قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس 2026-27 کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قائدِ حزبِ اختلاف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1998 میں پی ٹی آئی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ خط آج بھی ان کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خط میں انہوں نے استعفیٰ دینے کی وجوہات بیان کی تھیں اور ان رویّوں کا بھی ذکر کیا تھا جو پی ٹی آئی کی جانب سے لوگوں کے ساتھ اختیار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے یکم فروری 2001 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی، جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو ملک سے گئے ہوئے 50 دن ہوئے تھے، اور انہوں نے کسی اقتدار والی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی بلکہ اس سیاسی جماعت کو جوائن کیا تھا جس کے بارے میں سب کہتے تھے کہ اس کی قیادت اگلے دس سال تک پاکستان نہیں آئے گی۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جو بات انہوں نے شاہ محمود قریشی کے حوالے سے ایوان میں کی تھی، اس بات کو توڑ موڑ کر آگے پیش کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بات جو میں نے شاہ محمود قریشی کے بارے میں کی تھی وہ صرف ان کے بارے میں کی تھی اور میں اس پر آج بھی قائم ہوں۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ حوالدار ہیں، جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ انہیں تو دو طرح کے حوالدار معلوم ہیں؛ ایک وہ جو سرحد پر کھڑے ہو کر اپنی جان کا نذرانہ دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو چوروں، ڈاکوؤں اور منشیات فروشوں کو پکڑتے ہیں، تو ان سے پوچھا کہ انہیں بتایا جائے کہ وہ ان میں سے کون سے حوالدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کی ذات پر کی گئی تھی جسے انہوں نے مسکرا کر ٹال دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین بھی یہی کہتا ہے کہ اسپیکر کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے خلاف بولا جا سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ کسی کو نہیں روکتے اور چاہتے ہیں کہ اراکین ان کے بارے میں ضرور بات کریں تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ گزشتہ روز کے اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر انہوں نے پوچھا کہ انہوں نے آئین کی کون سی خلاف ورزی کی ہے، مگر قائدِ حزبِ اختلاف ایوان سے تشریف لے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بھی دیگر تمام اراکین کی طرح ایک انسان ہیں اور سب کو ایک حد مقرر کرنی چاہیے جس سے آگے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان کے تمام اراکین ان کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ یہ عہدے اور منصب سب عارضی ہیں، انہیں نہیں معلوم کہ وہ خود اگلی قومی اسمبلی کا حصہ ہوں گے یا نہیں، لیکن باہمی تعلقات اور عزت و احترام کے رشتے قائم رہنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عزت کے رشتے اس لیے قائم رہنے چاہییں کیونکہ ان کی آپس میں ذاتی لڑائی نہیں بلکہ مسائل اور ایشوز کی لڑائی ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ وہ وہی بات کرتے ہیں جو آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 میں درج ہے، اور ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی کی دل آزاری نہ کریں، تاہم وہ بھی کوئی فرشتہ نہیں ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ وہ پھر بھی پوری کوشش کرتے ہیں کہ اراکین کا جتنا خیال رکھ سکیں، رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس 2026-27 میں حزبِ اختلاف کے لیے جتنا وقت مختص تھا، اس سے تقریباً دگنا وقت انہیں اظہارِ خیال کے لیے فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کے 67 اراکین نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیا اور تین دن تک ان کے تمام اراکین سے رابطہ کر کے انہیں ایوان میں بلایا جاتا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خود بھی سیکیورٹی اہلکاروں کو حزبِ اختلاف کے پاس بھیجا تاکہ اگر کوئی رکن بحث میں شرکت سے رہ گیا ہو تو اس سے درخواست کی جائے کہ وہ بھی آ کر بحث میں حصہ لے، لیکن وہ تین دن تک نہیں آئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ کٹوتی کی تحریکوں پر عموماً پانچ سے دس اراکین اظہارِ خیال کرتے ہیں، مگر حزبِ اختلاف کے 25، 25 اراکین کو موقع دیا گیا کہ وہ کٹوتی کی تحریکوں پر بحث کریں کیونکہ بات کرنے کے لیے یہی مناسب فورم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود گزشتہ روز حزبِ اختلاف کے اراکین نے ایوان سے باہر جا کر میڈیا سے یہی کہا کہ انہیں اسپیکر قومی اسمبلی نے بولنے کا موقع نہیں دیا۔
@AyazSadiq122@appcsocialmedia@PTVNewsOfficial@RadioPakistan
#BudgetSession
"وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم"
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے سرکاری پروٹوکول،گاڑیاں واپس کر دیں۔بیشتر سٹاف چھٹی پر بھیج دیا۔ ورک فرام ہوم کی ہدایت۔بیرونی دورے بند،سرکار کے پیسے سے دعوتیں، کھانوں پربھی پابندی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین کا اوور ٹائم بھی عارضی طور پر بند۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ویسے درویش انسان ہیں ان سے جس نے بھی پنگا لیا انھیں تنگ کیا وہ پھر نقصان اور مسائل میں ہی رہا نئی حلقہ بندیاں ہوئیں تو شیخ روحیل اصغر ان کے حلقے پر قابض ہوگئے نوازشریف کے کہنے کے باوجود انہوں نے حلقہ نہ چھوڑا جس پر سردار ایاز صادق تو خاموش رہے انھیں کسی اور حلقے سے الیکشن لڑوایا گیا سردار صاحب تو جیت گئے شیخ روحیل اصغر برے طریقے سے ہار گئے اج کل ٹک ٹاک پر زیادہ نظر آتے ہیں خواجہ آصف نے حال ہی میں ان کی تنخواہ کو جواز بنا کر قومی اور سوشل میڈیا پر تابڑ توڑ حملے کیے تنقید الزامات پتہ نہیں کیا کچھ سردار صاحب خاموش رہے آج وہی خواجہ آصف صاحب اقبال سنگھیڑہ کی گرفتاری پر شدید مسائل کا شکار ہیں اور ان کی اپنی پارٹی ان کی مدد سے انکاری ہے یاں ایاز صادق صاحب اسی طرح سپیکر کی کرسی پر موجود ہیں ویسے بھی صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
حج مشن 2025
مکہ مکرمہ حج انتظامات کا جائزہ ،
وفاقی وزیر برائے مذہبی آمور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے عازمین حج کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا
حجاج کرام سے ملاقاتیں کیں،
حج مشن عملے کو حجاج کی خدمت یقینی بنانے کی ہدایت
حجاج نے انتظامات پر اظہار اطمینان کیا،
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا شیخ طہنون محمد بن النہیان کے انتقال پر اظہار تعزیت۔
اسپیکر کا متحدہ عرب امارات کی قیادت اور شیخ طہنون محمد بن النہیان کے خاندان سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار۔
اسپیکر کا مرحوم شیخ طہنون محمد بن النہیان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی اللہ تعالیٰ سے مرحوم شیخ طہنون محمد بن النہیان کے لواحقین کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا۔
@AyazSadiq122@RadioPakistan@PTVNewsOfficial@appcsocialmedia