بشری جی، "ستلج" کہانی ہے پنجاب کی۔ چڑھدے اور لہندے دونوں پنجاب کی۔ کہانی ہے بلوچستان کی۔ کہانی ہے کشمیر کی۔
دوسرا آپ نے پوچھا کہ "ستلج" کے ہیرو جیسے لوگ اب کہاں ہیں؟ عرض ہے کہ اس سے کہیں بڑا ہیرو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے۔
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جمہوریت، اور عوام کے حقوق کا ایسا چیمپین ہندوستان کے حالیہ اہتہاس میں نہيں ملتا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو:
“اردلی حکومت خوف کا شکار ہے، ان کو مسلسل ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ ان کا پہلا ڈراؤنا خواب ان کے اعصاب پر سوار عمران خان اور اس کی رہائی کا خوف ہے۔ دوسرا ڈراؤنا خواب یہ ہے کہ فارم 47 کا کچا چٹھا نہ کھل جائے- ان خوابوں سے گھبرا کر بیدار ہوتے ہی یہ 9 مئی کی گردان کرنے لگتے ہیں۔ اس خوف کی بدولت انھوں نے مجھے ایک ایسے بے ضمیر جج سے سزا دلوائی جس کو خود سپریم کورٹ نے 2004 میں عدالتی خدمات کے لیے نا اہل قرار دیا تھا۔
القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ملک ریاض اور NCA کے معاہدے سے سال پہلے سے چل رہا تھا اور
ہمارے دور کی کابینہ کا القادر ٹرسٹ معاملے میں کوئی کردار نہیں نہ ہی یہ رقم ہم نے سپریم کورٹ منتقل کروائی۔ کابینہ نے صرف Non Disclosure Agreement کی Confidentiality / رازداری کی منظوری دی تاکہ اتنی بڑی رقم / فارن ایکسچینج ایک ساتھ پاکستان آ جائے- نام نہاد “بند لفافے” کو حکومت اور تحقیقاتی ادارے کھول سکتے ہیں اسے کھولیں اس میں کیا لکھا ہے عوام کو بتائیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔
ذلفی بخاری نے اس کیس میں وڈیو لنک یا سفارت خانے کے ذریعے پیش ہونے کی درخواست کی تھی کیونکہ اگر وہ پاکستان آتے تو ان کو عدالت تحفظ نہ دیتی اور باقیوں کی طرح انھیں بھی گرفتار یا اغوا کر کے تشدد کیا جاتا۔ ذلفی بخاری کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مار کر توڑ پھوڑ کی گئی، خاندان کو ہراس کیا گیا اور ڈیلیں آفر کی گئیں- شہزاد اکبر نے بھی کئی مرتبہ گواہ بننے کی پیشکش کی ، مگر چونکہ جعلی حکومت اس مقدمے میں مجھے سزا دینے کا فیصلہ کر چکی تھی اس لیے ان کو وڈیو لنک یا سفارت خانے کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں دی گئی- شہزاد اکبر کے بھائی کو بھی اغوا کیا گیا-
القادر ٹرسٹ ایک فلاحی ادارہ ہے جس کے ذریعے غریب طلباء کو سیرت النبی ﷺسے روشناس کروایا جا رہا ہے- اس سے مجھے کوئی ذاتی فائدہ ہے نہ ہی میری اہلیہ کو۔ پہلے بھی ساڑھے نو ماہ بشرٰی بیگم کو قید میں رکھا گیا اور میرا ساتھ دینے کی سزا دی گئی۔ گھریلو خواتین کو سیاست میں گھسیٹنا شرمناک ہے اور ہماری روایات کے منافی ہے۔ بشرٰی بیگم مضبوط اعصاب کی حامل خاتون ہیں ، وہ میری کمزوری نہیں طاقت ہیں۔
یہ مجھ پر جتنے مرضی مقدمات بنائیں میں نواز شریف یا زرداری کی طرح ڈیل کے ذریعے نہیں بلکہ عدالتوں کا سامنا کر کے انصاف کی طاقت سے جیل سے باہر آؤں گا۔ ان سے ڈیل پر میں جیل میں رہنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ میرے مقدمات یا رہائی کا حکومت یا کسی سے بھی ہونے والے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذاکرات کا عمل اگر سبوتاژ ہوا تو اس کی وجہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام نہ کرنا ہو گا۔ ہمارے جو لوگ شہید ہوئے ہیں ان کی طرف سے ہم پر دباؤ ہے وہ انصاف کے متلاشی ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بغیر مذاکرات کرنے کا کوئی مقصد ہی نہیں-
سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر کو ہدایت کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اور آئینی بینچ کے سربراہ امین الدین خان کو انسانی حقوق سے متعلق ہمارے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر سننے کے لیے خط لکھیں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس متعلق خط تحریر کریں۔ علی امین گنڈا پور ایپکس کمیٹی کو خط لکھ کر شہباز شریف کے لگائے بھونڈے الزامات کا جواب دے۔
ہم کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہے صرف قانون کے مطابق انصاف مانگ رہے ہیں ۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا جو حال ہو چکا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ سپریم کورٹ میں آج جو ہوا وہ اسی ترمیم کا نتیجہ ہے ۔ نامکمل اسمبلیوں سے ہونے والی قانون سازی بنیادی حقوق سے متصادم ہے ۔ہم عدلیہ پر دباؤ اور ان کے احکامات ہوا میں اڑانے کی مذمت کرتے ہیں ۔ جس ملک میں نظام انصاف ہی زنجیروں میں جکڑا ہو گا وہاں کسی اور کو کیا ہی آزادی ملے گی-“
