تاحیات فیلڈمارشل کا مطلب ہو گا ایک بادشاہ۔ ایسی کوئی بھی سیاسی جماعت جو اس مکروہ کام میں ملوث ہو گی، اس کا کیا مدتوں تک پاکستان کے عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔
فوجی سربراہ سمیت ہر محکمے کا ملازم کسی بھی صورت پاکستان کا فیصلہ ساز نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے فیصلے پاکستانی کی نمائندہ پارلیمان کے علاوہ جب تک باہر ہو رہے ہیں، نہ اس ملک میں جمہوریت ممکن ہے، نہ انسانی حقوق اور نہ ترقی۔
منسوب چراغوں سے ، طرفدار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو ،، منافق بھی بَلا کے
کیوں ضبط کی بنیاد ہلانے پہ تُلا ہے ؟
میں پھینک نہ دوں ہجر تجھے آگ لگا کے
اک ذود فراموش کی بےفیض محبت
جاوں گی گذرتے ہوئے راوی میں بہا کے
اس وقت مجھے عمرِ رواں درد بہت ہے
تجھ سے میں نمٹتی ہوں ذرا دیر میں آکے
زنجیر نہیں ہوتے تعلق کہ جکڑ لوں
چاہو تو بچھڑ جاؤ ، ابھی ہاتھ چھڑا کے
میں اپنے خدو خال ہی پہچان نہ پائی
گزرا ہے یہاں ، وقت بڑی دھول اڑا کے
کرتی ہوں ترو تازہ ہری رت کے مناظر
کاغذ پہ کبھی پیڑ ، کبھی پھول بنا کے
کومل جوئیہ
ہر ظلم ترا یاد ہے بُھولا تو نہیں ہوں
اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں
اے وقت ! مِٹانا مجھے آسان نہیں ہے
انساں ہوں کوئی نقشِ کفِ پا تو نہیں ہوں
چُپ چاپ سہی مَصلحتاً وقت کے ہاتھوں
مجبور سہی، وقت سے ہارا تو نہیں ہوں
یہ دِن تو مجھے اُن کے تغافل نے دِکھائے
میں گردشِ دوراں تیرا مارا تو نہیں ہوں
اُن کے لیے لڑ جاؤں گا تقدیر میں تجھ سے
حالانکہ کبھی تجھ سے میں اُلجھا تو نہیں ہوں
ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا
میں ڈُوب رہا ہوں ابھی ڈُوبا تو نہیں ہوں
کیوں شور بپا ہے ذرا دیکھو تو نکل کر
میں اُس کی گلی سے ابھی گزرا تو نہیں ہوں
مضطرؔ مجھے کیوں دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی اُن کا تماشا تو نہیں ہوں
آفتاب مضطر
صلیبی جنگیں حصہ دوم
یہودی، مسیحی اور مسلمان اپنے مذہبی عقائد کے باعث یروشلم شہر سے ایک گہرا تعلق رکھتے ہیں جو نا صرف صدیوں پر محیط ہے بلکہ ان میں سے ہر ایک مذہب کے پیروکاروں نے پچھلے چند ہزار سالوں میں یروشلم شہر کے کچھ یا تمام حصوں پر حکومت کی یا اس شہر کو زیر تسلط رکھا۔
1/20
پاکپتن میں نہم کلاس کا امتحان دیتے ہوئے بچی کی طبیعت خراب ہوئی، ریسکیو 1122 نے فوری امداد فراہم کی، طبیعت سنبھلنے پر ساتھ پیپر مکمل کیا، اللہ اس باہمت لڑکی کو مستقبل میں کامیاب کرے۔۔۔!!!
@adeel_azhar That's how "controlled democracy" works ... every institution is working to "legalise" the few ... rest of us/ethics/morality doesn't matter.
