اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہیں:
" نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں پر( یعنی فجر اور مغرب) اور کچھ رات گزرنے پر (یعنی عشاء ) "
اسی طرح سورہ ق کی آیت نمبر 39 میں ارشاد ربانی ہے:
"اور پاکیزگی بیان کرو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے"
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر ضرور شور مچائیں
خالد خورشید کا اہم پیغام 🚨
گلگت بلتستان کے کئی حلقوں میں پی ٹی آئی امیدوار برتری پر ہیں، پولنگ ختم ہوتے ہی مخصوص پولنگ اسٹیشنز ہائی جیک کرنے اور پوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
ہم انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کریں گے نہ ہونے دیں گے۔
گلگت بلتستان میں جو عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی بوکھلاہٹ دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے تو یہ ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جیل میں بیٹھے قیدی نے پورے نظام کو مات دے دی ہے۔
عوام کا جو پیار نظر آرہا ہے عمران خان کے لیے اس کے بعد تو ایک ہی مخلص تجویز دی جاسکتی ہے: اڈیالہ جا کر معافی مانگ لیں!
#گلگت_بلتستان_کپتان_کا
#خان_کے_سائے_سے_بھی_خوف
پٹرول کس دور میں سستا تھا؟
⬅️سال 2016 - نواز شریف:
پٹرول - 40 ڈالر فی بیرل
ڈالر ریٹ - 98 روپے
حکومت 27 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 65 روپے میں بیچ رہی تھی - ڈھائ گنا ٹیکس
⬅️سال 2022 - عمران خان
پٹرول - 115 ڈالر
ڈالر ریٹ - 180 روپے
حکومت 150 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 150 روپے میں دے رہا تھا - زیرو ٹیکس
⬅️سال 2026 - شہباز شریف
پٹرول - 95 ڈالر
ڈالر ریٹ - 280 روپے
حکومت 170 روپے کا پٹرول خرید کر 400 روپے میں فروخت کر رہی ہے، ڈھائ گنا ٹیکس
یعنی جب دو شریف بھائ حکومت میں ہوں تو عوام کو ڈھائ گنا ٹیکس لگا کر پٹرول بیچتے ہیں، اگر عمران خان کی حکومت ہو تو وہ بغیر ٹیکس کے پٹرول عوام کو دیتا تھا
یہ موازنہ اصل حقیقت ہے، آئندہ کوئ پٹواری 2016 کی مثال مت دے،
جب بھی پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو پٹرول کی ڈالر میں قیمت اور ڈالر ریٹ کو مدنظر رکھ کر کریں،تب آپ کو اصل حقیقت کا پتہ چلے گا
اعداد و شمار - بشکریہ ناصر عباس کی وال سے
بیرسٹر حسان نیازی کو عید کے تیسرے دن اپنی والدہ سے ملاقات سے محروم رکھنا ریاستی بے حسی ،کم ظرفی ،اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ چھوٹے لوگ جب اقتدار کے مالک بن جائیں تو ریاستی جبر شتر بے مہار ہو جاتا ہے۔آئین قانون غیر منتخب قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔ میری طویل عمر کا نچوڑ یہی کہ جب اقتدار ظلم اور استبداد کے قبضے میں ہو تو وہ ایسے لوگ ظلم کی مقدار بڑھا کر لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہر اقتدار کا انجام عبرتناک ہوا ہے،ہمیشہ جبر کرنے والوں کا سخت محاسبہ ناگزیررہتا ہے۔
