JUI
کارکنوں کے بڑےبڑےاکاؤنٹ بنانا خواہش ہیں
بس
حسد چھوڑ دیں
دل کھول دیں
10,000فالورز بہت ہی کم مدت میں برابر ہوتےہیں
صرف وہ لوگ ریٹویٹ کریں جو لازمی فالوو،فالووبیک کرتے ہیں
یہ حکمران حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں،اگر ہم نے ایک آواز دی تو پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف امڈ آئے گا، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
ان حکمرانوں سے جب کہا جائے کہ تم ملک نہیں چلا سکتے، تم انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتےمیں نے آج ملکی معیشت پر بات کرنی تھی لیکن کیا وجہ ہے آج ہر پاکستانی امن و امان کی بات کررہا ہے، مولانا فضل الرحمان
آج پاکستان میں جمہوریت کدھر ہے؟ اور جب ہماری مقتدرہ کے ہاتھوں سے جمہوریت یرغمال ہوگئی ہے، جب ہماری مقتدرہ جمہوریت کی روح کو اپنے قبضے میں لیے ہوئی ہے اور اپنی مرضی سے جمہوریت کو سانس لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر کچھ لوگ ان کے ایجنٹ بن کر کہتے ہیں جمہوریت کفر ہے۔ تو جب جمہوریت مغرب میں ناکام ہے، کمیونزم مشرق میں ناکام ہے تو حل صرف ایک ہی ہے کہ اسلامی معشیت کو اپنائیں، اسلام کی شورائیت کو قبول کریں، اسلام کے تصورات کو قبول کریں، اسلام ایک متبادل نظام ہے جو انسان کے فلاح و بہبود اور حقوق کا محافظ نظام ہے۔
آج جب جمعیۃ علماء عوام میں مقبولیت رکھتی ہے تو کون ہے جو اسمبلی میں میرا راستہ روکتے ہیں، میں تو اسمبلی کا راستہ اپنا رہا ہوں، میں تو پارلیمان میں کردار ادا کر رہا ہوں، عوام میرے ساتھ ہیں۔ گلگت میں ہم نے دو سیٹیں جیتیں، پیپلز پارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ یہ جمعیۃ نے جیتی ہے ہم نے نہیں، اور پھر الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ پندرہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن ہوگا، ایک دن دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا اور دوسرے دن الیکشن کا نتیجہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا کہ یہ جیت گئے ہیں اور یہ ہار گئے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن انصاف کی الیکشن کر رہے ہیں؟ آپ نے بلوچستان کے ضمنی الیکشن میں ہمارے ساتھ کیا کیا ہے، آپ نے اس صوبے کے الیکشن میں میرے سامنے دھاندلیاں قبول کی ہے، یہ جتنی عوام بیٹھی ہے ان سب کا نمائندہ میں ہوں۔ یہاں پر بیٹھے عوام کی میں نمائندگی کر رہا ہوں اور آپ کو اس پر باخبر کر رہا ہوں کہ میرے سامنے انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ہم نے آپ سے کتنی سیٹیں چھینی ہیں۔ دھاندلیوں کے اعتراف کیں ہیں، جمعیۃ کے سیٹوں پر ہاتھ ڈالنے کے اعترافات کیں ہیں، یہ الیکشن میں جمہوریت کے معیار مان لوں، اسی الیکشن پر شہباز شریف حکومت کرے گا اور میں کہوں گا کہ یہ جائز حکومت ہے؟مجھے انہوں نے دعوت دی ہے کہ آؤ حکومت میں شامل ہو جاؤ، میں نے کہا اصل نتیجہ میرے ہاتھ پہ رکھا پھر بات کریں گے اور اگر اصل نتیجہ مجھے نہیں دوگے تو میں اسمبلی میں چند سیٹوں پر آپ کو آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
آپ کی تحریک ان شاءاللہ چلتی رہے گی، جاری رہے گی، بیٹھنا تو نہیں نا آپ لوگوں نے، سفر جاری رکھنا ہے۔ میں پشین گیا تھا وہاں تا حد نظر لوگوں نے بہت بڑا اجتماع کیا، اس کا اثر آپ کی صوبے پہ ہوا، آپ کے لوگ جاگ اٹھے، آج تا حد نظر یہاں انسانیت جمع ہے اور ان شاءاللہ گیارہ جولائی کو پنجاب کے شہر قصور میں اتنا ہی بڑا جلسہ ہوگا اور یہ سفر آگے بڑھتا جائے گا، یہ سلسلہ چلتا رہے گا، جب تک ہماری جان میں جان ہے ان شاءاللہ یہ جنگ جاری رہے گی اور آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکیں گے، میں تو واضح اعلان کرتا ہوں کہ فضل الرحمٰن پر ہاتھ ڈالا گیا میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کروں گا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اپنے کارکن کے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اس کے بعد پھر جو ہوگا اس کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہوگی ہمارے اوپر نہیں ہوگی۔
ہم اپنے صفیں صاف رکھنا چاہتے ہیں، ہم ایک صاف اور شفاف تحریک لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، ہم پاکستان کو بچا رہے ہیں، ہم نے یہاں فتنوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے فتنوں کو شکست دی ہے۔ ہم لوگ ان حالات کے مقابلہ کر رہے ہیں، اپنی جانوں پر کھیل کر مقابلہ کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ پر امن طریقے سے یہ تحریک آگے بڑھے گی، پر امن طریقے سے ہم ان شاءاللہ کامیابیاں حاصل کریں گے، یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے وفادار ہیں اور اس سرزمین پر وہ نظام لائیں گے جس میں ہمارے ہر شہری کو اس کے حقوق مل سکے، جس میں ہمارے بچوں کو آسان تعلیم مل سکے، آسان علاج مل سکے، آسان زندگی مل سکے اور اسی کے لیے آگے بڑھنا ہے۔ ہم جلسوں میں لاوڈ سپیکر اڑانے والے لوگ نہیں ہیں، چھ مہینے میں ٹھیک کر دوں گا، بابا آج تک ٹھیک نہیں ہوا، آپ خود خراب ہو گئے، ٹھیک تم نے کیا کرنا ہے، ملک کو ٹھیک کرتے کرتے خود خراب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرم فرمائے اور یہ جذبہ، یہ ہمت، یہ اخلاق یہ للہیت، یہ اللہ اور اس میں اضافہ کرے اور ان شاءاللہ ہم آگے بڑھتے رہیں گے، اگلا پڑاؤ پنجاب میں ہوگا اور پورے طاقت کے ساتھ پورا پنجاب وہاں اُمڈے گا اور بھرپور طریقے سے اس تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا، ہم پاکستان میں ناجائز حکمرانی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
آج سے اس پیغام کو عام کردوں
جمعیت ایک نظریہ ہے
اپنا لیجیٸے
جمعیت ایک دعوت ہے
پھیلا دیجیٸے
جمعیت ایک حقیقت ہے
تسلیم کیجیٸے
جمعیت ایک شناخت ہے
قبول کیجیٸے
جمعیت ایک صداقت ہے
یقین کیجیٸے
جمعیت ایک ضابطہ ہے
عمل کیجیٸے
جمعیت ایک تحریک ہے
ساتھ دیجیٸے
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
زرد پگڑی جب اہلِ قیادت کے سر پر سجے تو وہ صرف لباس کا حصہ نہیں رہتی بلکہ وقار، بصیرت اور خدمتِ خلق کی پہچان بن جاتی ہے۔
مولانا عطاء الرحمٰن صاحب آج اسی شانِ قیادت کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