علیمہ خانم کی گرفتاری کا اڑھائی سال سے مراعات لینے والے خاموش بیٹھے تحر��ک انصاف کے اراکین اسمبلی کی گرفتاریوں سے کوئی موازنہ نہیں۔ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی سے اسعتفے دیں اور گھر جائیں۔
انٹرنیشنل میڈیا عمران خان پر جو رپوٹنگ کر رہا اسکے بعد فیکڈ مارشل کی ثالثی اور ملک کے عدالتی نظام پر دنیا تھو تھو کرے گی ۔
“گزشتہ رات سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود عمران خان کو دوسرے ہسپتال لے جایا گیا اور پھر وہاں سے دوبارہ جیل لیکر گئے”
“عمران خان نے کہا بتایا کہ یہ مجھ پر تشدد کر رہے ہیں یہ مجھے کرسی کی طرح قتل کرنا چاہتے ہیں جس پر عمران خان کی فیملی ناراض ہے۔“۔ اور پوری دنیا جانتی ہے اس ملک میں” یہ”
کون ہیں ۔
اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف کے بیانات پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ کیا اعظم نذیر بھول گئے ہیں کہ نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ میڈیکل ٹریٹمنٹ کے لیے درخواست دی اور کتنی دفعہ علاج کروایا؟ اگر نہیں پتا تو میں بتا دیتا ہوں۔
22 جنوری 2019: پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور ایک دن۔
2 سے 7 فروری 2019: سروسز ہسپتال، لاہور پانچ دن۔
15 سے 25 فروری 2019: جناح ہسپتال، لاہور دس دن۔
26 مارچ سے 7 مئی 2019: جاتی عمرہ، ذاتی رہائش گاہ، لاہور بیالیس دن۔
21 اکتوبر سے 6 نومبر 2019: سروسز ہسپتال، لاہور سولہ دن۔
6 نومبر سے 19 نومبر 2019: جاتی عمرہ، ذاتی گھر تیرہ دن، جہاں آئی سی یو کی سہولت بھی موجود تھی۔
19 نومبر 2019 کو اعلیٰ عدلیہ نے علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی، اور موصوف بڑے میاں چار سال بعد واپس آئے۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اعلیٰ عدلیہ ��ے محاذ آرائی کی اور ان کے فیصلوں پر ہمیشہ تنقید کی۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے ہمیشہ عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کیا اور ان پر عمل بھی کیا، اور ساتھ ہی انسانی حقوق کی ہمیشہ بات کی اور ان پر عمل بھی کیا۔
تحریکِ انصاف کے دور میں جتنے بھی اپوزیشن کے رہنما جیل گئے، ان میں سے ایک کیس بھی ان پر تحریکِ انصاف کے دور میں نہیں بنایا گیا، سارے کیسز پرانے تھے۔ تمام سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کو ہسپتال منتقل کرنے کی حمایت کرنی چاہیے، جو عمران خان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
دنیا کے تمام بڑے جرائد میں عمران خان کو ہسپتال شفٹ کرنے کے فیصلے بارے خبر چھاپی گئی ہے
نااہل شریف کی ہسپتال منتقلی اور لندن بھگائی کی خبر کتنی عالمی جرائد میں چھپی تھی؟
موازنہ بنتا ہی نہیں صرف پٹواریوں راتب خوروں ٹاؤٹوں لفافیوں کی جلانے کے لئے دوسرا جملہ لکھا ہے
پی ٹی آئی قیادت نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی ہے کہ منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر مقررہ وقت پر تقریباً دس ہزار افراد جمع کیے جائیں۔ ہم اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کی درخواست قبول کرتے ہیں۔
منگل 16 جون کو ہم دوپہر 3:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوں گے۔
عمران خان کی طویل تنہائی قید اور ان کی بینائی کے مناسب معائنہ و علاج کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں اہلِ خ��نہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں یقینی بنانے کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر بڑی تعداد میں عوام ان مطالبات پر ضروری دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔
یہ ایک انسانی اور قانونی مطالبہ ہے۔ سابق وزیر اعظم اور سیاسی قیدی کے بنیادی حقوق کا احترام ہر صورت ضروری ہے۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
گزشتہ چند سالوں سے فلسطین میں، خاص طور پر غزہ میں عید کی کوئی تقریبات نہیں ہو رہی ہیں۔
غزہ میں عید اب پہلے جیسی نہیں رہی۔
بہت بھاری دل کے ساتھ میں سب کو عید مبارک کہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے دکھوں کو دور فرمائے اور ان کی زندگیاں دوبارہ خوشیوں اور مسرت سے بھر دے۔ آمین۔
عید مبارک
فلسطین کے لیے دعاؤں کے ساتھ
علی لاریجانی، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ممتاز سیکریٹری کی شہادت جاری تنازع کے دوران ایک نہایت گہرا اور افسوسناک نقصان ہے۔ ان کی شہادت ملک کی قیادت اور سیکیورٹی نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
اپنے طویل اور نمایاں کیریئر کے دوران، جس میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر خدمات اور مختلف اعلیٰ سطحی مشاورتی و انتظامی عہدے شامل ہیں علی لاریجانی نے غیر متزلزل وابستگی، فکری پختگی اور مشکل ترین حالات میں بھی ایران کے قومی مفادات کے لیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
اس غم کے موقع پر، ان کی دائمی میراث ہمارے لیے ایک سبق اور حوصلہ ہے، عظیم رہنما ہمیشہ مضبوط ادارے قائم کرتے ہیں۔ یہ لمحۂ سوگ ہمیں مزید متحد ہونے، اپنی بنیادی اقدار کو برقرار رکھنے اور قومی فلاح کے لیے ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم عطا کرے۔
اللہ تعالیٰ ان کی رو�� کو شہداء کے درجات میں بلند مقام عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے، اور ان کی خدمات ہمیشہ ایران کے مستقبل کو مضبوط بنانے میں رہنمائی فراہم کرتی رہیں۔
مذاہمت قائم رہے گی، اور ان لوگوں کی روح ہمیشہ زندہ رہے گی جنہوں نے عزت و وقار کے ساتھ خدمت انجام دی۔
عمران خان جیل میں کوئی سزا نہیں کاٹ رہے۔ عمران خان کو فوج نے اغوا کر کے جبراً قید میں رکھا ہوا ہے۔ اور ان اغواکاروں سے عمران خان کو صرف طاقت کے زور پر ہی چھڑایا جا سکتا ہے۔ عمران خان کو انصاف پاکستان کی سڑکوں پر ملے گا، فوجی عدالتوں میں نہیں۔
جیسے حالات ہیں اور بار بار ثابت ہو چکا ہے کہ یہ نظام مکمل طور پر شکنجے میں ہے-
اس نظام میں راستہ نکالنے کی ہر کوشش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں-
اب سڑکوں پر نکلے بغیر کوئی حل نہیں نکلنے والا!!!
#ImranKhanHealthRedAlert
🧵Part 1/n
“انسان کے ہاتھ میں کوشش ہے، کامیابی اللّہ دیتا ہے۔”
- پاکستان کے کپتان، مسلم اُمہ کے ل��ڈر، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners