Pakistani passport has climbed the ranks on the Henley index this year to the 100th spot. It's Pakistani passport's best showing in more than ten years #Pakistan
کوئی بھی باقاعدہ فوج مقامی آبادی کی مسلح حمایت اور غیور قیادت کے بغیر عسکریت پسندی کا صفایا نہیں کر سکتی۔ سیکیورٹی اور دفاعی نظام کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب جنگ غیر روایتی ہو اور دشمن چھپ کر وار کرتا ہو، تو فرنٹ لائن پر کھڑے سپاہی کا سب سے بڑا ہتھیار وہاں کے مقامی باشندے ہی بنتے ہیں۔ بیرونی فورسز کے پاس وہ لوکل انٹیلیجنس اور جغرافیائی برتری نہیں ہوتی جو وہاں کی مٹی کے بیٹوں کو حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کے قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں بدترین طالبانائزیشن کا فتنہ ابھرا، تو تاریخ گواہ ہے کہ جہاں بھی عوام اور غیور مقامی مشران نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کندھا ملایا، وہاں دشمن کو عبرتناک اور شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
قومی لشکر محض چند مسلح افراد کا گروہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ زمین، ننگ اور ناموس کے تحفظ کے لیے پوری قوم کے وجود اور عزمِ صمیم کا نام ہے۔ جب باجوڑ کے علاقے سلارزئی میں چیف آف سلارزئی شہاب الدین خان نے قبیلے کو یکجا کیا، اور دیر بالا و لوئر دیر کے مختلف محاذوں پر ملک جہانزیب خان، ملک بہرام خان اور ملک زرین خان جیسے نڈر اور غیور مشران نے روایتی پشتون ولی کے تحت لشکروں کی کمان سنبھالی، تو انہوں نے کسی بیرونی کماک کا انتظار کیے بغیر دہشت گردوں کو اپنی پاک مٹی سے مار بھگایا۔ اسی طرح سوات کے سنگین ترین حالات میں مٹہ کے مقام پر نیشنلسٹ رہنما افضل خان لالا شہید چٹان بن کر کھڑے ہوئے، کبل میں ملک ظاہر شاہ نے جوانوں کو متحرک کیا، بونیر کے تاریخی معرکے میں فتح خان نے شجاعت کی داستان لکھی، مہمند کے حلیم زئی میں ملک جان محمد نے دفاعی کندھا فراہم کیا اور خیبر کے شلوبر قبیلے میں ملک سردار اصغر نے اپنی دلیرانہ قیادت سے دشمن کے قدم اکھاڑ دیے۔
ان ہی مخلص اور بے باک لشکروں اور مضبوط مقامی قیادت کا یہ فیضان تھا کہ چترال کا پرامن خطہ اور ہزارہ ڈویژن مردان ڈویژن کے تمام اضلاع،بدترین طالبانائزیشن اور شورش کے دور میں بھی بیرونی فتنے سے محفوظ رہے، کیونکہ ان علاقوں کے غیور مشران نے قبیلے کی سطح پر چوکسی کی ایسی مثال قائم کی کہ کسی بھی شرپسند کو وہاں پاؤں جمانے کی جگہ ہی نہ ملی۔
بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ لشکر سازی سے ذاتی رنجشیں بڑھتی ہیں، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جب پورا قبیلہ متفقہ طور پر دشمن کے خلاف صف آرا ہوتا ہے، تو ذاتی دشمنیوں، بلیک میلنگ اور جھوٹی لسٹوں کا راستہ خودبخود بند ہو جاتا ہے، کیونکہ فیصلے کسی فردِ واحد کے نہیں بلکہ پورے جرگے کے ہوتے ہیں۔ یہ قومی لشکر ہی ہیں جو دہشت گردوں کے اس جھوٹے بیانیے کو نظریاتی طور پر قتل کرتے ہیں کہ ان کی جنگ صرف ریاست یا فوج سے ہے، اور دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس دھرتی کا بچہ بچہ اپنے امن کا خود چوکیدار ہے۔ لہذا، جب جنگ طویل، پیچیدہ اور نظریاتی ہو، تو غیور مشران کی قیادت میں عزمِ صمیم سے لیس قومی لشکر ہی مستقل امن کا واحد، موثر اور آزمودہ ضامن بنتا ہے جس کا احترام سیاست اور ذاتی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔
@Alikhanyzai Khadim sb ap daleel sy baat krty hain mera nanyal Dadyal sy taluq rakhta hy humary ghr main humra rishtydar help k ly rakha siasat ki alif ni pta isy gaon sy wapis aya tu kehta Pakistan humko azad kiyun ni krta humry py zulm kiyun kr raha hy ab yeh bacha kidr sy sekh k aya ?
