llنمکین غزل
lسوہنی گھاٹ بدل سکتی تھی ...
اور کہانی .....چل سکتی تھی !
رانجھا .... غُنڈے لے آتا تو ...
ہِیر کی شادی ٹَل سکتی تھی !
سَسّی کے بھی اُونٹ جو ہوتے ...
تھَل میں کَیسے جل سکتی تھی !
مرزے نے ، کب سوچا تھا کہ ...
صاحباں راز اُگَل سکتی تھی !
لیلی' کالی ... پڑھ لِکھ جاتی ....
فیئر اینڈ لَولی مَل سکتی تھی !
جو پتھّر , فرہاد نے توڑے ....
جی ٹی روڈ نکل سکتی تھی!
انٹرنیٹ پہلے جو ہوتا ...
ہِجر کی رات بھی ڈھَل سکتی تھی۔
شمشیر گوندل کی وال سے چرایا ہے
سپر سٹورز کے ملازمین کا مسلسل کھڑے ہو کر کام کرنا ان کی صحت اور بنیادی حقوق کے ساتھ زیادتی ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ ان کے لیے بیٹھنے اور کرسیوں کی سہولت لازمی فراہم کرے تاکہ وہ پرسکون اور باوقار انداز میں اپنی ڈیوٹی کر سکیں
خطیبِ مسجدِ نبویﷺ شیخ ڈاکٹر عبدالمحسن القاسم:
”مکہ اور مدینہ دو عظیم اور پُرامن حرم ہیں، جن سے رسول اللّٰهﷺ نے محبت فرمائی ہے، اور اِن پر حملہ کرنا اللّٰه تعالیٰ کے نزدیک کبیرہ جرم ہے۔“
جب اللہ کے گھر پر حملوں کا خطرہ ہے جب مکہ اور مدینہ محفوظ نہی تو سب پاکستانییوں کو ایک ہی بات کرنی چاہیے
#PakistaniStandsWithSaudi
سب اس ہیش ٹیگ کو لازمی کاپی پیسٹ کریں تاکہ اہلیان مکہ کو بتا سکیں سب پاکستانی اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہیں
#PakistaniStandsWithSaudi
یہ لیاری ہے۔ وہی لیاری جس نے محترم بینظیر بھٹو اور ان کے والد کو منتخب کیا تھا۔ یہ پیپلزپارٹی کا لاڑکانہ سے زیادہ مضبوط گڑھ تھا لیکن سندھ سرکار نے کیا حشر کر دیا ہے۔
کراچی کرچی کرچی ہے۔
"داغ کا دستور تھا کہ جیسے ہی تازہ غزل ہوتی روشنائی خُشک ہونے سے پہلے اسے طوائف کے سپرد کر دیتے پھر وہ غزل حیدرآباد دکن سے شہر شہر کوٹھوں چڑھتی، زینہ بہ زینہ، سینہ بہ سینہ اور حسینہ بہ حسینہ دلّی کے گلی کوچوں میں پہنچ جاتی۔ یہ کام جو پہلے طوائفیں کرتی تھیں یہ کام اب الیکٹرانک میڈیا کرتا ہے۔"
مشتاق احمد یوسفی
#yousafi #asfand #asfandjavaid #asfandjavaidmehr #urdu #urduliterature
بلاول بھٹو زرداری انتظامی یونٹ پر اڑ گئے ہیں ۔ مولانا اسٹیبلشمنٹ کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں ۔ 27 ستمبر کو سہیل آفریدی لاکھوں کا مجمع لیکر آسلام آباد آ رہے ہیں ۔ جید صحافی "یونٹ بنے ہی بنے" کا عندیہ دے رہے ہیں ۔ عوام مہنگائی، ہر محکمے میں بد انتظامی اور ناانصافی پر چیخ رہی ہے ۔ اس دوران ریاست پاکستان شنگھائی کانفرنس بھی لیڈ کر رہا ہے اور عسکری قیادت مسلمان ممالک کے سیف گارڈ ہونے کے معاہدے طے کر رہی ہے ۔ غیر ملکی سطح پر پاکستان پرفارم کر رہا ہے اندرونی خلفشار پارلیمنٹ سے لیکر عدلیہ اور سڑکوں اور سوشل میڈیا پر عوام کے ذریعہ واضح نظر آنا شروع گیا ہے خان صاحب کی آزادی کے لئے انٹرنیشنل مہم تیز ہو رہی ہے۔ ستمبر 28 کو GHQ میں بڑی تعداد میں جرنیلوں کے رینکس ترقی پانے کا ٹائم آ چکا ہے ۔ یہ ملک کا اسوقت تک کا تازہ ترین سیاسی و سماجی و عسکری نقشہ ہے مختصر ۔ ۔۔
عوام کو چاہیے کہ وہ قومی سطح پر اپنے گناہوں کی اجتماعی معافی مانگیں۔ قصور سراسر اس بے حس شہری کا ہے جس نے بجلی کے بھاری بلوں، فیول ایڈجسٹمنٹ اور ظالمانہ ٹیکسوں سے تنگ آ کر اپنی جمع پونجی بیچی اور چھت پر چند سولر پلیٹیں رکھ لیں۔ حکومت کی نظر میں یہ کوئی خود انحصاری نہیں بلکہ ملکی معیشت پر خودکش حملہ ہے، کیونکہ اگر عوام خود ہی دھوپ سے بجلی بنانے لگیں گے تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر آئی پی پیز کے شاہانہ معاہدے کرنے والے معصوم اور نیک نام اشرافیہ کے اربوں روپے کے منافع کا بوجھ کون اٹھائے گا؟
حکمرانوں کی منطق اتنی دلکش ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اربوں ڈالرز کے کیپیسٹی چارجز وہ تحفہ ہیں جو عوام نے آئی پی پیز کے مالکان کو تاحیات دینا قبول کیا ہوا ہے، چاہے ایک یونٹ بجلی نہ بنے۔ اب اگر کوئی گستاخ شہری سولر لگا کر بجلی کے نظام سے باہر نکلنے کی کوشش کرے تو قصور وار حکمرانوں کے شاہانہ اللے تللے نہیں، بلکہ وہ شہری ہے جس نے 200 یونٹ سے نیچے آنے کی "سازش" کی۔ وزیر صاحب کا دکھ بالکل بجا ہے؛ عوام کا کام صرف ٹیکس دینا، لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا اور بل بھرنا ہے، اپنی مدد آپ کے تحت زندہ رہنے کی کوشش کر کے حکومتی پلاننگ کی ناکامی کو بے نقاب کرنا تو کھلی بددیانتی ہے۔
اصل مظلوم تو وہ سیاست دان، بیوروکریٹس اور سرمایہ کار ہیں جنہوں نے اقتدار کے اثر و رسوخ سے ایسے معاہدے کیے کہ بجلی بنے یا نہ بنے، ڈالرز میں منافع ہر صورت ملے۔ ان فرشتہ صفت شخصیات پر انگلی اٹھانا سراسر ناانصافی ہے۔ جرم صرف اس غریب اور متوسط طبقے کا ہے جو اب تک زندہ رہنے کی ضد پر قائم ہے۔ عوام کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنے سولر پینلز اتار کر پھینکیں اور خوشی خوشی ہر ماہ کیپیسٹی چارجز کا نذرانہ پیش کریں تاکہ حکمرانوں کا شاہی نظام بغیر کسی خلل کے چلتا رہے۔