفک جام، سیلاب، گندگی اور بیماریوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
غریبوں کا مسئلہ حل کرنے کے نام پر کچھ نہیں کیا جاتا، بس جب ایکشن ہوتا ہے تو “ظلم ہو گیا” کا شور مچا دیا جاتا ہے۔ اصل میں ظلم تو وہ ہے جو پورے شہر کو ناقابلِ رہائش بنا دیتا ہے۔
Rule of law اور منصفانہ پلاننگ دونوں ضروری ہیں۔ ایکشن کے ساتھ ساتھ متاثرہ لوگوں کے لیے متبادل بھی فراہم کیا جائے تو بہتر ہے، مگر ایکشن بالکل بند نہیں ہونا چاہیے۔
بھائی @AsadAToor، اسلام آباد پاکستان کا سب سے محفوظ شہر ہے جہاں کرائم ریٹ سب سے کم ہے۔ 2025 میں مجموعی جرائم میں 37 فیصد اور سنگین جرائم میں 69 فیصد کمی آئی ہے۔ Numbeo کے مطابق اسلام آباد کا Crime Index صرف 30.7 ہے جبکہ Safety Index 69.3 ہے — جو لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں سے بہتر ہے۔
ایک واقعے پر تشویش جائز ہے، مگر آپ ہر خبر کو لے کر پورے سسٹم اور قیادت کو نااہل قرار دینے کی عادت کیوں بنا چکے ہیں؟ آپ روزانہ منفی پوسٹس اور ایک طرفہ تنقید سے مایوسی پھیلاتے رہتے ہیں، جو خود ایک قسم کا منفی پروپیگنڈا ہے۔
مسائل ضرور ہیں اور ان پر تنقید بھی ہونی چاہیے، لیکن حقیقت سے نظر نہیں موڑنی چاہیے کہ اسلام آباد اب بھی ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور قابلِ رہائش ہے۔
متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی رکھیں، مگر متوازن اور حل پر مبنی تنقید کریں۔ صرف الزام تراشی سے شہر بہتر نہیں ہوتا۔
اس ملعون پر اللہ کی لعنت ہو جو 12 سال کی معصوم بچیوں کا جنسی استحصال کرتا رہا۔
ایسے درندوں کو صرف عمر قید نہیں، سزائے موت ملنی چاہیے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بچوں کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والا سب سے بڑا مجرم ہے۔
لوگوں کی مایوسی اور غصہ کم کرنے کے لیے:
•ایسے کیسز میں تیز، شفاف اور سخت ترین سزا دی جائے
•بچوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین اور نگرانی بڑھائی جائے
•مذہبی پیشواؤں کی بھرپور اسکریننگ اور تربیت لازمی ہو
جب تک ایسے شیطانوں کو فوری اور مثال بنانے والی سزا نہیں ملے گی، عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔
اللہ معصوم بچیوں کی حفاظت فرمائے اور ایسے درندوں کو جہنم رسید کرے۔ آمین۔
دنیا نے آبادی کنٹرول کرنے کے کئی سخت طریقے آزمائے۔ چین کی One Child Policy نے وقتی طور پر شرحِ پیدائش کم تو کردی، مگر چند دہائیوں بعد چین بوڑھی آبادی، افرادی قوت کی کمی، تنہائی کے شکار نوجوانوں اور گرتی معیشت جیسے مسائل میں پھنس گیا۔ آج خود چین لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ سنگاپور نے بھی سخت مہمات چلائیں، مگر وہاں بھی شرحِ پیدائش اتنی گرگئی کہ اب حکومت مالی مراعات دے کر لوگوں کو بچے پیدا کرنے پر آمادہ کررہی ہے۔
اس کے برعکس بنگلہ دیش نے کوئی سخت یا جبری ماڈل نہیں اپنایا۔ وہاں خواتین کی تعلیم، ہیلتھ ورکرز، مائیکروفنانس اور خواتین کے روزگار پر توجہ دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آبادی کی شرحِ نمو قدرتی انداز میں کم ہوئی، غربت میں کمی آئی اور معاشی ترقی بہتر ہوئی۔
دنیا کا تجربہ واضح ہے: آبادی بندوق، جرمانوں یا پابندیوں سے کنٹرول نہیں ہوتی۔ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب عورت پڑھی لکھی، خودمختار اور معاشی طور پر مضبوط ہو
:::
The most dangerous people are not always the hateful ones.
