گلگت پولیس سائیڈ سے برف اٹھا کر سڑک پر پھینک کر رستہ بند کر رہی ہے تا کہ PTI والوں کو گلگت آنے سے روکا جاۓ
پاکستان میں ایسے بدترین حالات کسی بھی دور میں نہیں رہے جو آج ہیں
بیوروکریسی میں نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ خود غیر ملکی شہریت نہ لو بچوں یا بیوی کو دلوا دو اور انہی کے نام پر اکاؤنٹس اور سب کچھ ہے۔ آپ کو بیوروکریٹس کے کے خاندان کی دوہری شہریت کو دیکھنا ہو گا، محمد مالک
یہ تصویر میں نظر آنے والا شخص پاکستان کے وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقتور ہے یہ سینکڑوں جوا کھیلنے والی ایپس کو پرموٹ کر رہا ہزاروں گھروں کو اجاڑ چکا ۔۔۔ مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی یہ کھلم کھلا بدمعاشی سے جوئے کو پھیلا رہا ۔۔۔۔
غریب کی فوج کا یہ میوزک اسکول ملاحظہ فرمائیے۔
کیا یہ واقعی اُس ملک کی “غریب فوج” لگتی ہے، جہاں IMF کی قسطیں ادا کرنے کے لیے عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا جاتا ہے؟
بلاول بھٹو نے فخر سے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے مزدوروں کو ملوں کا مالک بنایا۔ نہیں، پھلتے پھولتے کاروبار چھین کر بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو ان کا مالک بنادیا۔ پہلے وہ تباہ ہوئے، پھر گھاٹے کرنے لگے اور مزدوروں سمیت پاکستانیوں پر چھ کھرب روپے کا بوجھ پڑ گیا۔ یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔
پاک آرمی نے گلگت پہنچتے ہی فری اینڈ فئیر الیکشن کے لیے بہترین منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ ایسے آئیڈیاز صرف فوج دے سکتی ہے ۔ یہ پولیس کے بس کی بات نہیں تھی۔اسی لیے فوج تعینات کرنی پڑی ۔
مولوی نذیر احمد صاحب علی گڑھ کے لیے چندہ اگاہنے کے سلسلے میں بہت کارآمد آدمی تھے
اس لیے جہاں تک ممکن ہوتا سرسیّد انہیں اپنے دوروں میں ساتھ رکھتے
اور ان سے تقریریں کراتے
ڈپٹی نذیر احمد کی قوت تقریر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انگلستان کا مشہور مقرر برک بھی ان سے زیادہ مؤثر تقریر نہیں کرسکتا تھا
اب بھی اگلے وقتوں کے لوگ جنہوں نے مولوی صاحب کے لیکچر سنے ہیں،
کہتے ہیں کہ یا تو ہم نے ڈپٹی صاحب کو دیکھا یا اب اخیر میں بہادر یار جنگ مرحوم کو دیکھا کہ سامعین پر جادو سا کر دیتے اور جو کام ان سے چاہتے لے لیتے
جب چاہا انہیں ہنسا دیا اور جب چاہا، ان کی جیبیں خالی کرا لیں
عورتوں کے زیور تک اتروالیا کرتے تھے
مولوی نذیر احمد میں شوخی اور ظرافت کا عنصر زیادہ تھا
پھبتی کسنے اور چوٹ کرنے سے بھی نہیں چوکتے تھے
خود مولوی صاحب کہا کرتے تھے کہ چندہ اگاہنے کے لیے سرسیّد نے ہمارا اک طائفہ تیار کیا ہے
حالی روں روں روں سارنگی بجا رہے ہیں
شبلی مجیرے کھڑ کھڑا رہے ہیں، ہم طبلہ بجا رہے ہیں
سیّد صاحب ہاتھ پھیلا پھیلا کر کہہ رہے ہیں
" لا چندہ! لا چندہ !
غور سے دیکھیے یہ کس قدر مکمل تشبیہہ ہے
کارکردگی کے اعتبار سے کس قدر مکمل !
