Lecturer Computer Science, University of Okara.
General Secretary Academic Staff Association.
Executive Member FAPUASA.
Ex-Lecturer University of the Punjab.
عمران خان کی فیملی اور ہمیں میڈیا کے ساتھ ایک کمرہ میں بند کر دیا گیا
یہ ہوتا ہے اوپن ٹرائل کہ آپ خواتین کو کمرہ میں بند کر کے عدالتوں کارروائی جارہی رکھیں
مہربانو قریشی جیل انتظامیہ کے رویہ پر پھٹ پڑی
#حقیقی_آزادی_کا_نشان_بلا
مقتدر حلقوں کو بیٹھ کر ملک و قوم کی ترقی میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنا ہو گا تاکہ عوام میں بے چینی اور مایوسی ختم ہو۔ سیاسی اور انتقامی وابستگی سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا
رچرڈ اولسن ایک طاقتور امریکی سفارتکار تھا جس نے 34 سال اپنے ملک کی خدمت کی، اس پر رشوت سمیت عہدے کے غلط استعمال کے الزامات لگتے ہیں جو کہ امریکہ جیسے بڑے اور طاقتور ملک کے سامنے انتہائی معمولی ہیں لیکن اسکا احتساب شروع ہوتا ہے اور اسے 3 سال سزا 93400 ڈالرز جرمانہ کیا جاتا ہے۔ اگر اتنا بڑا ملک ایک شخص کی ان غلطیوں کو نظرانداز بھی کر دیتا تو امریکہ امریکہ ہی رہتا لیکن نہیں، امریکہ امریکہ ہے ہی اس لئے کہ وہاں حکمرانوں کا قانون نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی ہے اور وہاں عوامی عہدیداروں کے بال کی کھال اتاری جاتی ہے اور ایک ہم ہیں کہ جہاں کرپٹ اشرافیہ بار بار نظام اور طاقتور حلقوں سے ساز باز کر کے برسر اقتدار آ جاتی ہے اور ہمارے کچھ دانشور، وکلا اور صحافی انکے جرائم کی دلالی اور مظلومیت کا نوحہ پڑھتے ہیں
ڈنڈے مارنے اور دھونس سے ملک و اکانومی ٹھیک نہیں ہو سکتے
اکانومی اور ملک ٹھیک کرنے کے اپنے ڈائنامکس ہوتے ہیں۔ سمجھنے کی کوشش کریں ۔
سب صحیح کرنے کے لیے قابلیت اور ایمانداری شرط ہے!
گفتگو اور عملی کردار میں واضح تضاد ہے ایسی صورتحال میں باشعور آنکھیں بند کر کے ساتھ نہیں دے سکتے
سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنے سے بہتر ہے سوچا جائے کہ نفرتیں کیوں بڑھ رہی ہیں۔ تاکہ روٹ کاز کو دیکھ کر فیصلے کیے جائیں ۔ اسی میں ملک پاکستان کی بہتری ہے۔
کرپٹ مافیا کو سپورٹ کرتے کرتے ملک پاکستان کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ لوگوں میں مزید نفرتیں بڑھ رہی ہیں 🤔🤔🤔🤔🤔🤔
ہم ایک ایسی نہیج پر پہنچ چکے ہیں کہ ملکی بقا اب خطرے میں ہے، ہم تباہی سے صرف چند قدم دور ہیں، مصطفی نواز کھوکھر نے خطرے کی نشاندہی کر دی !
پروگرام پلے لسٹ: https://t.co/MiEFcovcZ7
#SamaaTV#NadeemMalik#NadeemMalikLive@nadeemmalik
کپتان کا قید تنہائی میں چھبیسویں دن، کیس کی صورتحال
الیکشن تاریخ کا پھڈّا
پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، آئی ایم ایف نے بجلی قیمتوں من ریلیف کا جواز مانگ لیا، چینی کی قلت، دودھ کی قیمتوں میں اضافہ
#PetrolDieselPrice
https://t.co/QPxizrKfQc
صدر مملکت کی ٹوئٹ سولہ ماہ سے ملک میں آئین و قانون کے ساتھ جاری مذاق کے آگے بند باندھنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے ، پی ڈی ایم اور اتحادیوں نے آئین اور قانون کو مذاق بنایا، آئینی عہدوں اور آفسز کی حثیت محض پوسٹ آفس جتنی رہ گئی،اپنی مرضی کی ڈاک بانٹتے رہے۔ اپوزیشن لیڈر کا آفس پارلیمان اور عوامی شعور کی توہین سے کم نہیں تھا، آئین کو روندتے ہوئے دو صوبوں میں انتخابات نہیں کروائے گئے، تین ماہ کے لیے آنے والی نگران حکومتیں چھ ماہ بعد بھی چلی رہی ہیں، ایک صوبے میں چھ ماہ بعد بتایا گیا کہ نگران کابینہ تو غیرجانبدار نہیں، نئی "غیر جانبدار"کابینہ لائی گئی، اعلی عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد سے صاف انکار کیا گیا، شہریوں کے بنیادی حقوق معطل نظر آئے، آئین و قانون توڑنے کے ایسے بیج بوئے گئے کہ آج ملک کے سربراہ کا ماتحت عملہ مبینہ طور پر اس کی مرضی کے بغیر قانون سازی کر رہا ہے۔ جب قانون کی کوئی حثیت ہی نہ رہے تو پھر قانون سازی میں بھی ایسے ہی مذاق ہوتے ہیں۔
عارف علوی صاحب نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے آئین و قانون کے ساتھ جاری اس بھونڈے مذاق کو روکنے کے لیے پہلا بڑا قدم اٹھایا ہے لیکن سلام ہے ان دانشوروں کو جو معاملے پر تشویش اور تحقیقات کے بجائے الٹا صدرصاحب سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
میں اللّٰہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔
اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