Sometimes they are the ones who stop thinking.
And the most powerful thing a human being can do is to think independently.
As Hannah Arendt wrote while explaining the “banality of evil”, evil often begins when people surrender their minds to crowds, slogans and blind obedience.
Think about TLP . Think about PTI
کل بنوں میں حملے کے بعد ایک بار پھر احساس ہوا کہ ریاست صرف بندوق، وردی یا عدالت کا نام نہیں ہوتی۔
رات کے اندھیرے میں جب فائرنگ ختم ہو جاتی ہے، تب اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
کون زخمیوں کو ہسپتال پہنچاتا ہے؟
کون سڑکیں کھلواتا ہے؟
کون خوفزدہ لوگوں کو گھروں تک واپس لاتا ہے؟
کون بازار، سکول، ٹرانسپورٹ اور موبائل نیٹ ورک دوبارہ بحال کرواتا ہے؟
کون پولیس، ہسپتال، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کو ایک میز پر بٹھا کر فیصلے کرواتا ہے؟
اسی لئے سول سروس ریاست کا خاموش نظامِ اعصاب ہے۔
فوج جنگ لڑتی ہے۔
پولیس دہشت گردی کا مقابلہ کرتی ہے۔
عدالت انصاف دیتی ہے۔
لیکن عام آدمی کی زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کا کام اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جن کا نام خبروں میں بھی نہیں آتا۔
ایک اے سی، ایک ڈی سی، ایک کلرک، ایک ریسکیو ورکر، ایک سینیٹری ورکر۔
ریاست صرف وہاں نہیں ہوتی جہاں گولیاں چل رہی ہوں۔
ریاست وہاں بھی ہوتی ہے جہاں خوف کے بعد زندگی کو دوبارہ کھڑا کیا جا رہا ہوتا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک سکیورٹی کامیابی نہیں، بلکہ ایک تہذیبی سچائی کا اعلان ہے۔
جو ذہن خوف، بلیک میلنگ اور نفسیاتی جبر کے ذریعے ایک بیٹی کو موت کے راستے پر دھکیل دیں، وہ کسی نظریے، قومیت یا مزاحمت کے علمبردار نہیں بلکہ انسانیت کے بدترین مجرم ہیں۔
ایسے میں ریاست کی بروقت مداخلت صرف ایک جان نہیں بچاتی، بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ ادارے ہر وقت بیدار ہیں، اور معاشرہ ابھی مکمل طور پر وحشت کے حوالے نہیں ہوا… نہ کبھی ہونے دیا جائے گا۔
اصل طاقت بارود باندھ دینے میں نہیں، کسی کو بارود بننے سے بچا لینے میں ہوتی ہے۔
Salute to all Law Enforcement Agencies and Intelligence Institutions who remain steadfast in protecting every citizen and safeguarding Pakistan against forces of chaos and terror.
آج بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس سن کر دل ہل گیا۔ ایک لڑکی کو اس کے اپنے کزن نے دہشتگرد تنظیم کے جال میں پھنسایا۔ اس کی ویڈیوز بنائی گئیں، اسے بلیک میل کیا گیا، اور پھر اسے دہشتگردوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اسے کہا گیا کہ اگر اپنے باپ اور بہن بھائیوں کی جان بچانی ہے تو خود کو قربان کرنا ہوگا۔ اسے ذہنی اذیت، خوف اور دباؤ میں اس حد تک لے جایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے پر آمادہ ہوگئی۔
لیکن یہاں ریاست جاگ رہی تھی۔ انٹیلی جنس اداروں نے بروقت کارروائی کرکے اسے گرفتار کیا، ایک بڑی تباہی روک دی، اور ایک بیٹی کو موت کے راستے سے واپس لے آئے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ریاست کن درندوں سے لڑ رہی ہے۔ جو اپنی ہی بیٹیوں کو ڈھال بنائیں، انہیں بلیک میل کریں، انہیں بارود میں بدل دیں… کیا یہی بلوچیت ہے؟ کیا یہی غیرت ہے؟
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے خاندان کو دوبارہ اکٹھا کرنے اور انہیں ریاستی تحفظ و نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ بچی دوبارہ ان بھیڑیوں کے ہاتھ نہ چڑھے۔
یہ جنگ صرف بندوق کی نہیں۔ یہ انسانیت اور وحشت کے درمیان جنگ ہے۔