نوشہرہ سے ایک باپ کی درد بھری فریاد 💔
ایک غریب رکشہ ڈرائیور اپنی لاپتہ بیٹی کی بازیابی کے لیے اضاخیل پولیس سے مدد مانگ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بیٹی کی بازیابی کے لیے رشوت دینے کو ایک روپیہ بھی نہیں، تین ماہ سے گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکا۔
خدارا اس مجبور باپ کی فریاد سنیں، اس کی بیٹی کو بازیاب کریں۔ 🤲💔
@HammadHassan30 Strike action en k khelaf Lena chahy ye koi be ho q k es Mai gharebo ka Haq mara gya hai chahy pti Waly ho ya koi be kise ko be maaf nai Karna chahy ghalt ko ghalt kehna chahy
@Soch360@AUKhanOfficial1 Chalo ap ke baat man le ty hai k corptn hovi hai naib kis k under hai hamd k pass saboot hai to pesh kary naib Mai hum on k sth stand lyte hai Lekn serf farzi batay na kary apni cv agy karny k ley jhoty elzam na lagay
@HammadHassan30 Tana kho mo da umeed na o chy ghareeb khalko pa elaj bandy ba ta sa kar k ka Cha croptn kary de nu warsha naib la saboot warka mo tol der Sara oderygo kho chy saboot naye dersara nu asy beya khbra ma kawa akhpla cv makhy koly de para fazol ilzam ma lagwa
@HammadHassan30 Tasara ka da sehat card corporation saboot shta nu naib la Waly na warky ka serf akhply number makhky k chy ogora Imran Khan khelaf lgyam sharm or haya de shta o ka na de sehat card bandy da mo da kali khalko 5 ,5 lac ruppy operation oko ka da na wa agho ba sa kola kho
@AUKhanOfficial1 Agar Hamad ka pass sabot hai k ye ye croptn hovi hai to naib ko q nai dyte serf mo se baqwas kar k Dil ka bahars nikalty hai federal government to noon ke hai ja k sabot de dy naib ko case Chalo Kara de beghrt Banda hai
@AUKhanOfficial1 Mery boht se asy rishtydar jinhone kpk Mai sehat card k through 5 lac ka operation kia hai agr sehat card na hota to ye Zameen bej k karta Lekn Hamad Khud ko sahafi kehta hai en ko Imran Khan ka bughz hai es k pas paisa hai Jo ghareb log hai sehat card on se pochy k faida hai ya
سوشل میڈیا پر آیت نور کیس کے مبینہ مرکزی ملزم کی یہ تصویر وائرل ہورہی ہے جس میں یہ شخص بالکل اطمینان سے بیٹھا ہے اور کہیں سے بھی نہیں لگ رہا کہ یہ پولیس کی زیر حراست ہے یا جیل میں تھا ۔
کپڑے تک صاف ستھرے ہیں ۔ اور اس پر مقامی لوگ بھی سوالات اٹھارہے ہیں ۔ کیونکہ اس طرح کے کیسز میں گرفتار ملزمان اکثر بڑی مشکل سے اٹھنے بیٹھنے کے قابل رہتے ہیں ۔
عوام یہ مطالبہ کررہی ہے کہ آیت نور کے کیس کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ صحیح معنوں میں انصاف ہوسکے ۔
#JusticeForAyatNoor
آیت نور صرف ایک بچی نہیں، ہمارے گھروں کے اندر اترتے ہوئے اندھیرے کا نام ہے۔
ہمارے ہری پور، ایبٹ آباد اور آس پاس کے دیہاتوں میں پردے کا تصور کبھی اجنبی نہیں رہا۔ یہاں عورتیں بازار بھی جائیں تو عموماً چادر اوڑھتی ہیں، چہرہ ڈھانپ لیتی ہیں، اپنے لباس اور اپنے ماحول دونوں کا لحاظ رکھتی ہیں۔ برقعہ کم دکھائی دیتا ہے، مگر حیا اور پردہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ یہی معاشرہ برسوں اس خوش فہمی میں بھی رہا کہ ہماری بستیاں نسبتاً محفوظ ہیں، ہمارے گاؤں ابھی شہروں جیسی بے راہ روی سے بچے ہوئے ہیں، ہمارے بچے ابھی بچے ہیں اور ہمارے گھروں کی چار دیواری ابھی باہر کی گندگی سے محفوظ ہے۔
پانچ سالہ آیت نور کے ساتھ جو ہوا اس نے یہ ساری خوش فہمیاں ایک ہی جھٹکے میں توڑ دی ہیں۔
پانچ سال کی بچی کے لباس میں کیا اشتعال ہوسکتا ہے۔ اس کی چادر کہاں تھی، اس کا پردہ کہاں کم تھا، وہ کس فیشن کا حصہ تھی۔ وہ تو ابھی اس عمر میں بھی نہیں پہنچی تھی جہاں اسے ان لفظوں کا مطلب معلوم ہو جنہیں ہم عورت کے لباس، پردے اور احتیاط کے ساتھ جوڑ کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ آیت نور نے ایک ایسا سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے جس سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں۔ مسئلہ عورت کے لباس کا نہیں رہا، مسئلہ اس ذہن کا ہے جو ہمارے گھروں کے اندر تیار ہورہا ہے۔
