قادیانیوں کی پہچان کیلیے 15 نشانیاں یاد رکھیں دھوکہ نہ کھائیں
احباب سے بھر پور ریٹویٹ کی ضرورت ہے بہت اہم معلوماتی ویڈیو ہے تاکہ تمام مسلمان تک یہ پیغام پہنچ جائے۔
@Ulama_E_Duband
ریاست ماں کی طرح ھوتی ھے لیکن یہ کیسی ھے ماں جس کے تنخواہ دار بیٹے دوسرے بیٹوں کو ماں کے پیسوں پر کرایہ پر حاصل کرکے اپنے ھی ماں جائے پر سچ اور حق بولنے پر ایک جیسے الفاظ میں تبراء کرتے ھیں اور ماں کی آشیرباد سے کرتے ھیں
مولانا فضل الرحمن صاحب کے الفاظ میں اگر ماں ایسی ھوتی تو ایسی ماں پہ لعنت۔
#رہبر_امن_مولانا
#کالے_چینلز_بےنقاب
#بلوچستان_مانگے_امن
#ھارڈنہیں_معتدل_ریاست
#ہائبرڈ_مہنگائی_نامنظور
ایک ہی مولوی ہے، اس کے بغیر تم چل کر دکھاؤ!
ملک کی سیاست جس شخصیت کے گرد گھومتی ہے، وہ ہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب۔
— امیر مجلسِ احرار، نواسۂ امیرِ شریعت، سید کفیل شاہ بخاری صاحب
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پارلیمنٹ ہاوس میں جوائنٹ اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
24 اگست 2026
جیسا کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نے آج کے دن کو مبارک دن قرار دیا کہ ہم نے، حزبِ اختلاف کی بینچوں پر بیٹھنے والے تمام لوگوں نے، تمام پارٹیوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایک جوائنٹ اپوزیشن کا کردار ادا کیا جائے گا۔ مشترکہ حکمتِ عملی اور مشترکہ اقدامات باہمی مشاورت کے ساتھ سرانجام پائیں گے۔
اور کچھ چیزیں جو ہم سب کے مدنظر ہیں اور اس پر سب کا ایک اتفاقِ رائے ہے کہ ملک میں اس وقت امن و امان کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے۔ امن و امان کی اس صورتِ حال کو محض ایک معروضی حادثہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ دو صوبوں کی صورتِ حال تقریباً نصف صدی سے خون آلود ہے۔ اور ایک طرف ہماری سرزمین خون سے سرخ ہے اور دوسری طرف ہمارے حکمران بیرونِ ملک سرخ قالینوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
تو درونِ در چہ کردی کہ بیرونِ خانہ آئی
() تو نے گھر کے اندر کونسا تیر مارا کہ اب باہر آکر دندنا رہے ہو۔ پہلے اپنے گھر کا حال تو لے لو۔ اندر کی ساری کمزوریوں کو بیرونی اسفار اور لال قالینوں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔
امن و امان اگر خراب ہے تو ملکی معیشت بری طرح متاثر ہے۔ ہم ہندوستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کرتے ہیں، ہندوستان کے ساتھ ہم تقابل کی باتیں کرتے ہیں۔ آئیے ذرا دیکھیں تو صحیح کہ آج بھارت دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے اور چھے سے سات سو ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر کا مالک بنا ہے، اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟
عدلیہ کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ پوری دنیا میں ہماری رینکنگ کیا ہے؟ معیشت کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ امن و امان کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟
اور جب ملک اس طرح آگ کی لپیٹ میں ہے، بھوک کی لپیٹ میں ہے تو ہم ایسے وقت میں صوبوں کو توڑ رہے ہیں۔
ہمارا اس پر بھی اتفاقِ رائے ہے کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں ہے، نہ ماحول ہے، نہ اس کے لیے تیاری ہے۔ اس سے عدمِ اعتمادی بڑھے گی کہ ایک زمانے سے اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کے حلق کا کانٹا ہے، اسے ہر قیمت پر اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنا ہے اور صوبوں کے جو وسائل ہیں،معدنی ذخائر ہیں ان کو اپنی گرفت میں لینا ہے۔ اس کے لیے صوبوں کو کمزور کرنا، ان کو توڑنا، نئی یونٹ بنانا، اس حوالے سے ہم سب کا اتفاق ہے کہ یہ وقت اور اس طرح کے اقدامات ریاستی سطح پر، ملکی سطح پر پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔
کشمیر کی صورتِ حال ابتر ہے۔ پہلے ہی ہندوستان کشمیر کے حوالے سے ایسے اقدامات کر چکا ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی جو اسپیشل اسٹیٹس تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے۔
اور اب یہاں پر کشمیر میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں مصنوعی طور پر اکثریتیں قائم کرکے حکومتیں بنائی جا رہی ہیں، ایسی صورتِ حال میں جب وہاں کے عوام سڑکوں پر ہیں، راولا کوٹ میں تین مہینوں سے لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔ عوام کے مسائل کے حل کی بجائے احتجاج کرنے پر اور مطالبہ کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس قسم کے اقدامات، اور پھر ہمارے ملک میں سیاسی قیدی جیلوں میں ہیں۔ ان سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی وجوہات نہیں ہیں کہ ملک کی جیلیں جو ہیں، وہ سیاسی قیدیوں سے بھری پڑی ہوں۔ اس حوالے سے بھی ہمارا اتفاق ہے کہ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے اور ملک کا سیاسی ماحول صحیح کرنا چاہیے۔
دھاندلی کی بنیاد پر قائم کی گئی حکومت، وہ نہ ملک کے اندر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک سے باہر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک کے اندر مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے، نہ باہر دنیا میں پاکستان کے وقار اور مقام کو بلند کر سکتی ہے۔
تو ان نکات پر ہمارا اتفاق رہا ہے اور ان شاء اللہ آج پہلا قدم ہے، اور اس پہلے قدم سے ہم جس سفر کا آغاز کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ پاکستان کی بقا اور سالمیت اور ملک کے آئین کے تحفظ کا سبب اور ذریعہ بنے گا۔