وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سینئر پارٹی قیادت کا اہم اجلاس!
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پارٹی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، بالقسط لانگ مارچ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کی نورین نیازی اور عظمی خان کی گرفتاری کے متعلق گفتگو۔
”انہیں اغوا کیا گیا ہے، کیونکہ پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی کہ ہم گرفتار کرنے والے ہیں، نہ ہی کوئی حکم نامہ آیا کہ یہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم آپ کو گرفتار کرنا چاہ رہے ہیں۔ تو آپ کو یہی دیکھنا چاہیے، تینوں بہنیں اغوا ہی ہوئی ہیں۔
اور ویسے آپ کو اس بات پر زیادہ سوال اٹھانا چاہیے کہ کیا خواتین کو بغیر کسی جواز کے اس طرح اغوا کرنا جائز ہے؟
فیملی اور لیگل کونسل سے ملاقات جو ان کا بنیادی حق ہے، اس کی رسائی کیوں نہیں دی جا رہی۔ ہم نے اپلائی کیا ہوا ہے، اب دوبارہ اپلائی کریں گے تو ان شاء اللہ امید ہے کہ انہیں رسائی مل سکے گی اور ہمیں بھی پتہ چل سکے گا کہ انہیں کس حال میں رکھا گیا ہے۔
یہ کیا چھپا رہے ہیں کہ ہمیں رسائی نہیں دے رہے؟ کیا چھپا رہے ہیں کہ بات باہر نہ آئے؟
اور یہ بھی کہ جو دوائیں انہیں چاہئیں، وہ ہم پہنچا نہیں پا رہے اور وہاں بھی انہیں نہیں مل رہیں۔
تو اس کے لیے آپ کو آواز اٹھانی چاہیے۔“
@KhanShershah
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
خیبرپختونخوا میں نئے پولیس ایکٹ کے بعد آر پی او اور ڈی پی او لگانے کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس آ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ باقی تینوں صوبوں میں بھی یہ اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے کے پی میں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ مجبوراً انہیں یہ قانون بدلنا پڑا! شہزاد اقبال
#pakistan @ShahzadIqbalGEO
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اتنا ڈرا ہوا ڈکٹیٹر نہیں دیکھا، جس نے عمران خان کو سرنگوں کرنے کی خواہش میں پہلے اس کی بیوی، اب اس کی بزرگ بہنوں تک کو جیلوں میں ڈال دیا ہے، مگر اس کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی -
اوپر سے اس بزدل شخص نے ملک چوروں کے جتھے کے حوالے کر کے تباہ کروا دیا ہے
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب!
گزشتہ تین چار دنوں سے سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ہمارے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،
مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکام رہے، کل ہمارے وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد پہنچے۔
ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں بھی ہمارے کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے، مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا، فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا، ہمارے منتخب نمائندے اور وزراء نشانے پر ہیں
اگر صوبائی کابینہ کے وزراء بھی ان غنڈا گردوں سے محفوظ نہیں تو باقی پاکستان کا کیا حال ہوگا، یہ لوگ عوامی طاقت سے ڈرے ہوئے ہیں، کوئی عقل رکھنے والا شخص اس طرح کے اقدامات نہیں کرتا،
خیبر پختونخوا کے صوبائی کابینہ ارکان کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے، کچھ دن پہلے رانا ثناء اللہ کی طرف سے خیبر پختونخوا والوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانات سامنے آئے،
مریم صفدر کا یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، انتہائی تشویشناک بیان ہے،
آج خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا، تمام راستے خیبر پختونخوا کے لیے بند کر دیے جائیں گے، باقی پاکستان کھلا ہوگا لیکن صرف خیبر پختونخوا سے نہ کوئی جا پائے گا نہ آ پائے گا،
خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے اور تمام راستے بند کرنے کا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا کوئی سازش ہو رہی ہے، کیا مشرقی پاکستان جیسا سانحہ ریپیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،
جو بھی سازش ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں انہیں واضح پیغام ہے، پاکستان ہمارا ہے، جو بھی پاکستان کو تقسیم کرنے یا خیبر پختونخوا کو پاکستان سے جدا کرنے کی سازش کرے گا اسے ہمارا واضح پیغام ہے، ہم پاکستانی تھے، ہم پاکستانی ہیں اور ان شاء اللہ پاکستانی رہیں گے،
سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ہمارے بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں، بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو میرا پیغام ہے، آپ نے ڈرنا نہیں ہے،
اگر صوبائی حکومت آپ سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات نہ مانیں، یہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں، یہ ہم سب کا پاکستان ہے، احتجاج کرنا ہر بندے کا آئینی اور قانونی حق ہے،
کہیں بھی ہماری شنوائی نہیں ہو رہی، ہمیں نہیں سنا جا رہا، ایسی صورت میں آئین ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور ہم یہ احتجاج ہر صورت کریں گے، جب تک آئین میں پرامن احتجاج کا حق موجود ہے ہم پرامن احتجاج کرتے رہیں گے،
خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کو پیغام ہے، گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں، جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ڈرپوک ہوتا ہے، اپنے حق اور حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا ہے، پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے، ان شاء اللہ بہت جلد ظلم کا دور ختم ہوگا،
مارچ کی بات تو چند ماہ پہلے کی ہے، اس سے پہلے کیا سوچ تھی؟ آپ نے تو کہا تھا کہ عمران کے چیف بارے بیانات اور عمران کا ٹویٹر خاموش ہو جائیں تو ڈھیل مل سکتی ہے؟ وہ کیا لالی پاپ تھا؟ جب آپ ملاقاتیں نہیں کرنے دیں گے، عدالتوں میں کیس نہیں لگنے دیں گے، جب عدالت کوئی فیصلہ کرلے تو عمل نہیں کریں گے، تو آپ ایسی پارٹی سے کیا توقع رکھیں کہ وہ کیا کرے؟ مذاکرات، بات چیت؟ ریاض الحق
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@Riazhaq
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا عمران خان کےبہنوں اور ان کے بچوں کے اغوا اور خیبر پختونخوا میں صوبائی وزیر شکیل خان کے اغوا کی کوشش پر ملک پر مسلط مافیا کے نام ویڈیو پیغام
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی بہنوں کے گھروں کے محاصرے کی خبر سن کر لاہور کے لیے فوری طور پر روانہ ہوئے تھے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی عمران خان کی بہنوں، ان کے بچوں، اور 4 اور 6 سالہ بچوں تک کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا گیا۔
When Man, God's greatest creation, falls, he descends below animals even. The ones who tortured Ali Bilal, our Zille Shah, to death are worse than animals. They have been indulging in custodial torture on Azam Swati, Shahbaz Gill & many pol workers, overseen by a total psycopath.
📍 بھریا روڈ، ضلع نوشہرو فیروز / سندھ
5 اگست یومِ سیاہ کے سلسلے میں پی ٹی آئی سندھ کی ہدایت پر بھریا روڈ ٹاؤن میں عوامی آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر ضلعی صدر رمضان لنڈ اور جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ عابد علی راجپوت کی سربراہی میں شہریوں سے ملاقاتیں کی گئیں اور 5 اگست کے پرامن احتجاج کے حوالے سے آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔
@salmanAraja
“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
- Imran Khan
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners
"جب آپ نفرتوں کے اوپر کوئی ideology بناتے ہیں، اُس کا نتیجہ تباہی اور بربادی ہے"
عمران خان کا 2020 میں آزاد کشمیر میں تاریخی خطاب۔ ایک ایک لفظ قیمتی۔
ساتھ کہا
مفاہمت نہ سکھا جبرِناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
شہباز شریف پہلی مرتبہ 11 اپریل 2022 کو پاکستان کے وزیراعظم بنے، اس روز پاکستان میں پیٹرول کی سرکاری قیمت 144 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 118 روپے فی لیٹر تھا
شہباز شریف نے 14 اگست 2023 کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑا، اس روز پیٹرول 272 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 273 روپے فی لیٹر تھا جو کہ 1 اگست 2023 سے نافذ العمل تھا جبکہ نگران حکومت نے اگلی پندرہ روزہ جائزہ پالیسی کے تحت پیٹرول کی قیمت اپنے اقتدار کے پہلے ہی روز بڑھا کر 290 روپے اور ڈیزل کی قیمت 293 روپے کر دی تھی
شہباز شریف نے دوسری مرتبہ 4 مارچ 2024 کو وزیراعظم کے منصب کا حلف اٹھایا۔ اس دن پیٹرول 279 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 287 روپے فی لیٹر تھا۔
آج 25 جولائ 2026 کو پیٹرول کی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر ہو چکی ہے
11 اپریل 2022 سے 14 اگست 2023 تک پاکستان نازک دور سے گزر رہا تھا اور قصوروار پچھلی حکومت تھی جبکہ آج دنیا نازک دور سے گزر رہی ہے اور قصوروار پاکستانی عوام ہے۔
شکریہ شہباز شریف ✊