شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔
یار کتنا بےشرم ہے یہ انڈین مسلمان
کتنے بڑے بڑے اور برے برے الزامات لگا ریا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم فوج پر۔۔۔
سیکھا نرک میں جائے گا مرنے کے بعد۔۔۔!!!
لاہور پولیس کا نیا کارنامہ! ملزم نہ ملا تو اس کی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کو گرفتار کر لیا اور ان بے گناہوں پر 2 دن شدید تشدد کیا
کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ جب ایک میڈیا ٹیم نے پولیس کا پیچھا کیا تو مظلوم ماں اور بچوں کو ایک میرج ہال میں چھپا دیا۔
سوال یہ ہے کہ موٹر سائیکل چوری کا کیس اتنا سنگین کیسے ہو گیا کہ ملزم کے چھوٹے بچوں کو اُٹھا کر مارا جائے؟
اب SOPs کہاں ہیں؟ کیا پولیس کا یہ رویہ قانون کے مورال کو خراب نہیں کریگا؟
مبصرین حیران ہیں کہ لوگ ایسی بے شرم پولیس میں اپنے بچے کیوں بھرتی کرتے ہیں اور جو بھرتی ہو جاتے ہیں، وہ یوں بے شرموں کی طرح ظلم کیوں کرتے ہیں؟ اور جب ظلم کر کے تنخواہ لیتے ہیں تو ایسے بے شرم ظالموں کے ماں باپ اور بیوی بچے اس ظلم کی کمائی کی روٹی کیسے کھا لیتے ہیں؟
اس انٹرویو میں امریکی عہدیدار پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پو��ا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب انکی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
لاہور پولیس کا نیا کارنامہ ملزم نہ ملا تو اس کی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کو گرفتار کر لیا اور ان بے گناہوں پر 2 دن شدید تشدد کیا گیا ۔یہ ہے مریم نواز کی مثالی پولیس
بریکنگ نیوز😡😡😡
نواز شریف کے ایک قریبی بزنس مین دوست خالد ریاض طویل عرصے سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو "بغیر کسی وجہ کے ماہانہ 3 ملین روپے" دے رہے ہیں
احمد نورانی
��اکستان اور 24 کروڑ پاکستانیوں کی اتنی تھوڑی قیمت۔۔۔!!!
خدا کی قسم آپ پوری دُنیا گھوم کر آجاؤ ایسا ر��یہ سرکاری اہلکاروں کا پاکستان میں ہی ملے گا
سیالکوٹ میں ٹریفک وارڈن شہری کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے
میرا کام تھا آپ تک یہ ویڈیو پہنچاؤں اب آپکا کام ہے اسے ہر جگہ پھیلانا
🚨🚨یہودیوں کا چینل پاکستان میںُ یہودیوں کے کمپنی ایجنٹ کی مرضی سے غزہ کے قاتل یہودی کو دیکھا کر ڈالڑ کما رہا ہے ۔🖐️🖐️
جبکہ قوم کے لیڈر عمران خان کو یہودیوں کی مرضی اور یہودیوں کے مسلط شدہ ایجنٹوں نے مطلب کمپنی نے پاکستان میں میڈیا پر بین کر رکھا ہے ۔
یہی یہودی کے ��نافق ایجنٹ مرتے ہوئے کہتے ہیں سورت یس پڑھو تاکہ جان آسانی سے نکلُ سکے ۔جن کوُ پھر چھپا کر دفنایا جاتا ہے تاکہ عوام قبر پر نہ چھتر مارنے پہنچ جائے ۔
یہ کن حرامزادے پٹواریوں کو وردی پہنا دی ہے ، یہ حرامزادہ وردی پہن کر اپنے ہی پاکستانیوں کو چیلنج کررہا ہے
پھر کہتے ہیں اداروں اور عوام کے درمیان نفرت کیوں بڑھ رہی ہے
پاکستان کی سیاست میں بیان بازی اور عدالتوں کے چکر ایک بار پھر گرم گرم گفتگو کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ جن کیسز کو بنیاد بنا کر مخالفین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، وہی اب الٹا رخ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں ان تمام حالات کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ 💭
ڈالری جنگ کی بات سہیل آفریدی سے پہلے خواجہ آصف نے کی تھی ۔۔
فوج نے ڈالروں کے عوض روس کے خلاف جنگ لڑی امریکہ نے پیسے آفر کیے تو ہم نے کہا کہ یہ تو peanuts🥜ہیں پھر انہوں نے ہماری زیادہ بولی لگائی تو ہم روس کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے ! وزیر دفاع خواجہ آصف ۔
جاوید ہاشمی نے مقبوضہ کشمیر کے سید علی گیلانی کی یاد تازہ کر دی
ہندو فوج سید علی گیلانی کو یونہی بند کرتی تھی
جیسے آج پاکستانی فورس نے جاوید ہاشمی کو بند کیا ۔🤬🖐🏼
پھر سے نو مئی
