ریمنڈ ڈیوس اپنی کتاب دی کنٹریکٹر میں اپنی رہائی کے متعلق انکشاف کرتےہوئے لکھتا ہے کہ۔۔
یہ منصوبہ اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا تھا جب خاندان کے 18 افراد دیت پر راضی ہو جاتے۔۔۔اسی لئے حکومتی لوگوں نےوکیل کی مدد سےخاندان کےہر فرد پر حسب ضرورت دباوڈالالیکن ان میں سے کئی افراد نے مزاحمت کی۔۔ان میں سے ایک مقتول کا بھائی تھا جس پر مذہبی سیاسی راہنماؤں نے انصاف لینے کے لئے زور ڈال رکھا تھا۔۔۔۔وہ کئی ہفتوں تک راضی نہیں ہوئے۔۔
ایجنسیوں نے14مارچ کومداخلت کی اور18لوگوں کو جیل میں بند کر دیا۔۔۔جس دن میری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا اس روز تک انہیں قید رکھا گیا۔۔16 مارچ سے ایک رات قبل مقتول کے خاندان کے ان افراد کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ دیت قبول کر لیں۔۔۔۔۔اگر وہ دیت قبول کرلیں تو انہیں ایک بڑی رقم دی جائے گی، دوسری صورت میں نتائج اگلی صبح ان پر واضح کردیے گئے۔۔
انہیں کئی گھنٹے تک گن پوائنٹ پر رکھاگیا اور میڈیا کے سامنے ایک لفظ بھی بولنےسے سختی سے منع کیا گیا۔ 16 مارچ کو عدالت کے سامنے دیکھا گیا کہ ان خواتین کی حالت بہت پتلی تھی اور وہ رو رہی تھیں ان کے نئے وکیل ارشاد نے عدالت کے سامنے ان کی دستخط شدہ دستاویز پیش کیں جن میں مقتول کے خاندان کے18افراد کی جانب سے ملزم کو معاف کرنے اور دیت لینے پر رضامندی ظاہرکی گئی تھی۔
پاکستانی مسافروں کو ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کا المیہ … ایک اندرونی حقیقت
پاکستانی عوام کے ذہن میں اب ایک ہی سوال بھڑکتے شعلے کی طرح دہک رہا ہے:
اگر ایک مسافر کے پاس تمام کاغذات مکمل ہیں، ویزہ درست ہے، ہوٹل بُکنگ موجود ہے، ریٹرن ٹکٹ بھی ہے…
تو پھر آخر اسے ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کا حق کس قانون نے دیا ہے؟
یہ سوال کوئی ایک مسافر نہیں پوچھ رہا…
یہ آواز روزانہ ہزاروں پاکستانیوں کے دل سے اٹھ رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ:
امیگریشن کا کام مسافر کی جیل، شلوار قمیض، وضع قطع یا لباس کا جائزہ لینا نہیں ہوتا۔
قانون یہی کہتا ہے:
اگر کاغذات مکمل ہیں ایگزٹ اسٹیمپ لگے گا → مسافر روانہ ہوگا۔
بات ختم۔
لیکن افسوس… ہمارے ملک میں یہ سادگی کہیں کھو چکی ہے۔
ایئرپورٹ پر کیا ہو رہا ہے؟
ویزٹ ویزہ ہونے کے باوجود مسافروں کو روک لیا جاتا ہے
بغیر الزام گھنٹوں لائنوں میں بٹھایا جاتا ہے
کسی واضح وجہ کے بغیر گھروں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے
اور جب پوچھا جائے تو جواب یہی:
"آپ کی نیت درست نہیں لگ رہی تھی"
یہ کس قانون کی تشریح ہے؟
یہ کون سا آئین ہے جو “نیت” کو پاسپورٹ سے زیادہ طاقتور سمجھتا ہے؟
یہ سختی نہیں، یہ اختیار کا بے رحمانہ استعمال ہے۔
اور افسوس کی بات یہ کہ ہمارے ہی ادارے اس ظلم کو فائلوں میں “نارمل کارروائی” بنا کر محفوظ کررہے ہیں۔
ایک عام پاکستانی کی کہانی کاغذوں میں نہیں، آنکھوں میں لکھی ہوتی ہے
ایک مزدور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دو دو سال محنت کر کے ٹکٹ خریدتا ہے۔
زیور بیچ کر ویزہ لیتا ہے۔
پھر ایئرپورٹ پہنچ کر محض “شک” کی بنیاد پر روک لیا جائے…
یہ صرف ناانصافی نہیں
یہ اس کے خوابوں کو مسل دینا ہے۔
گلف میں آج ملازمتیں بھارتی، بنگلہ دیشی، نیپالی، فلپائنی لے رہے ہیں۔