ریاستی جبر کے شکنجہ میں جکڑا اایک قیدی، جو ریاستی جبر کا نشانہ بنا ہوا ہے، اپنی ماں سے ملنے کی امید لیے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ گیا۔ دوسری طرف اس کی والدہ شدید گرمی، چلچلاتی دھوپ اور طویل سفر کی صعوبت برداشت کر کے کوٹ لکھپت جیل پہنچیں تاکہ عید کے دن اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھ سکیں۔ مگر طاقت کے نشے میں مبتلا چھوٹے لوگوں نے نہ ماں کو اندر جانے دیا اور نہ بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ جیل اہلکار قیدی کی طرح بے بس اور انکے افسران مہرہ ناچیز تھے، سب طاقتور حلقوں کے احکامات کے پابند تھے،جو آئین قانون سے بالاتر ،ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک بنےبیٹھے ہیں۔ بندر کے ہاتھ استرا آ جائے تو اذیت رسانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ہمیشہ سے مشاہدہ رہا ہے کہ غیر آئینی قوتیں ریاست پر قابض ضرورہو جاتی ہیں مگر اندر سے خوفزدہ، عدم تحفظ کا شکار اور اخلاقی طور پر کھوکھلی ہو جاتیں ہیں۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا وطیرہ بن جاتا ہے۔ آئین روندنا، قانون توڑنا،انسانی قدروں کو پامال کرنا اُنکا معمول رہتاہے۔
سیاق و سباق میں واقعہ بتانا ضروری ہے، 27مئی بروز بدھ عید الاضحیٰ کا اعلان ہو چکا تھا۔ حسب روایت مجھےبچوں کے ساتھ عید منانے میانوالی جانا تھا۔ 26 تاریخ کو روانہ ہونا تھا، اس لیے میں نےاپنے بیٹے حسان نیازی سے 25مئی کوملاقات کی درخواست کی جو کہ قبول کر لی گئی۔ جیل حکام نے پچیس تاریخ کو میری اور میرے بچوں کی ملاقات کا مجھے بتایا تو ساتھ یہ بھی بتایا کہ عید کے دن حسان نیازی کی ملاقات نہیں ہو گی۔
میں نے ان پر واضح کیا کہ حسان نیازی کی والدہ دور دراز سے صرف ملاقات کے لیے آئیں گی، ایسی صورت میں میری ملاقات منسوخ کرنی پڑے توکر دیں مگر عید کے دن ماں اور بیٹے کی ملاقات ضرور کروا دی جائے۔ اس پر مجھے یقین دہانی کروائی گئی کہ عید کے موقع پر والدہ کی ملاقات بھی ہو جائے گی۔
آج وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا کہ جھوٹ بولنا ریاستی عادت ہے۔حسان نیازی کی والدہ شدید گرمی میں جیل کے اندر تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب حسان نیازی بھی اپنے دیگر ساتھی قیدیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ چکے تھے۔ مگر عین آخری لمحے نہ ماں کو اندر جانے دیا گیا اور نہ ہی بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ عید کے دن ایک ماں کو اپنے اکلوتے بیٹے سے محروم رکھنا sadistذہنیت ہی نہیں، اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے۔
حالانکہ یہ حق نہ صرف جیل مینوئل میں موجود ہے بلکہ ایک بنیادی انسانی تقاضا بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ملک میں طاقتور لوگوں کے اشاروں پر راتوں رات جیلوں کے دروازوں کے قفل کھل جاتے ہیں، قوانین معطل ہو جاتے ہیں اور ضابطے روند دیے جاتے ہیں۔ مگر ماں کو عید کے دن ملاقات کی اجازت نہ دینا ریاستی طاقت کے لئیے ہو گیا۔
مجھے بخوبی علم ہے کہ جیل انتظامیہ محض مہرہ ناچیز ، جیل حکام تو نچلے درجہ کی مخلوق ، پعرا ریاستی نظام طاقتوروں کے اشارہ ابرو پر تگنی کاناچ ہے۔ اصل اختیار غیر منتخب طاقتوں کے پاس جو آئین اور قانون سےبالاتر ، ریاستی مظام کو دبوچ رکھا ہے۔ اپنی اس طویل زندگی میں میں نے کئی طاقتور حکمرانوں کو ہمیشہ منہ کے بل اوندھے گرتے دیکھا ہے، اقتدار کے زعم میں مبتلا، تاریخ کے کوڑے دان میں جاتے بھی دیکھاہے۔ پاکستان میں اج تک کوئی اقتدار ایسا نہیں آیا جس کی expiry date نہ ہو۔ آج کے حکمرانوں کو بھی اپنے انجام کا انتظار کرنا ہو گا۔
