ملیحہ ساجد سندھ زبان کے قدیم اسکرپٹ کو دوبارہ زندہ کرنے کو کوشش کیوں کر رہی ہیں؟
ملیحہ سمجھتی ہیں کہ سندھی زبان کو عربی رسم الخط میں رہنے کے بجائے اپنی اصل عام الخط "خدا آبادی رسم الخط" میں واپس آنا چاہیے، اس سے سندھیوں کا اپنی دھرتی اور بولی سے رشتہ اور مضبوط ہوجائیگا، اور ہماری اگلی نسل کی عربی رسم الخط سے جان بھی چھوٹ جائے گی.
جامشورو کی ملیحہ میمن نے اس وقت NCA لاہور میں اپنے فائینل کی تھیسز نمائش کے لیے پیش کی ہے. ملیحہ نے پوری خدا آبادی رسم الخط کو نہ صرف خوبصورت انداز میں لکھنے کر پیش کیا ہے مگر ساتھ ساتھ انہوں نے کمپیوٹر کی مدد سے اس رسم الخط کا فونٹ بنا کر اس کو کمپوز کرنا بھی ممکن بنادیا ہے.
" آپ نے خدا آبادی اسکرپٹ کو ہی دوبارہ زندہ کرنے کی تھیسز بنانے کیلئے کیوں ترجیح کیوں دی؟" سوال...
"ہم سمجھتے ہیں کہ سندھی زبان کا خدا آبادی اسکرپٹ اپنے جوہر میں عربی، دیوناگری اور سنسکرت کی طرح دھارمک/ مذہبی رنگ نہیں رکھتا، یہ عام لوگوں اور تاجروں کا اسکرپٹ ہے، جو سندھی مزاج، ثقافت اور لوک ادب کے قریب تر ہے. اس دور میں سب سے اہم بات کسی زبان کا کمپیوٹنگ پر ہونا ہے، اور ہم نے یہ مسئلہ بھی حل کردیا ہے، میں نے محنت کر کے اس کا فونٹ بھی بنالیا ہے. اب سندھی کو خدا آبادي اسکرپٹ میں کمپوز بھی کیا جاسکتا ہے." ملیحہ میمن کمال کی پریزنٹر ہیں. سندھ، سندھی زبان، ادب ثقافت سے عشق اس کو ودیعت میں ملا ہے. ملیحہ سندھ کے نامور ادیب، دانشور اور ڈرامہ نگار عبدالقادر جونیجو کی نواسی ہیں. ملیحہ کے والد ساجد میمن سندھ یونیورسٹی میں اعلٰی آفیسر ہیں، اور ان کا سندھ کے نامور ادبی اور دینی گھرانے سے تعلق ہے. اس طرح ملیحہ خود بچپن سے علم و ادب اور ثقافت کے لئے کام ہوتے دیکھ رہی ہیں. ملیحہ ساجد کے اس تھیسز اور نمائش کو NCA میں بہت پسند کیا جا رہا ہے. ان کا کہنا ہے کہ "میرا کام ابھی ختم نہین ہوا بلکہ ابھی شروع ہوا ہے، میں عالمی سطح پر سندھی کے اس اصلی اور قدیم اسکرپٹ کو اجاگر کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ یہ اسکرپٹ انڈس سولائیزیشن کا قدیم ترین اسکرپٹ سے بلکل قریب تر ہے، میری کوشش اس تہذیب کو عالم میں آشکار کرنا ہے. یہ کام. کا اصل مقصد سندھ کو اس کی عظیم تہذیب سے جوڑنا ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے دوسری زبانوں کے ذریعے آئے ثقافتی اثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی.