پاکستانی پیچھے اس لیے رہ گیا کہ
نہ ملک میں روزگار ہے،
نہ باہر جانے دیا جاتا ہے۔
سفارتخانے بے بس،
امیگریشن سخت گیر،
اور عام شہری دو دہائیوں سے ایک ہی چکر میں پسا ہوا ہے۔
اصل سوال، جس کا جواب آج تک کوئی نہیں دے سکا
اگر میرے تمام کاغذات قانون کے مطابق مکمل ہوں…
تو مجھے آف لوڈ کرنے کا قانونی جواز آخر ہے کیا؟
یہی سوال پوری قوم پوچھ رہی ہے،
اور جب تک اس نظام کی اصلاح نہیں ہوگی
یہی پاکستانی نوجوان ایئرپورٹس پر بھی رکے رہیں گے،
اور اپنے مستقبل کے دروازوں پر بھی۔
پاکستانی مسافر کی بدقسمتی یہ نہیں کہ وہ غریب ہے
بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا اپنا ملک اسے عزت دینے کو تیار نہیں۔
ایئرپورٹ کے اندر کسی کو مکمل ڈاکومنٹس کے باوجود روک دینا
اسے مجرم بنا کر پیش کرنا
یہ سسٹم کی ناکامی ہے،
مسافر کی نہیں۔
قانون کو قانون رہنے دیا جائے،
اور اختیار کو ظلم نہ بننے دیا جائے۔۔۔!
ہم سب نے مرنا ہے بسمہ اللہ کرے ہمیں مار دے لیکن ہماری وصیت اور نصیحت یہ ہوگی کہ ہماری قاتل پاکستان کے جاسوسی ادارے ہیں”
محترم مشر محمود خان اچکزئی کا پریس کانفرنس
عمران خان کا گناہ کیا ہیں دنیا جانتی ہیں شہباز جانتا ہیں شہباز کی گھر والے جانتے ہیں شہباز کی بہن جانتی ہیں سپیکر کی ماں جانتی میری دادی جانی ہیں آپکی نانی جانتی ہیں کہ الیکشن عمران خان نے جیتا ہیں
تو کیا اپ کو شرم نہیں آتا کہ اپ وہاں بیھٹے ہو
@MKAchakzaiPKMAP
ماں کو جھکانا ہے تو بیٹے کو اٹھا لو، شوہر کو جھکانا ہے تو بیوی کو زندان میں ڈال دو۔ شدید ترین بے شرموں کا غلبہ ہے اس ملک پر! سالار سلطان زئی
@MeFixerr#ShahrezKhan
https://t.co/lYWVIGg47J
بھولنا مت 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ خان صاحب کے میڈیکل check-up کے لئے ضرور کیا کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے
❗️سنتا جا شرماتا جا ؛
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ چونکہ ملزمان نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے ہیں لہذا وہ مجرم ہیں یعنی جج کے مطابق پی ٹی آئی کا کارکن ہونا جرم ہے یہ فیصلہ ساری زندگی اس جج کا پیچھا کرے گا ! مطیع اللہ جان ۔۔
“ باہر نکل کر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نہ کبھی معاف کروں گا، نہ کبھی بھولوں گا، عوام بھی نہیں بھولے گی، جو اُس نے میرے ساتھ کیا ہے، وہ بھگتے گا، اللہ بھی اُسے سزا دے گا ” عمران خان کی جیل میں اپنی بہنوں سے گفتگو اور پیغام
#ImranKhan#Aleemakhan
Video Link : https://t.co/wYNQwDGCYi
عمران ریاض 🔥
سپرنڈینٹ اڈیالہ جیل کو لگتا ہے اس کو اس کے مالک بچائیں گے،یہ اس کی بھول ہے
یہ نشانِ عبرت بنے گا جو مجھے دکھائی دے رہا ہے ،
اس نے قوم کے سب سے بڑے لیڈر کے ساتھ زیادتی کی ہے
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کہہ چکا ہے کہ ایران کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن پاکستان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے سجدہ ریز اندھے حکمرانو، کیا تم نے سنا ہے یا بہرے بھی ہو چکے؟
اگر تین سال جبر کے بعد بھی ایسے ہی جیتنا ہے توصاحب ان سیاسی لاشوں کو دفنا دیں۔ کیا اگلے دس سال یونہی اپنے عوام سے لڑ لڑ کر ہارنا ہے؟ کتنے الیکشن ایسے کرائیں گے؟ نظریہ تو اب یہی چلے گا نسل در نسل، ثمینہ پاشا
https://t.co/SqvPEU2s2D
@pasha_samina