ایک رشتہ دار کے پاس 8 ایم ایم تھی۔ انہیں اسکی نمائش اور ��لانے کا بہت شوق تھا۔ شادی کی تقاریب اس نمائش کا بہترین موقع۔ ایک بار ایک بارات منزل مقصود پر پہنچی۔ عزیز کرولا چھیاسی کی فرنٹ سیٹ سے نکلے۔ اپنی بندوق کا رخ آسمان کی طرف کیا اور ایک فائر کردیا ۔خدا کی کرنی باراتیوں کی بس کی چھت پر ہمیشہ کی طرح بینڈ والے ، بارات کے آگے ناچنے والے کھسرے اور انکے مینجرز بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ابھی اتر رہے تھے۔ گولی کسی طرح خطا ہوئی اور ایک میراثی کو جا لگی۔
وہ بیچارہ لہراتا ہوا زمین پر آرہا۔ اسے ہسپتال لیجایا گیا۔ شادی کا مزا سب کرکرا ہوگیا۔ شام کو اطلاع ملی کہ اسکی جان بچ گئی ہے۔ گولی ٹانگ میں لگی تھی اور بچت ہوگئی۔ جب وہ ڈسچارج ہوکر گھر آیا تو گاوں کے کچھ لوگ نواحی گاوں اسکی عیادت کو گئے۔ بندوق والے عزیز نے ایک سجری سوئی بھینس اسے دی۔ یوں معاملہ رفع دفع ہوگیا ۔ پولیس رپورٹ بھی داخل دفتر ہوگئی۔
کچھ چار چھ مہینے گزرے تو ایک دن وہ مضروب عزیز سے ملنے آیا۔ انہیں بتایا کہ میری ٹانگ میں پھر سے درد ہورہا ہے۔ لگتا ہے گولی کا اثر باقی ہے۔ بہت اذیت میں ہوں۔ عزیز نے پچاس روپے سکہ رائج الوقت اسے دیے۔ وہ چلا گیا۔ پھر کچھ وقت گزرا تو وہ ایک ��ن وہ دوبارہ ٹانگ دباتا ہوا نمودار ہوا۔ کہنے لگا کہ جب سے سردیاں شروع ہوئی ہیں درد پھر سے چین نہیں لینے دے رہا۔ دوائی لینے ہسپتال بھی جاتا ہوں۔ ڈاکٹر کہتا ہے پھر سے آپریشن ہوگا۔ عزیز نے پھر سے اسے پچاس روپے دیے اور وہ چلا گیا۔
بس پھر اب کیا تھا۔ اس نے گیج فکس کردی تھی۔ ادھر چھ مہینے گزرتے۔ ادھر وہ لنگڑاتا ہوا ٹپک پڑتا۔ اپنے درد کو روتا۔ پیسے ملنے میں دس منٹ زیادہ لگتے تو باتوں باتوں میں پولیس رپورٹ کا بھی ذکر کردیتا۔ اگر دس بیس تیس روپے دیے جاتے تو وہ ڈھیٹ ہوجاتا اور روتا رہتا۔ پچاس روپے ملتے تو چلا جاتا۔
عزیز نے کچھ عرصہ یہ سب برداشت کیا۔ گاوں کے لوگ بھی دبے لفظوں میں اس کا ٹھٹھا اڑانے لگے۔ برداشت جواب دے گئی۔ اب کی بار چھ ماہ گزرے ۔ عزیز انتظار میں تھا۔ جیسے ہی وہ پہنچا عزیز نے ایٹ ایم ایم نکال لی اور اسے کھول کر خاموشی سے صاف کرنے لگے۔ اس نے درد کا ذکر کیا عزیز نے بندوق جوڑنا شروع کردی ۔ وہ زرا سا جھجکا۔ تھوڑی دیر بعد پھر شروع ہوا تو انہوں نے میگزین میں گولیاں ڈالنا شروع کردیں۔ وہ پھر خاموش ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر اس نے ہمت پکڑی تو انہوں نے گولی چیمبر میں چڑھا لی۔
اس نے یہ صورتحال دیکھی تو بولا "میں فیر کدرے چکر لاواں گا " اور اٹھ کھڑا ہوا۔ عزیز نے بندوق سیدھی کرلی اور للکارتے ہوئے کہا " میں تیرے تازی گولی ماردا توں اوس دا پرچہ کروائیں " اب وہ باقاعدہ بھاگ کھڑا ہوا۔
اب منظریہ تھا کہ وہ بیچارہ گاوں کی گلی میں بھاگ رہا ہے۔ اسکے پیچھے میرا عزیز بندوق اٹھائے بھاگ رہا ہے۔ وہ چلا رہا ہے کہ میری جان بچاو۔ پیچھے عزیز زور زور سے آوازے لگا رہا ہے گاوں والو دیکھ لو اسکی ٹانگ کا درد بالکل ٹھیک ہوگیا ہے۔
جب جب فوج زیادہ اذیت کا شکار ہوتی ہے تو پھر سے نومئی کھول کر بیٹھ جاتی ہےاب انہیں پھر سے نو مئی کا درد یاد آگیا ہے۔ اب دھمکیاں لگوا رہے ہیں کہ جلد سب کو نااہل کرکے جیلوں میں ڈالیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک انکا زخم تازہ نہیں کیا جائے گا انکا رنڈی رونا بس نہیں ہوگا۔ ایک دن جان چھڑانے کےلیے نو مئی تازہ کرنا پڑے گا۔
دیکھیے کہ سعودی انتظامیہ نے تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنے والے اسرائیلی مسافروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا! ان کی دیکھ بھال اور صدمے سے نکالنے کے لیے سائیکیاٹرسٹ تک بھیجے گئے، حالانکہ نہ طیارے کو نقصان پہنچا تھا اور نہ کوئی زخمی ہوا تھا۔
اور دوسری طرف دیکھیے کہ وہ اللہ کے گھر کے مہمانوں اور سعودیہ میں داخل ہونے والے مسلمان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے
یہ وہ مقامات مقدسہ ہے جہاں مکھی مارنا بھی حرام ہے اور یہ لوگ👇