سلمان اکرم راجہ صاحب تو زہریلے یوتھیوں کی طرح غصے میں ہیں کیونکہ راجہ صاحب کو پہلی دفعہ تحقیر اور تضحیک محسوس ہورہی ہے کہ میں سلمان اکرم راجہ تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل اراکین کو بلاؤں اور وہ احتجاج یا دھرنے تو کجا سپریم کورٹ تک بھی نہ آئیں۔ اب تحریک انصاف کسی اسمبلی میں نا تو آئینی ترمیم روک سکتی ہے۔ مخصوص موضوعات پر اسے بولنے کی اجازت نہیں۔ یہ لوگ سپریم کورٹ بھی نہیں آسکت��۔ اس صورتحال میں ان اسمبلیوں سے علیحدگی میں ہرج کیا ہے؟
علیمہ خانم نے ابتداء میں عمران خان کی آنکھ کے متعلق خبر کو جھوٹا پراپگنڈہ کیوں قرار دیا تھا؟
قاسم خان نے بتایا کہ انہیں دو دفعہ بتایا گیا کہ عمران خان کی جیل میں وفات ہوگئی ہے۔ خاندان کے لوگوں کو کتنی ہی ایسی جھوٹی خبریں ادھر ادھر سے پہنچائی جاتی ہوں گی۔ علیمہ خانم کا ایسی ایک اور خبر کو پراپگنڈہ سمجھنا ایک قدرتی اپروچ تھی۔
عسکری پراپگنڈے کے جھانسے میں ہر گز مت آئیں۔ مائنس عمران نامنظور۔
قید کرنے سے پہلے؛ ہم عمران خان سے معافی منگوائیں گے ہم اس کو توڑ کر رکھ دیں گے
اب ؛ عمران خان بہن صرف یہ ضمانت دے کہ عمران خان کا پیغام باہر آکر نہیں ��تائے گی
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
شورشرابے ، چیک چاڑے اور کھینچا تانی کے اس موسم میں ہرگز م�� بھولیں کہ عمران خان کو قید پاک فوج نے کیا۔ ملاقاتوں پر پابندی پاک فوج نے لگائی۔ علاج معالجے میں رکاوٹ پاک فوج ہے۔
سلام ہے اُس شخص کو جو قید میں ہے، مگر اُس کی سیاسی گفتگو سے فوج کی اتنی پھٹتی ہے کہ بہنوں سے یقین دہانی مانگ رہی ہے کہ آپ نے باہر آ کر کوئی سیاسی بات نہیں کرنی۔
عمران خان بتائے کہ ان پر جسمانی تشدد ہوا
علیمہ خانم پیغام باہر نا لاسکیں کیونکہ تحریری ضمانت دے رکھی ہو
عمران خان جیل سے کہے اسمبلیاں چھوڑ دو
باہر عمل نا ہو کیونکہ علیمہ خانم نے تحریری ضمانت دے رکھی ہو
عمران خان جیل سے کہیں کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو
پیغام پر عمل در آمد ہی نا ہو کہ علیمہ خانم نے پیغام باہر نا لانے کی تحریری ضمانت دے رکھی ہو
ایسی کوئی بھی ضمانت دینا عمران خان کیساتھ غداری ہے۔
“ علیمہ خانم لکھ کر دے دیں کہ عمران خان کا پیغام باہر نہیں آئے گا “ کا مطلب مائنس عمران خان ہے۔ یہ فوج کی خواہش ہے اور اسکی ہوا بنانے والے تبصرہ پاڑ فوج کے خفیہ اور ننگے اثاثے۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا ، قیاس آرائیوں اور تبصروں میں ہی عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی جاتی رہی۔ ایک بار پھر عمران خان سے متعلق تشویشناک خبریں ہیں۔ اب سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت سے بھی نہیں پوچھ سکتے کہ تم کیا کرنے والے ہو کیونکہ وہ 27 ستمبر والا کارڈ نکال کر دکھا دیں گے۔
عمران خان نے الیکشن کے بعد ہسپتال کے بیڈ سے کہا چار حلقے کھول دو۔ عمران خان نے الیکشن کا ایک سال مکمل ہونے پر جلسہ کیا اور کہا چار حلقوں میں تحقیقات کرلو۔ پھر فیصل آباد سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں ��لسے کرکے کہا چار حلقوں میں تحقیقات کروالو۔ پھر جون میں بہاولپور جلسے میں اعلان کیا کہ چار حلقے کھولو ورنہ اگست میں لانگ مارچ ہوگا اور دھرنا دوں گا۔ جون میں ہی شریف خاندان نے طاہر القادری کے چودہ لوگ شہید کردیے۔ اس طویل الٹی میٹم کے بعد اور چودہ لاشیں گرنے کے بعد لانگ مارچ و دھرنے ہوئے۔ کس ڈھٹائی و بے شرمی سے آپ تاریخ کو ری رائٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ملک میں انقلاب لانا بھلے ہی عوام کی ذمہ داری سہی ، جیل میں قسطوں میں مرتے ہوئے عمران خان کی ذمہ داری تحریک انصاف کی قیادت اور پختونخواہ حکومت پر ہی ہے جو اسکے نام پر عہدوں اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