Today, Punjab farmers are seeing their paddy being spoilt & swept by rain water in mandis, this is 10 days after the Govt procurement of paddy commenced
No one bought my paddy crop for 8 days, pathetic maintenance in mandis led to waterlogging, my crop is ruined #Malaut
~Farmer
These led 100 more goons attacking protestors in CP yesterday . They were not detained, not stopped by Delhi police. They even attacked girls. With hundreds of police & other allied forces they unleashed violence. They claimed they came to protect the police !! Shame
@CPDelhi
بھارتی ایکٹر نانا پاٹیکر کی موت کا سن کر افسوس ہوا ہے۔ انہیں برسوں سے فلموں میں دیکھتے اور سراہتے آئے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا ان کی کوئی فلم مس کی ہو۔
میں نے ان کی پہلی فلم “پرہار”دیکھی تھی اور پھر کبھی کوئی فلم مس نہ کی۔ وہ ایک born actor تھے۔
شاید وہ پہلے اداکار تھے جنہوں نے اس متھ کو بریک کیا کہ فلمی ہیرو/مرکزی اداکار کو خوبصورت ہونا چاہیے۔ انہوں نے ثابت کیا اگر آپ کے اندر جان ہے تو ایوریج پرسنلٹی /چہرے کے ساتھ بھی بڑا ایکٹر بنا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اداکاری کے زور پر خود کو منوایا خوبصورتی سے نہیں۔
کبھی نہ لگا وہ ایکٹنگ کررہے ہیں بلکہ ہمیشہ لگا یہ حقیقی زندگی کا کوئی کردار ہمارے سامنے سکرین پر فر فر بول رہا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر اداکار یا عام لوگ شروع میں camera shy ہوتے ہیں لیکن نانا پاٹیکر کے کیس میں مجھے یوں لگتا ہے جب وہ بولنا شروع کرتے ہوں گے ��و شاید کیمرہ بھی ان کے سامنے گھبرا جاتا ہو ۔
ان کا فطری جارحانہ انداز ہمیشہ دلوں کو بھایا۔ وہ سکرین پر بھی سادہ /عام انسان لگتے تھے جو پوری دنیا سے ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے نکلا ہے اور شاید حقیقی زندگی میں بھی۔
ان کی بعض سین میں طنزیہ مسکراہٹ اور غصہ دلاتے قہقے الگ سے فلم کو چار رنگ لگاتے تھے۔
پرہار، پرندہ، کرانتی ویر، یشونت، غلام مصطفے، ویلکم جیسی فلموں میں ان کے کردار لازوال رہے۔ امیتابھ بچن کے بعد وہ فلموں میں ایک ایسے اینگری مین بن کر ابھرے جن کے منہ سے سکرین پر شعلے نکلتے محسوس ہوتے تھے۔ آپ کو انہیں سنتے ہوئے goosebumps محسوس ہوتے تھے۔ آپ کے اندر ایک انرجی سی بھر جاتی۔ ایک بڑا اداکار رخصت ہوا جس کی اداکاری نے سب کو متاثر کیا۔
May he rest in peace.
#nanapatekar
पंजाब के बेहतरीन वरिष्ठ पत्रकार रितेश लेखी की फोटो अखबार ने रोमी महाजन (जो सी बी आई की रेड और केस में अब वांछित है ), के रूप में छाप दी, जबकि रितेश लेखी ने ही एक महीने पहले cm मान के ओ सी डी की खबर को उजागर किया था। अब अखबार की क्या विश्वसनीयता मानी ज���ए।
आकाशवाणी भवन की रेलिंग पर दिल्ली पुलिस के अधिकारी मीडिया को दूर हटाने रहे है। पत्रकारों की आवाज़ें आ रही है कि उनको काम करने दिया जाए, लेकिन पुलिस उन्हें कुछ भी करने नहीं दे रही। बहस हो रही है।
@SukhpalKhaira@PargatSOfficial@AamAadmiParty@BhagwantMann कोठियों में कौन रहा इसके प्रमाण सार्वजनिक हो चुके, तथ्यों को नकारा नहीं जा सकता।
झूठ में भय होता है कोइ ताकत नहीं होती ,,,
राजनीति में प्रतिशोध क़भी सफल नहीं होता।
सच को छुपाने के लिये किसी ढाल की आड़ लेने वाले की गवाही वक्त दे देगा।