After every few yrs a new face is built & discarded... from ZAB to IK
خوبصورت غزل ❤️
کھینچ کر رات کی دیوار پہ مارے ہوتے
میرے ہاتھوں میں اگر چاند ، ستارے ہوتے
ہم نے اک دوجے کو خود ہار دیا دکھ ہے یہی
کاش ہم دنیا سے لڑتے ہوئے ہارے ہوتے
یہ جو آنسو ہیں ، مری پلکوں پہ پانی جیسے
اس کی آنکھوں سے ابھرتے تو ستارے ہوتے
یار کیا جنگ تھی جو ہار کے تم کہتے ہو
جیت جاتے تو خسارے ہی خسارے ہوتے
اتنی حیرت تمہیں مجھ پر نہیں ہونی تھی اگر
تم نے کچھ روز مری طرح گزارے ہوتے
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
تم کو انکار کی خو مار گئی ہے واحد
ہر بھنور سے نہ الجھتے تو کنارے ہوتے
واحد اعجاز میر
@KlasraRauf Sir, what if PDM comes in front to run the show ... it's 100% constitutional, 100% face saving for estab, 100% respect for mandate will prevail...?
Niyat-e-shauq bhai na jaye kahin..
نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
#musicvideo#UrduPoetry
نوجوان شاعر شعیب کیانی نے جب مشہور نظم "بے حیا" لکھی تو جاوید اختر نے تب انہیں فون کرکے کہا کاش یہ میں نے لکھی ہوتی۔
"بے حیا"
ہمیں تو ہیں وہ
جو طے کریں گے
کہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہے
ہمیں تو ہیں وہ
جو طے کریں گے
کہ کس سے ان کے نکاح ہوں گے
یہ کس کے بستر کی زینتیں ہیں
وہ کون ہو گا جو اپنے ہونٹوں کو
ان کے جسموں کی آب دے گا
بھلے محبت کسی کے کہنے پہ
آج تک ہو سکی، نہ ہو گی
مگر یہ ہم طے کریں گے
ان کو کسے بسانا ہے اپنے دل میں
ہم ان کے مالک ہیں
جب بھی چاہیں
انہیں لحافوں میں کھینچ لائیں
اور ان کی روحوں میں دانت گاڑیں
یہ ماں بنیں گی
تو ہم بتائیں گے
ان کے جسموں نے کتنے بچوں کو ڈھالنا ہے
ہمارے بچوں کے پیٹ بھرنے
اگر یہ کوٹھے پہ جا کے اپنا بدن بھی بیچیں
تو ہم بتائیں گے
کس کو کتنے میں کتنا بیچیں
ہمیں کو حق ہے
کہ ان کے گاہک (جو خود ہمیں ہیں) سے
ساری قیمت وصول کر لیں
ہمیں کو حق ہے کہ ان کی آنکھیں،
حسین چہرے، شفاف پاؤں،
سفید رانیں، دراز زلفیں
اور آتشیں لب دکھا دکھا کر
کریم، صابن، سفید کپڑے، اور آم بیچیں
دکاں چلائیں، نفع کمائیں
یہ کون ہوتی ہیں
اپنی مرضی کا رنگ پہنیں
سکول جائیں، ہمیں پڑھائیں
ہمیں بتائیں
کہ ان کا رب بھی وہی ہے جس نے ہمیں بنایا
برابری کے سبق سکھائیں
یہ لونڈیاں ہیں یہ جوتیاں ہیں
یہ کون ہوتی ہیں اپنی مرضی سےجینے والی؟
بتانے والے ہمیں یہی تو بتا گئے ہیں
جو حکمرانوں کی بات ٹالیں
جو اپنے بھائی سے حصہ مانگیں
جو شوہروں کو خدا نہ سمجھیں
جو قدرے مشکل سوال پوچھیں
جو اپنی محنت کا بدلہ مانگیں
جو آجروں سے زباں لڑائیں
جو اپنے جسموں پہ حق جتائیں
وہ بے حیا ہیں۔
شعیب کیانی