گنجینہ گوہر/ شاہد احمد دہلوی
اردو کلاسیک
پاکستان نازک کے بعد اب پنکی دور سے گزر رہا ہے، اور تخت لاہور کا راج شاہی بحکم منیرے مستری، بزور فوجی ڈنڈے پر رائج الوقت ہے۔ کل مشرقی پاکستان کی پٹ سن سے لاہور کی سڑکیں بنتی تھیں اور آج گلگت بلتستان اور بلوچستان کے نام پر چینی قرضے اٹھا کر لاہور کی اورنج لائن بنی ہے!
نتیجہ مختلف کیسے ہوسکتا ہے؟
میرے ایک واقف کار کی شوگر تین سو پلس رہتی تھی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر انسولین شروع کی تو بہت بہتر ہونا شروع ہوگئی
پھر ایک سیانے بزرگ نے مشورہ دیا کہ انسولین کے بجائے شوگر کا بہترین علاج یہ ھے کہ امرود کے پتے ابال کر اُس میں مورنگا پاؤڈر، جامن کی گٹھلیوں کا پاؤڈر اورکریلے کا پانی ڈال کر صرف ایک مہینہ پیو اور پھر دوبارہ شوگر چیک کرو ۔
اس نے لگاتار پندرہ دن امرود کے پتے ابال کر پئیے اور پاؤڈر استعمال کیا تو آج اُس کو مرے ہوے چار ماہ مکمل ہو چکے ہیں
😉😉
ایک بڑا افسر شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد اداس اور غمگین کھڑا تھا۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو بولا "پورے اٹھونجا سال بعد بالمشافہ ملاقات ہوئی لیکن بزرگوں نے مجھے پہچانا ہی نہیں" !!
اپسٹین آئی لینڈ کے بعد اب ٹرمپ کے داماد نیتن یاہو کے راز دار جیرڈ کشنر نے البانیہ میں جزیرہ اور مین لینڈ میں سینکڑوں ایکڑ زمین خریدی ہے
جس پر البانیہ میں پروٹسٹ ہو رہے
جزیرے کے پاس البانیہ کو لگنے والے بیچز کو بھی البانیوں کیلیے بند کردیا گیا
مین لینڈ البانیہ میں سینکڑوں ایکڑ بیچی گئی زمین بھی پروٹیکٹڈ زمین ہے
کشنر کے پاس نہ کوئی کمپنی تھی نہ ہی پیسہ ، ٹرمپ کے آنے کے بعد اس نے انوسٹمنٹ گروپ بنایا جو عربوں کا پیسہ اسرائیل میں انوسٹ کرے گا
خبروں کے مطابق ٹرمپ بہادر کو راضی رکھنے کیلیے یو اے ای دس بلئین ڈالر جیرڈ کشنر کو انوسٹ منٹ کیلیے دے چکا ہے۔
اس جزیرے کو ایسا ہی سمجھئیے جیسے اسرائیل کی پراپرٹی ہوگا وہ بھی میڈیٹیرین سی میں۔
اگلے بہت آگے کا سوچتے ہیں۔۔
البانیہ ایک مسلم مجورٹی ملک ہے جیسے کبھی فلسطین ہوا کرتا تھا۔
تصویر دیکھ کے کچھ لمحوں کے لئے تو کلیجہ حلق میں آ گیا تھا۔ در و دیوار گھومتے محسوس ہوے۔ بمشکل خود کو سنبھالا ۔ ڈبڈبائ ہوئ آنکھوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ کیپشن پڑھا تو جان میں جان آئی دروغ بر گردن راوی لب لباب کچھ یوں تھا کہ محترمہ نے پاکستانی ہسپتال میں کوئ خوفناک قسم کی سرجری کروائ ہے۔ احتیاطاً کیمرہ مین فوٹو شوٹ کے لئے آپریشن تھیٹر میں موجود رہا تاکہ دوران سرجری مختلف اینگل سے عمل جراحی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ رکھ سکے اور فوٹوز بوقت ضرورت پٹواریوں کی آنکھ میں نمی لانے کے کام آ سکیں۔ جلدی میں دو چار کروڑ کی گھڑی اتارنی بھول گئی تھیں یا ہسپتال کے عملے پہ بھروسہ نہیں تھا۔ بہرحال ہم محترمہ کی جسمانی روحانی اور دماغی صحت کے لئے دعاگو ہیں۔
اندر کی خبر بتا دوں!!