"چانڈیو انور عزیز"
سانا سنڌ حڪومت جي ثقافت واري کاتي سميت سنڌ جي سول سوسائيٽي سان گڏجي ڪارونجھر کي يونيسڪو جي عالمي ورثي جي جاين ۾ شمار ڪرائڻ لاء گڏيل ڪم ء تعاون جي آڇ
#SaveKaroonjhar
امام حسين جي سنت کي پاڙيندي آئون وچن ڪيان ٿو تہ پنھنجي ڌرتي تي ٿيندڙ ھر ظلم ۽ ڏاڍ خلاف جنگ ڪندس ۽ اکیون اکین ۾ وجھي وقت جي يزيد کي آخري ساھ تائین للڪاريندس۔
حسینیت زندھ باد 🚩
پودے لگائیں
اگر آپ کے پاس زمین ہے تو مروا کا پودا لگائیے یہ زمین میں سات آٹھ فٹ کا چھوٹا درخت بن سکتا ہے ، گملے میں لگائیں تو پندرہ یا اٹھارہ انچ کا گملا اسے دیں،
سارا سال ہرا بھرا پودا لمبا عرصہ خوشبودار پھول دے گا تو ماحول معطر ہو جائے گا۔
اسکو چاہیئے کیا ؟
اچھی دھوپ، مہینے میں ایک بار گوڈی ، مہینے میں ایک بار ایک مٹھی گوبر کھاد
کبھی کبھار NPK 20.20.20 ایک چمچ دس لیٹر پانی میں ڈال کر بنا لیں وہ اسے بھی دیں۔
پانی ، صرف اس وقت جب اوپر سے ایک انچ مٹی خشک ہو جائے، نمی اسے پسند ہے لیکن اگر کیچڑ بنا رہے گا تو جڑیں گل جائیں گی۔
رات کو اس کی خوشبو کی مہکار چار سو پھیلتی ہے اور قریب سے گزر والے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اللہ پاک نے اس کی خوشبو میں عجب نفاست رکھی ہے ۔۔۔ 🤩🤩😍😍
اڄ معصوم 7 سالن جي سنڌي ھندو نياڻي پريا ڪماري کي اغوا ٿيندي 2 سال پورا ٿيا جيڪا ھر سال محرم ۾ عزادارن کي سبيل پياريندي ھئي پر افسوس نه حڪومت ڪجھ ڪيو ۽ نه شيعن طرفان ڪو احتجاج ٿيو
#ReleasePriyaKumari#SindhRejectsPPP@UNChildRights1
ریاست ماں! پریا کماری کہاں ہے ؟
دو سال قبل 10 محرم کو اپنے بابا کے ساتھ امام حسین کی سبیل چلانے کے بعد گھر واپسی پر معصوم ھندو بچی پریا کماری کو اغوا کیا گیا تھا جو کہ ابھی تک لاپتہ ہے.
ہے کوئی جو اس بچی کی ماں کا درد سمجھ سکے اور
در در ٹھوکریں کھانے والے بابا کی فریاد سن سکے؟
باہر سے لوگ سندھ کے اسپتالوں میں علاج کرانے آتے ہیں۔
یہ تصویر "آصف زرداری" کے آبائی شہر اور حلقہ انتخاب نوابشاہ کے سول اسپتال کی ہے جہاں کل کچھ گنٹوں کے بارش کے بعد مریض او.پی.ڈی جاتے ہوئے۔
تو لاء ڪارونجهر فقط پٿرن جون ڍير آهي پر اسان لاء ڪارونجهر جو هر هڪ پٿر فطرت جي رونمائي ڪندڙ فطري حسن جو درياء سنڌ جي سرحدن جو حفاظتي مورچو ۽ ٿر جي دادلي دل آهي.
#SaveKaroonjhar
ڪارونجهر هن دور جي روپلي ڪولهي کي سڏي رهيو آهي جيڪو سندس وقار ۽ عظمت کي بچائي سگهي هي نيلامي صرف هڪ جبل جي ناهي پر هي نيلامي سنڌ جي ڳاٽ ۽ سونهن جي آهي جيڪڏهن پاڻ منظم متحد اڃان به نه ٿياسين ته سواء افسوس جي ٻيو ڪجھ نه بچندو
#SaveKaroonjhar
الیکشن سے پہلے کارونجھر کی کھدائی کا اشتہار دینا پارٹی سے دشمنی ہے ، پی پی سرکار کو یہ سوچنا چاھئے کہ سندھ کے باسی کبھی برداشت نہیں کرینگے سندھ کی شناخت کو مسخ کیا جائے ، یہ پہاڑ نہیں سندھ ہے ، سندھ کی تاریخ ہے ، سندھ کے قدیم باسیوں کے مذھبی عبادت گاہیوں کا مسکن ہے