اک میراثی چھپ کے سیگریٹ پی رہیا سی،
پیر صاحب نے غصہ نال پوچھیا
عاشق علی! تیرا روزہ نئیں؟
میراثی بولا: عالی جاہ، مولا خوش رکھے، روضے تے تہاڈے ہوندے نیں،
ساڈیاں تے صرف قبراں ہوندیاں نیں۔۔۔ او وی کچیاں
جب ٹارچ نئی نئی ہندوستان آئی تو ایک پیر صاحب مریدین کو گلے لگا کر اپنے گریبان میں جھانکنے کا کہتے اور ٹارچ کا بٹن دبا دیتے ۔ کئی مرید ان کے سینے کے نور کی تاب نہ لا کر بے ہوش ہوجاتے تھے۔
پاکستان کی اکانومی مکمل تباہ ہو چکی،تاریخی مہنگائی ہو چکی اور ڈیفالٹ کا شدیف خطرہ منڈلا رہا۔
پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی پالیسی کہتی ہے کہ اکنامک سیکیورٹی ہی مضبوط نیشنل سیکیورٹی کی ضامن ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ یہ تمام عوامل نہیں بلکہ ان پر بات کرنے کو نیشنل سیکیورٹی رسک بنا دیا جاتا