میں بذات خود اسی کوٹ لکھپت جیل میں مختلف اوقات، حتیٰ کہ چھٹیوں اور راتوں کو بھی کئی ملاقاتیں کر چکا ہوں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب جاوید ہاشمی کو 22سال قید مشقت کی سزا ہوئی تھی تواسی جیل میں ہم چند دوست تقریباً روزانہ اُن سے ملاقات کرنے پہنچ جاتےتھے ۔ اگرچہ مارشلاء کا زمانہ تھا پھر بھی گھنٹوں بیٹھتے، بلاناغہ جاوید ہاشمی کے ساتھ کھانا کھاتےتھے۔اس کے علاوہ بھی کئی مرتبہ تعطیلات اور ممنوع اوقات میں میں نے خود ملاقاتیں کی ہوئی ہیں
مگر آج ایک ماں کو اپنے بیٹے سے صرف اس لیے محروم رکھا گیا کیونکہ ریاست خوفزدہ ہے۔ یہی اس پورے واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے آپ کو طاقتور سمجھتی ہے، درحقیقت اندر سے کمزور، بزدل اور شدید عدم تحفظ کا شکار
الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے حجِ بیت اللہ کی سعادت سے نوازا۔
بہت سے لوگوں نے قیاس و گمان کیا کہ یہ سفر کس نے کروایا اور کیسے ہوا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا خالصانہ ذاتی فیصلہ تھا۔
میں نے اپنے دل میں ایک روحانی منزل پائی تھی جہاں حج فرض ادا کرنا ضروری ہوگیا۔
اس مقدس سفر نے میری روح میں ایک ایسی الٰہی چنگاری روشن کردی ہے جو ہمیشہ جلتی رہے گی۔
دعا ہے کہ میرے جیسے بہت سے بھائی اور بہنیں بھی اس روحانی سفر کا حوصلہ کریں، حج کی سعادت حاصل کریں اور اسی لُطفِ الٰہی سے سرشار ہوں۔
Long after Imran Khan said there is proof of #US meddling in #Pakistan's affairs, the cables documenting this interference are now out for public records. https://t.co/fKF7KIyQ0R
ایک بار پھر ثابت ہوا کہ امریکہ عمران حکومت سے خوش نہیں تھا،ایک بار پھر ثابت ہوا کہ امریکہ عمران خان کے دورہ روس سے خوش نہیں تھا،ایک بار پھر ثابت ہوا کہ ڈونلڈ لو نے کہا تھا کہ “اگر عمران خان کےخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو امریکہ سب کچھ معاف کردے گا ورنہ۔۔۔ایک بار پھر ثابت ہوا کہ امریکہ نے کھلم کھلا سنگین مداخلت کی اور ایک بار پھر ثابت ہوا کہ سائفر ایک حقیقت ہے۔۔
اللہ الحق ہے! اس وقت کے حکمران اور اس وقت ان سب کو چلانے والے جنرل باجوہ اور بابر افتخار جھوٹے ثابت ہوئے۔
عمران خان ایک بار پھر سرخرو۔
#سائفر_ایک_حقیقت#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا
#سائفر_ایک_حقیقت ثابت ہونے کے بعد جنرل باجوہ، پوری پی ڈی ایم اور اس وقت کے جج بندیال پر آرٹیکل ۶ کی کاروائی ہونی چاہیے۔
وقت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ:
۱) عمران خان سچا، اور جنرل باجوہ اور بابر افتخار جھوٹے تھے
۲) قاسم سوری کی رولنگ ٹھیک تھی، اور بندیال کا فیصلہ غلط یا کامپرومائسڈ تھا
۳) پاکستان کی عوام اور پاکستان کا سوشل میڈیا سچا تھا اور سارا مینسٹریم میڈیا اور عسکری ٹاؤٹس جھوٹے تھے۔
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
The Biden administration of the US was behind the undemocratic removal of Imran Khan as the Prime Minister of Pakistan: The original cable I-0678 released by Drop Site.