اب تو سرکار کے ایوانوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ہاں، ہم اسی سال کی کمزوریوں کا نشانہ ہیں۔ بابا! کس کے ہاتھوں؟ تیرے ہی ہاتھوں!
جو لوگ کہتے ہیں کہ نظام فیل ہو چکا ہے، اور کسی ایک خاص زمانی کی بات نہیں کر رہا، میں تو اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہا ہوں، تو ہم بھی آپ سے اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ اسی سال کی تباہی تمہاری وجہ سے ہے، کسی اور کی وجہ سے نہیں۔
قتل حسین بھی اور ہائے حسین بھی، یہ نہیں چلے گا۔ ملک کو تباہ کرنے کی تم نے ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، اب چھپتے کس چیز کے پیچھے ہو؟
نظام تبدیل کرو۔ نظام کون سا؟ جو اسی سال آپ کے قبضے میں رہا، اب مزید کوئی نیا طریقہ اپنے قبضے میں رکھنے کا۔
تو میں نے کہا، ظالموں! انگریز کے زمانے کے پڑے ہوئے سبق اور وہی روّیے، کم از کم وہ تو تبدیل کر لو۔ اپنے مخالفین کے خلاف رویّوں میں کوئی تبدیلیاں تو لاؤ۔ اگر میری حکومت ہے تو میرے مخالف جیل میں ہونا چاہیے، اگر مخالف کی حکومت ہے تو مجھے جیل میں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی سیاست ہے؟ کسی دوسری دنیا میں بھی اس طرح ہوتا ہے؟ تو طریقے تو تبدیل کر لو۔ ذرا معلوم تو کر لو کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے۔
ہمارا امن و امان کہاں کھڑا ہے؟ ہمارے دو صوبے جل رہے ہیں۔ دیہاتوں میں عام آدمی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ وہ دکان پہ جا سکتا ہے، نہ بچوں کو سکول بھیج سکتا ہے، نہ کھیتوں میں جا سکتا ہے، نہ مزدوری کر سکتا ہے۔ دیہات خالی ہو گئے ہیں۔ کہیں تو زندگی گزارنی ہے۔
اور یہ کہتے ہیں، ہم بیس، پچیس سال سے آپریشن کر رہے ہیں۔ آپریشن پہ آپریشن، تو آپریشن پہ آپریشن! بھئی، کس چیز کا آپریشن؟ جتنا آپریشن کرتے ہو، مرض بڑھتا گیا۔ آپ کی حکمتِ عملی میں ڈیفالٹ کہیں، جھول ہے، کہیں کمزوری ہے۔
میری تنقید کو برا ماننے کی بجائے کہیں اپنی کمزوری بھی تو ٹٹولو۔ ایک دن ۔۔۔اپنے لیے صرف یہ کہ میرے اقتدار پر قبضہ کیسے رہے، بس! چاہے قوم برباد ہوتی رہے۔
ہم بھی مانتے ہیں ریاست اہم ہے، لیکن ریاست عوام سے بنتی ہے۔ عوام کے بغیر ریاست ایک خالی برتن ہے، خالی ڈول ہے۔ کیا حیثیت ہے اس کی؟
حکومت یہ لوگوں کے معاملات کا نظم و تدبیر، انتظام ہے۔ تو ریاست ہو، عوام ہو، حکومت ہو، ان تین چیزوں کے ساتھ ریاست مکمل ہو جاتی ہے۔
جہاں امن و امان نہیں ہے، وہاں معیشت کیا ہوگی؟
آج ہندوستان دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے، اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب کے لگ بھگ پہنچ گئے ہیں۔ اور ہمارے ہاں لوگوں سے خیرات مانگ کر کوئی دس گیارہ ارب جمع ہو گئے ہوں گے،۔
کہاں دس گیارہ، کہاں سات سو ارب ڈالر !
امیر جےیوآ��ی مولانا فضل الرحمٰن کا ضلع ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 05 ستمبر 2026
شہدائے باجوڑ کو سال مکمل ھوگیا ھے 100 سے زائد اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار جمعیت علماءاسلام کے کارکنوں نے ایک ھی دن میں للہ فی اللہ اپنی جانوں کو اس سرزمیں پاکستان سے محبت میں قربان کرکے تاریخ رقم کی تھی اور اپنی قربانی سے طاقتورں کو پیغام بھی دیا کہ پچاس سال سے ھمارے خطے میں کشت وخون کا بازار گرم ھے ھمیں بھی اپنی طرح پاکستانی سمجھ کر جینے کا حق دے دو ھمیں بھی خدا کے لیے امن کا حق دے دو۔ ھم بھی انسان اور پاکستانی ھیں ھم بھی 1973 کے آئین کےمحافظ ھیں پھر اس آئین کے میں مانے گئے ھمارے بنیادی حق سے ھم محروم کیوں ھیں، اور محروم ھی نہیں اس کو مانگنے کی پاداش ھمیں غدار کیوں کہا جاتا ھے ھمیں گالیاں کیوں دی جاتی ھیں؟
سوچئے اور پورا سوچئے
#سالار_امن_مولانا
#شہدائےجمعیت_باجوڑ
#پیغام_امن_جمعیت
#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
کشمیری عوام پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
طاقت کے نشے میں مدہوش قوتوں کی اپنی ہی نہتی عوام پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے ۔مولانا فضل الرحم��ن
آج کشمیر کاز کو دفن کیا جا رہا ہے۔حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔ مولانا فضل الرحمان
کیا عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں ؟ مولانا فضل الرحمان
ہم نے کوشش کی کہ معاملہ یہاں تک نہ پہنچے لیکن ریاستی اداروں نے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ مولانا فضل الرحمان
آج کشمیری عوام نے دھاندلی زدہ انتخابات مسترد کردیئے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
حقوق مانگنے والوں کو کب تک غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہے گا ۔مولانا فضل الرحمان
ریاست فوری طور پر ظلم بند کرے ،عوام کو جائز احتجاج کا حق دیا جائے ۔مولانا فضل الرحمان
اس ظلم وبربریت کے خلاف اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعاگوہیں اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان