شاہ غلام قادر نے ثابت کیا کے وہ ایک غیرت مند بہادر عوامی لیڈر ہیں، عوامی مینڈیٹ کے متضاد حکم کو ماننے سے انکار اور قیادت کے سامنے انکار کر کے وزارت عظمی کو قربان کر دیا۔
لیکن کشمیریوں کے لیئے غیرت کی مثال بن گے آپ ہمارے لیڈر ہیں
ہمیں آپ پہ فخر ہے
ہزاروں ایسی وزارتیں آپ پہ قربان
ہم نے ن لیگ کے لیے بہت گن گاے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اب ن لیگ اختتام پذیر ہو رہی ہے
وزیر اعظم کشمیر کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے میاں محمد نواز شریف صاحب وہ لیڈر ہیں جنہوں نے ایٹمی دھماکے کیے لیکن آج وہ شہباز شریف صاحب اور مریم نواز صاحبہ کی وجہ سے بے بس ہو چکیں ہیں
کمینے جب عروج پاتے ہیں تو اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔
یہ نوازشریف کا مالشیا ایک غریب مقروض ملک جہاں غریب بجلی کا بل نہیں دے سکتا اور خودکشی کرلیتا ہے لیکن حکومت پھر بھی بل معاف نہیں کرتی,عوام کو ناجائز لیوی کےنام پر لوٹا جاتا ہے ان کےٹیکس سے ایسی عیاشی کریگاتو ہم ضرور تنقیدکریں گے
پھر ہم کس منہ سے اسٹبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ وہ عوام دشمن فیصلے کرتی ہے اور عوام کا ٹیکس کا پیسہ اپنی عیاشیوں پرخرچ کرتی ہے جب ہمارے نمائندے بھی وہی کریں؟
کشمیر میں ٹیکنوکریٹ وزیراعظم کے منتخب ہونے پر سابق وزیراعظم کشمیر سردار عتیق کی نواز شریف پر کڑی تنقید 🚨
میاں محمد نواز شریف جیسا آدمی جس کی وفاق میں حکومت ہے پنجاب میں حکومت ہے وہ پارٹی کہ اندر ایک فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی۔انکو یہ فیصلہ خود کرنا چاہئیے تھا۔
مسلم لیگ (ن) کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ 'پٹواری' 'یوتھیوں' یا 'جیالوں' کی طرح اندھے پیروکار نہیں ہوتے؛ ان کے پاس بھی عقل و فہم موجود ہے۔ اور حالیہ فیصلوں کے بعد، مسلم لیگ (ن) نے بھی پی ٹی آئی یا مسلم لیگ (ق) کی طرح کا سفر شروع کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی ازاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے لیے افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم کی نامزدگی پوری جماعت قیادت سمیت کارکنوں کے لیے ایک زبردست تماچہ ہے اور ان کو اس بات کی اوقات کا احساس دلایا گیا ہے کہ فیصلے کا اختیار پارٹی اور قیادت کے پاس نہیں کسی اور کے پاس ہے۔