@AUKhanOfficial1 جس ملک میں احتساب نہ ہو وہاں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ ایسے ممالک میں طاقتور کا قانون چلتا ہے۔ اور ہماری عوام بھی تو ایسی بے حس ہے کہ سارا عذاب سہہ لیں گے لیکن پرامن احتجاج نہیں کریں گے
طالب علموں کو ایک لاکھ electric bike مفت ہم دینے جا رہے ہیں بس انہوں نے پندرہ ہزار ایڈوانس دینا ہے اور پھر دو ہزار مہینے کی قسط۔
اخے مفت:)
کہاں سے اتے ہیں یہ لوگ:))
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے پیغمبرِپاک صلی اللہ علیہ وسلم کےنواسےراہِ حق پر تھے،کوفہ کےلوگ یزید کےخوف سےانکی مدد کو نہ نکلےاور اسلام کےعظیم ترین المیےکووقوع پذیرہونےدیاگیا۔ہر دور کااپنایزیدہوتا ہے۔مجرموں کےبرسرِاقتدارگروہ،جسےتبدیلئ حکومت کی امریکی سازش کےذریعےحکومت میں لایاگیااور
🚨 اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوششیں: عمران خان کی رہائی اور علاج ہی واحد ہدف ہے! 🚨
جب حق کی آواز مضبوط ہوتی ہے، تو باطل ہمیشہ سازشوں کا سہارا لیتا ہے۔ آج کل کچھ مخصوص لوگوں سے من گھڑت اور گمراہ کن بیانات دلوا کر ہماری اسٹریٹ موومنٹ (Street Movement) سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لیکن یاد رکھیں، یہ سستے حربے اب کام نہیں آئیں گے۔ عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ کون سچا ہے اور کون منافقت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔
🎯 ہمارا واحد اور واضح ہدف:
عمران خان کا فوری اور بہترین علاج: لیڈر کی صحت اور زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
عمران خان کی فوری رہائی: یہ تحریک تب تک نہیں رکے گی جب تک کپتان باوقار طریقے سے ہمارے درمیان واپس نہیں آ جاتے۔
⚠️ منافقوں کے بیانات سے گریز کریں!
توجہ نہ بھٹکائیں: ان کرائے کے ترجمانوں اور منافقوں کا مقصد صرف عوام میں کنفیوژن پیدا کرنا ہے تاکہ تحریک کمزور پڑے۔ ان کی باتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کریں۔
اپنی طاقت کو متحد رکھیں: ہماری طاقت ہمارا اتحاد اور سڑکوں پر پرامن احتجاج ہے۔ کسی بھی منفی پراپیگنڈے کا شکار ہوئے بغیر اپنے مقصد پر فوکس رکھیں۔
لاپرواہی سب سے بڑا جواب ہے: جب ہم ان کے بیانات کو اہمیت دینا بند کر دیں گے، تو ان کی یہ سازش خود بخود دم توڑ دے گی۔
عزمِ مصمم:
ہماری اسٹریٹ موومنٹ صرف اور صرف عمران خان کے علاج اور ان کی آزادی کے لیے ہے۔ منافقوں کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کا موقع نہ دیں، متحد رہیں اور کپتان کی رہائی تک اپنی آواز بلند رکھیں۔ 🇵🇰💪🔥
مولانا کی باتوں سے اتفاق یا اختلاف صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب آپ کو لگتا ہو کہ وہ کوئی نظریے کے لیے لڑ رہے ہوں-
فوکس صرف عمران خان کے علاج اور رہائی پر رکھیں
عسکری ٹاؤٹس کی نورا کشتی کو اگنور کریں! یہ وہی بندہ ہے جس نے ۲۶ ویں ترمیم میں حکومت کی مدد کی تھی
#ReleaseImranKhan
سائفر بھولنا مت 🚨
ڈونلڈ لو نے جب پاکستان کے سفیر اسد مجید کو دھمکی دی کہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹاؤ تو وہ کس کو یہ پیغام دے رہا تھا کیونکہ وزیراعظم تو میں تھا
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟
The assault on my house today was first of all a contempt of court. We had agreed that an SP with one of our people would implement a search warrant bec we knew otherwise they would plant stuff on their own, which they did. Under what law did they break the gate, pull down trees
اطہر کاظمی صاحب کی بات تو ٹھیک ہے ۔ عمران خان تو صحافیوں کو چائے کیساتھ پاپے تک نہیں دیتا تھا اور سہیل آفریدی سرکاری خرچے پر 100 کے قریب صحافیوں کو لگژری سیاحتی دورہ کرارہے ہیں ۔
ویسے بھی بیانیہ اب عام آدمی خود بناتا ہے صحافیوں کے بس کی بات نہیں رہی
عمران خان نے آج تک جرنیلوں سے شدید ترین لڑائی ہونے کے باوجود دو باتیں کبھی نہیں کیں
کبھی کمپنی کے شہدا کی تضحیک نہیں کی
کبھی فوج کو جنگیں ہارنے کا طعنہ نہیں دیا
پھر بھی کمپنی عمران خان کی دشمن کیوں ہے سوچیئے؟ مسئلہ شہدا یا فوج کی عزت نہیں مسئلہ اقتدار پہ قبضے کا ہے!