میں حلفا کہتا ہوں مراد سعید نہ تو دہشت گرد ہے اور نہ انکا ساتھی۔ وہ تو دہشتگردی کا نشانہ بنا ہے۔ وہ اپنی قوم کا محب وطن بیٹا ہے جو دہشتگردوں کے خلاف کھڑا رہنے کی قیمت چکا رہا ہے۔ وہ کسی بھی سیاسی جرنیل سے بڑا پاکستانی ہے۔ جب وقت کا آرمی چیف اور DG ISI تحریک طالبان سے نئے تعلقات بنا رہے تھے تو وہ ان چند آوازوں میں شامل تھا جنہوں نے سب سے پہلے خبردار کیا اور اس گھناؤنے منصوبے سے منع کیا مگر افسوس آج وہی مراد سعید دہشتگرد قرار دے دیا گیا۔
“We want to be the preferred partner” ….
In ?
Destroying Pakistans ecology, environment, living conditions of the locals , by passing legislatures, toppling elected govts ?
Why ? to get our hands on 6 trillion or more worth of rare earth minerals !
فیلڈ مارشل اور انکے چہیتوں نے خیر پختونخواہ کے حالات انتہائی خراب کر دیئے ہیں۔ قبائلیوں پر لگاتار گولیاں چلائی اور شیلنگ کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی من پسند کمپنیوں کو ریئر ارتھ منرلز دینے کے چکر میں ہر طرف آگ لگائی جا رہی ہے۔ لاکھوں ارب کے اس دھندے میں لوگ گولیوں سے مریں گے یا سسک سسک کر تابکاری سے مریں گے۔
اس پاگل پن کو روکنا ہوگا۔
Troops in the streets, an elected chief minister jailed, internet cut: Pakistan's emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa is a military-backed power grab. Sohail Afridi and all detained leaders must be freed. Rights cannot be suspended by decree. #HumanRights https://t.co/yiCJFw9ZnP
یہ کوئی قصائی خانہ نہیں بلکہ میرے کارکنوں کا خون ہے جنہیں پولیس والوں نے گولیاں ماری ھسپتال زخمیوں سے بھر گئے مسلسل شیلنگ شروع ہے۔ ڈی پی او خیبر آپکو اس درندگی کا جواب دینا ہوگا۔
🚨🇵🇰 Imran Khan's son accused Pakistan's military leadership of using emergency rule to CRUSH political opposition.
As protesters demand the jailed fmr. PM's release, Kasim Khan says military chief Munir is targeting the Pakistani province where his father's party holds power.
He accuses the authorities of using terrorism as a pretext for further military operations and demands the release of political prisoners.
“Pakistan belongs to its people, not its military.” 💯
Source: @kasim_Khan / Writer: Samuel
🚨پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ تمام سوشل میڈیا والوں سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی مکمل پریس کانفرنس اپنے اکاؤنٹ سے لازمی دکھائے کیونکہ مین سٹریم میڈیا ہماری تقریریں بالکل نہیں دکھائے گا ہمیں اپنے نظریے پر کھڑے رہنا ہے
اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے
رات تقریباً 2 سے 3 بجے ایم پی اے عبدالکریم تورڈھیر کی رہائش گاہ اور حجرے پر نامعلوم نقاب پوش افراد نے حملہ کیا۔گنرز باچا خان غنی رحمان، سردار علی اور بھائی عبدالناصر کو تشدد کے بعد اغواء کر لیا گیا۔حملہ آوروں نے گاڑیوں پر فائرنگ کی، سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈی وی آر بھی ساتھ لے گئے۔
رات گئے ایم پی اے عبدالکریم تورڈھیر کی رہائش گاہ اور حجرے پر حملہ
رات تقریباً 2 سے 3 بجے ایم پی اے عبدالکریم تورڈھیر کی رہائش گاہ اور حجرے پر نامعلوم نقاب پوش افراد نے حملہ کیا۔
حملہ آوروں نے گنرز باچا خان، غنی رحمان، سردار علی اور ان کے بھائی عبدالناصر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اغواء کر لیا۔ حملہ آوروں نے گاڑیوں پر فائرنگ کی جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
ایم پی اےعبدالکریم خان تورڈھیر کے حجرے اور گھر پر رات کی تاریکی میں نامعلوم افراد کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔عبدالکریم خان کے بھائی عبدالناصر اور ان کے دیگر ساتھیوں کو اغوا کیا گیا، اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔
صوابی سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم خان تورڈھیر کے گھر پر رات گئے نقاب پوش افراد کے حملے اور ان کے بھائی عبدالناصر خان سمیت تین افراد کے اغوا کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ منتخب نمائندوں اور ان کے اہلِ خانہ کو سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ یہ طرزِ عمل آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں اور ہر غیر قانونی اقدام کے خلاف آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مغوی افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اس کارروائی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
کے پی کے سے لوگوں کو اغوا کیا جا رہا ہے
اس کا ذمہ دار کون ہے ۔
رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر کے بھائی عبدالناصر اور تین گن مینوں کو صوابی میں ان کے حجرے سے اغوا کیے جانے کی اطلاعات۔
رات گئے نامعلوم افراد کی جانب سے عبدالکریم تورڈھیر کے حجرے پر فائرنگ بھی کی گئی۔
صوابی: عبدالکریم تورڈھیر کی رہائش گاہ پر رات گئے مبینہ واقعہ
نامعلوم افراد کی آمد، گنرز اور بھائی عبدالناصر کو مبینہ طور پر ساتھ لے جانے کی اطلاع۔
واقعے کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں،
اصل صورتحال متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد واضح ہوگی۔
کل رات ایم پی اے عبدالکریم خان کے ڈیرے پر حملہ، چادر اور چار دیواری کی پامالی، گھر میں توڑ پھوڑ، خواتین و بچوں کی بے حرمتی اور گاڑیوں کو نقصان؛ یہ سب سوال اٹھاتا ہے کہ کیا یہ ملک آئین و قانون کے مطابق چلے گا یا جنگل کے قانون کے تحت؟
عدالتیں، پولیس اور ادارے موجود ہیں، تو پھر قانون کی حکمرانی کہاں ہے؟ ہمارا آئینی اور جمہوری حق کوئی طاقت ہم سے نہیں چھین سکتی۔ جبر اور ظلم کے باوجود ہم اپنے حق کے لیے کھڑے رہیں گے۔
گورنر صاحب سے سوال ہے: کس قانون کے تحت سکیورٹی میٹنگز کی جا رہی ہیں؟ اور بلاول بھٹو سے سوال ہے: کیا یہی وہ جمہوریت ہے جس کے آپ دعوے کرتے ہیں؟
ہم دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے مکمل حامی ہیں، مگر بائیس آپریشنز کے بعد بھی اگر امن قائم نہیں ہوا تو حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی!
#سر_بکف_میدان_میں