تین گندے کردار,
اسوقت شیخ وقاص, گنڈا پور اور بیرسٹر سیف, پختونخوا حکومت کے خلاف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر ہے!!
شیخ وقاص مبینہ طور پر, اسوقت DI Khan میں موجود ہے, اب پارٹی اور سہیل آفریدی کے خلاف اسٹبلشمنٹ نے ہی گنڈا پور نے اور شیخ وقاص کو میدان میں اتارا ہے,
شیخ وقاص کیوں ایسا کررہاہے, اگر وہ بتا دیا تو پارٹی کی بدنامی ہوگی, ہم وہ بتا رہےہیں جو بتانا چاہیے, شیخ وقاص کو اگر عہدے سے نہیں ہٹایا گیا تو یہ پارٹی کے ساتھ ظلم ہوگا, کیوںکہ شیخ وقاص اتنی بڑی پارٹی کا ترجمان لگا ہؤا ہے, باقی ایشوز کو چھوڑ دے لیکن سائیفر جتنی بڑی ڈویلپمنٹ پر شیخ وقاص اکرم نے ایک پریس کانفرنس نہیں کیا انٹرنشنل میڈیا کے ساتھ جو کہ ہونا چاہیے تھا انتہائی ضروری تھا!!
We have Ruth Pfau; a woman who dedicated her life to eradicating leprosy in Pakistan, who chose to emigrate to Pakistan from Germany in 1961 when she could have a very comfortable life back there. She dedicated 55 years of her live to fighting Leprosy in Pakistan. We have countless unsung “heroines” of this land worth immortalizing on screen.
But THIS is who gets a drama? A small-time drug peddler whose only claim to fame is a few news cycles?
Instead of digging into the rich, untold stories Pakistan has produced, our writers and producers keep chasing cheap controversy for easy ratings. No original vision. No creativity to tell the stories that actually matter. Pablo Escobar at least built a narrative that shook nations.
No producer thought to make a biopic on Dr. Ruth Pfau. Thats painful.
گلگت بلتستان الیکشن کے متعلق 4 چیزیں بلاشک و شبہ کنفرم ہیں
1. مقبولیت صرف پی ٹی آئی کی ہے
2. رزلٹ من مرضی کا ہو گا
3. بیرسٹر گوہر دھاندلے پر فوری ردعمل رکوانے کی کوششوں کا حصہ ہو گا
4. اگر اُمیدواروں نے عوامی احتجاج شروع کیا تو سیکیورٹی فورسز کے کچھ لوگوں کو مروا کر گسٹاپو لاء نافذ کیا جائے گا
اس لئـــے۔ جن لوگوں میں ذرا سا اخلاص ہے وہ ابھی سے طے اور پلان کر لیں کہ عوامی رائے پر ڈاکہ ڈال کر رنگ برنگے گٌڈوں کی جیت کا اعلان کرنے پر انہیں کرنا کیا ہے؟
یہ سارے میسز لاجز اور گیسٹ ہاؤسز کی ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ۔ کچھ ٹک ٹاک کچھ یو ٹیوب کچھ انسٹاگرام
نیوی ائیر فورس بری فوج کے تمام ایسے اثاثوں کا یہ شاید دس فیصد بھی نہیں ۔
آئندہ بارڈر سے عید مبارک کے میسیجز اب نہیں آئیں گے ۔
پاکستان میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی بناو اور اسکی خوب تشہیر کرو۔ متعلقہ اداروں کو بھی خوب کھلاو پلاو۔ جب لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی انویسٹ کر دیں تو پھر اپنا رنگ دکھانا شروع کر دو۔ کسی بڑے جج یا جرنیل کے ساتھ رشتہ داری بناو (ایڈن گروپ کے امجد اور چیف جسٹس افتخار چوہدری جیسی)۔ کسی کی مجال نہیں ہو گی جو آپکا بال بھی بیکا کر سکے۔ متاثرین بعد میں جس مرضی فورم پر اپنے سر پٹختے رہیں انہیں یوم محشر سے قبل انصاف نہیں ملنے کا !