محترم کیانی صاحب! آپ نے جس چابک دستی سے فنانس اور پرانے معاہدوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے، وہ پہلی نظر میں بہت علمی لگتا ہے، لیکن حقائق اور معاشیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو آپ کا یہ پورا بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔
آپ نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کا پاکستان کی کل ٹیکس کلیکشن میں 3.64 فیصد کا حصہ ہے اور اس حساب سے 436 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ صرف 115 ارب دیے گئے۔ جنابِ عالی! پاکستان کا این ایف سی (NFC) ایوارڈ آئینِ پاکستان کے تحت صرف اور صرف چاروں صوبوں کے لیے ہوتا ہے، آزاد کشمیر چونکہ پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ نہیں ہے، اس لیے وہ اس ایوارڈ کا حصہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ رہی بات 3.64 فیصد کے فارمولے کی، تو یہ وفاق کی کل ٹیکس کلیکشن کا فارمولا نہیں ہے، بلکہ یہ وفاق اور کشمیر کے مابین مخصوص ٹیکس شیئرنگ کا ایک اندرونی انتظامی انتظام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا اپنا کوئی اتنا بڑا انڈسٹریل یا ٹیکس بیس نہیں ہے جو پاکستان کے 14 ہزار ارب کے ٹیکس میں اتنے بڑے حصے کا دعویٰ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اندر جو کسٹمز، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس جمع ہوتا ہے، وفاق اس کا 80 فیصد سے زائد حصہ براہِ راست آزاد کشمیر حکومت کو واپس منتقل کر دیتا ہے، اور جو اربوں روپے وفاق سے کشمیر کو نقد دیے جاتے ہیں، وہ کشمیر کے اپنے جمع کردہ ٹیکسوں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، جسے وفاقی بجٹ سے گرانٹ ان ایڈ کے طور پر پورا کیا جاتا ہے۔
دوسرا بڑا مغالطہ آپ نے منگلا ڈیم کی رائلٹی اور بجلی کے معاہدوں کا دیا۔ آپ نے کہا کہ کشمیر کو رائلٹی نہیں ملتی، تو ریکارڈ درست کر لیجیے کہ آزاد کشمیر حکومت کو وفاق کی طرف سے نیٹ ہائیڈل پرافٹ یا واٹر یوز چارجز کے نام پر باقاعدگی سے اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں اور حال ہی میں اس رقم کو صوبوں کے مساوی کیا گیا ہے۔ آپ نے بجلی کی پیداواری لاگت کا جو رونا رویا، تو صاحبِ عقل! بجلی کی پیداواری لاگت وقت کے ساتھ فکس نہیں رہتی۔ ڈیم کی مینٹیننس، گریڈ اسٹیشنز، اور ٹرانسمیشن لائنوں کا ملک گیر نیٹ ورک قائم کرنے پر جو کھربوں روپے کے اخراجات آتے ہیں، وہ کون اٹھاتا ہے؟ کیا آزاد کشمیر کی اپنی ٹرانسمیشن لائنیں پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہیں؟ منگلا کی بجلی پہلے قومی گرڈ میں جاتی ہے، جہاں سے شارٹ فال اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، جہاں پاکستان کا عام شہری 55 روپے فی یونٹ دے کر بجلی خرید رہا ہے، وہاں اسی پاکستان کے وفاقی بجٹ کے تعاون سے آزاد کشمیر کے شہریوں کو محض 3 روپے فی یونٹ بجلی دی جا رہی ہے۔ اگر یہ وفاق کا احسان اور خصوصی رعایت نہیں ہے، تو پھر دنیا میں احسان کی تعریف بدلنی پڑے گی۔
رہی آپ کی یہ بات کہ یہ احتجاج پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ اپنی حکومت کے خلاف ہے، تو پھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اسٹیجوں سے پاکستان مخالف نعرے بازی کیوں ہوتی ہے؟ برطانیہ کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر چند مخصوص عناصر کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے علیحدگی کا چورن کس کے فنڈز پر بیچ رہے ہیں؟ جب دھرنے ہوتے ہیں تو نشانہ آزاد کشمیر کی بیوروکریسی کے بجائے وفاقی اداروں اور پاکستان کے تشخص کو کیوں بنایا جاتا ہے؟ آزاد کشمیر کے عوام ہمارے بھائی ہیں، ان کا اپنی حکومت سے گلہ کرنا، سڑکیں اور روزگار مانگنا سو فیصد جائز ہے، لیکن اس جائز مطالبے کی آڑ میں آپ جیسے لوگ جو فنانشل ڈیٹا کو مسخ کر کے وفاق نے کشمیر کا حق مارا کا جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں، ان کا مقصد صرف اور صرف بیرونی آقاؤں کو خوش کرنا اور کشمیر کے نوجوانوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف زہر گھولنا ہے۔ وفاقِ پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں، خواہ وہ 2005 کا زلزلہ ہو یا ایل او سی پر بھارتی جارحیت، اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے ہمیشہ اپنا پیٹ کاٹا ہے۔ اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے بجائے تاریخ اور فنانس کی کتابیں دوبارہ کھولیں، اور حقائق دیکھ لیں
جب بلوچستان میں پنجابی شھہد ہوتا ہے تو مریم نواز ان کے چچا اور ان کی سہیلیوں کے اکاؤنٹ بھی خاموش ہوتے ہیں اور تحریک تحفظ آئین کے ہونٹ بھی سل جاتے ہیں، پنجابیوں کے قتل عام پر اتنا اتحاد؟ #PunjabiLifeMatter
@faiza_gulfraz پولیس سے طے شدہ اوقات میں ایک محسوس جگہ پر احتجاج کرنا اور بات ہے۔ ان کو بولو کہ چار اسکاٹ لینڈ یارڈ کے بندے مار کر لندن کو مفلوج کر کے دکھاؤ، پھر بتائے گا برطانیہ آپ کو۔