ہم شاید ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ موبائل صرف ایک مشین ہے۔ بچہ کمرے میں بیٹھا ہے، گھر کے اندر ہے، ہماری نظروں کے سامنے ہے، اس لیے محفوظ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی موبائل کی چند انچ کی اسکرین سے پوری دنیا کی غلاظت اس کے کمرے میں داخل ہوچکی ہے۔ بارہ، تیرہ، پندرہ سال کے بچے وہ ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جن کے بارے میں ان کے والدین کو شاید علم تک نہیں۔ الگورتھم انہیں ایک ویڈیو سے دوسری، دوسری سے تیسری اور پھر ایسے مواد تک لے جاتے ہیں جس کے لیے ان کی عمر، ذہن اور شخصیت کسی طور تیار نہیں۔
آج تیسری جماعت کے بچے کو بہت سی وہ باتیں معلوم ہیں جو ہماری نسل کو میٹرک تک پہنچ کر معلوم ہوتی تھیں۔ فرق صرف معلومات کا نہیں، معلومات کے ذرائع کا ہے۔ ہمیں زندگی نے آہستہ آہستہ بتایا تھا، انہیں انٹرنیٹ ایک ہی رات میں سب کچھ دکھا دیتا ہے۔ بغیر سیاق، بغیر تربیت، بغیر اخلاقی حدود اور بغیر کسی ایسے بالغ انسان کے جو انہیں سمجھا سکے کہ جو کچھ اسکرین پر دکھائی دے رہا ہے وہ زندگی نہیں، تعلق نہیں، محبت نہیں اور انسانیت تو بالکل بھی نہیں۔
اور یہاں سب سے بڑی ذمہ داری بچوں سے پہلے والدین پر آتی ہے۔
ہم بچے کو بیس، تیس، پچاس ہزار کا موبائل دے دیتے ہیں مگر کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ اس موبائل میں وہ کیا دیکھ رہا ہے۔ اسے انٹرنیٹ کا پورا سمندر دے دیتے ہیں مگر تیرنا نہیں سکھاتے۔ رات کو کمرے کا دروازہ بند ہے، وائی فائی چل رہا ہے، فون ہاتھ میں ہے اور والدین مطمئن ہیں کہ بچہ گھر پر ہے۔ شاید ہمارے زمانے کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہے۔ اب خطرہ صرف گلی سے نہیں آتا۔ اب خطرے کو دروازہ کھولنے کی ضرورت نہیں۔ وہ وائی فائی کا پاس ورڈ جانتا ہے۔
اس سب کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر وہ بچہ جو غلط مواد دیکھ لے گا مجرم بن جائے گا۔ ایسا کہنا نہ درست ہے نہ منصفانہ۔ لیکن جب کم عمری میں مسلسل فحش اور پرتشدد مواد، عورت کو محض جسم سمجھنے کی تربیت، حدود کا شعور نہ ہونا، والدین کی غیر موجودگی، جذباتی تربیت کی کمی اور احتساب کا خوف ختم ہونا ایک جگہ جمع ہوجائیں تو ہم ایک ایسا ماحول ضرور بنا دیتے ہیں جس میں بیمار رویے پنپنا آسان ہوجاتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں سے وہ گفتگو کرنی پڑے گی جس سے ہم خود شرماتے ہیں۔ انہیں اچھے اور برے لمس کا فرق بتانا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ کسی دوسرے انسان کے جسم پر ان کا کوئی حق نہیں۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ موبائل پر نظر آنے والی ہر چیز حقیقت نہیں۔ والدین کو پیرنٹل کنٹرول سیکھنا ہوگا، بچوں کے فون دیکھنے ہوں گے، ان کی آن لائن سرگرمی سمجھنی ہوگی، اسکولوں کو عمر کے مطابق حفاظت اور حدود کی تعلیم دینی ہوگی اور محلے، مسجد، مدرسہ، اسکول، گھر سب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا بدل چکی ہے۔
سب سے خطرناک رویہ یہ ہوگا کہ ہم آیت نور کے واقعے پر چند دن روتے رہیں، قاتل یا مجرم کو گالیاں دیں، ایک دوسرے کو کوسیں اور پھر اپنے بچوں کے ہاتھ میں وہی غیر محدود موبائل واپس پکڑا دیں۔
آیت نور کا مقدمہ صرف ایک ملزم کا مقدمہ نہیں۔ یہ ہمارے پورے سماج کے سامنے رکھا ہوا آئینہ ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے بچوں کو مہنگے فون تو دے دیے مگر کردار کی نگرانی چھوڑ دی۔ ان کے کمروں میں اے سی لگا دیے مگر ان کے ذہنوں میں داخل ہونے والے مواد کی کوئی کھڑکی بند نہ کی۔ انہیں دنیا تک رسائی دے دی مگر دنیا سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی۔
ہم اپنی بچیوں کو ہمیشہ یہ سکھاتے رہے کہ چادر سنبھالو، باہر احتیاط کرو، کسی اجنبی سے بات نہ کرو۔ اب وقت آگیا ہے کہ اپنے بیٹوں کو بھی اتنی ہی شدت سے سکھائیں کہ عورت انسان ہے، بچہ حرمت ہے، جسم امانت ہے اور کسی کمزور پر دست درازی مردانگی نہیں، حیوانیت ہے۔
کیونکہ آیت نور نے ہمیں بہت تلخ انداز میں سمجھا دیا ہے کہ اب صرف بیٹیوں کو بچانا کافی نہیں۔
اب ہمیں اپنے بیٹوں کو بھی بچانا ہے۔
ان ہاتھوں سے جو موبائل تھامے ہوئے ہیں، ان آنکھوں سے جو خاموشی میں سب کچھ دیکھ رہی ہیں، اور ان ذہنوں سے جن کی تربیت اگر ہم نہیں کریں گے تو کوئی الگورتھم ضرور کرے گا۔۔۔
#JusticeForAyatNoor