اپوزیشن لیڈر ایک شیڈو پرائم منسٹر ہوتا ہے، دنیا بھر میں ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ مگر پاکس��ان میں ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے وہ کوئی خدانخواستہ غدار ہوتا ہے۔ اور یہ غداری کی ایف آئی آر اس کے خلاف درج کرائی جاتی ہے۔ تو اس پہ ہم سب کو شرم آنی چاہیے۔ کم از کم میرا اپنا سر تو جو ہے شرم سے جھک جاتا ہے اس پہ
سینیئر ��ہنما جمعیت علماء اسلام (ف) سینٹر کامران مرتضی
بلوچستان ہائی کورٹ میں آج ہماری ایک ایف آئی آر جو محمود خان اچکزئی صاحب کے خلاف لاج ہوئی تھی، غیر قانونی اور جھوٹی ایف آئی آر، ہم نے چیلنج کی تھی بلوچستان ہائی کورٹ میں۔ تو اس میں ہمارے ساتھ ہمارے بلوچستان ہائی کورٹ کے سینیٹر کامران مرتضیٰ صاحب، سینئر وکیل ریاض احمد خان صاحب ہمارے ساتھ پیش ہوئے۔ انہوں نے کیس کی رہنمائی کی۔ عدالت نے جو ایف آئی آر تھی اس کے سسپینشن، اس کو سسپینڈ کر دیا ہے، اس کے اوپر عملدرآمد کو روک دیا ہے۔ اور سٹیٹ کو اس پہ نوٹس جاری کر دیا ہے، کہ وہ اس کے اوپر ریپلائی جمع کرے کہ انہوں نے اس طرح کی غلط ایف آئی آر کیوں لاج کی۔ اب سٹیٹ آئے گی، فار دا ٹائم بینگ اور آگے کے لیے بھی اس طرح کی ایف آئی آر کے لیے انشاءاللہ راستہ روکیں گے۔ اور اس میں آئین کی، قانون کی اور پارلیمان کی آزادی یقینی بنایا جائے گا۔
وکیل قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
ملک میں انتخابات تو ہوتے رہے ہیں، لیکن 2024 کے حالیہ انتخابات میں جو ہوا دنیا میں کہیں بھی آپ اس کی مثال نہیں لا سکتے کہ جس پارٹی سے یہ خطرہ ہو کہ وہ الیکشن جیت جائے گی، تو اس کے انتخابی نشان (سمبل) پر پابندی لگا دی جائے۔ وہ بھی عدالت کے ذریعے!
Don't believe us, but Allama Iqbal says:
"Asia is a body of water and flowers, the Afghan nation is a heart within it.
From the expansion and expansion of Asia, from the corruption and corruption of Asia."
He says that if Asia is a body, then the Afghan nation is its heart. If this heart faces any difficulty, then the whole of Asia will be in difficulty. If this heart is happy, then the whole of Asia will be happy. Today this heart is in difficulty, that is why earthquakes are happening all over Asia.
There were two occasions in history when Pakistan was in difficulty. If Afghanistan wanted, it could have created problems for Pakistan. The first time, when the war broke out in 1965, the Afghan King Zahir Shah sent a message to Ayub Khan that our relations with India are in their place, but you should fight your battles without worrying, we will not stab you in the back.
The second time, when Pakistan was falling apart and Russia and India had made a decision, even then the Afghans sent a message that you should not worry about us. So why are you harassing Afghanistan? Some of our friends are trying to prove that we are acting as couriers between Iran and America. If that is the case, then definitely do it, but call a conference of our neighboring countries in Islamabad. Under the auspices of the United Nations, let Afghanistan, Pakistan, China, Turkmenistan, etc. sit at one table so that everyone can talk to each other.
These armies that are being prepared from here again, if you are keen on interfering in Afghanistan again, then in the name of Allah, congratulations to you. Whatever interference comes from Pakistan or anywhere else, you may be able to capture Kabul in three days, but it will be difficult to get out of there. British and Indian forces entered there twice, then the Russians entered there and after that the Americans came there. We are sounding the alarm, but if you are also keen on it, then in the name of Allah.
God willing, if Afghanistan is divided, there will be an earthquake in the entire region and the entire region will suffer from division. Don't bring up these things and keep these calamities away from yourself.
And as for Imran Khan, I don't know what has happened to him. I often say that if God forbid he was sick, crazy, or quarrelsome, then why did you make him the Prime Minister?
Opposition Leader Mahmood Khan Achakzai
عمران خان کی بہنیں ملاقات کے لیے آتی ہیں، انہیں ملنے نہیں دیا جاتا، یہ کیسے چلے گا؟ مہربانی کر کے اس دباؤ کو کم کریں، بہنوں کو ملاقات کرنے دیں اور سیاسی لوگوں کو بھی ملنے کی اجازت دیں۔ اگر آپ کے درمیان کوئی بات نہیں بن رہی، تو اس پر ہم بات کر لیں گے۔ اس مار دھاڑ سے آپ کو کیا حاصل ہوگا؟ آپ نے بھٹو کو مار دیا، اس کا آپ کو کیا فائدہ ہوا؟ بھٹو جب زندہ تھا تو کوئی خ��رہ نہیں تھا، وہ بارہ مہینے جیل میں رہا اور اس سے ملاقات کے لیے کوئی نہیں آ سکتا تھا۔ آپ نے غلطی کی، اسے مار کر شہید کر دیا اور آج اس کا مزار شہباز قلندر کے مزار سے بھی بڑی زیارت گاہ بن چکا ہے۔ اس کی بیٹی خون میں لت پت ہوئی، اس کا ایک بیٹا، دوسرا بیٹا اور وہ خود مارا گیا۔ اگر یہی ڈرامہ آپ نے عمران خان کے ساتھ بھی کرنا ہے، تو بسم اللہ کریں، لیکن پھر آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
دنیا اپنے بچوں کے جذبہِ حریت کو ابھارتی ہے۔ پشین سے چھوٹے بچے احتجاج کے لیے گئے تھے، کیا انہوں نے کوئی آسمان گرا دینا تھا؟ وہ صرف مردہ باد، زندہ باد کر رہے تھے کہ عمران کو رہا کرو ا��ر تحریک انصاف کے ساتھ زیادتی بند کرو، لیکن آپ نے ان پر اندھا دھند گولیاں چلا دیں اور تیس آدمی مار دیے۔ کیا اس طرح سے ملک چلتے ہیں؟ دنیا اپنے بچوں کے اس جذبے کو ابھارتی ہے اور آپ اسے کچل رہے ہیں، اس کے بعد پیچھے کی�� رہ جائے گا؟ صرف مینڈک رہ جائیں گے جو بس ٹر ٹر کرتے رہیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ سارا پاکستان زندہ باد ہو گیا ہے۔
خدارا مہربانی کریں! عمران خان کا مسئلہ ایک انتہائی آسان مسئلہ ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ وہ اس وقت پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، کوئی اس بات کو مانے یا نہ مانے۔ آج الیکشن کروا لیں، آپ کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے عمران خان پورے پاکستان میں کلین سویپ کر جائے گا۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے کوئی شرافت کا راستہ اختیار کریں، انہیں ملاقات کی اجازت دیں، ضمانت دے دیں، یا کوئی قانونی راستہ نکالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اپنی ہی بربادی کا سامان کریں گے۔
دنیا بھر میں جہاں کہیں پولیس کا ایک سپاہی نظر آتا ہے، تو پورے یورپ کے شہروں میں بھی لوگ پرسکون ہو جاتے ہیں کہ اگر کوئی جھگڑا ہوا تو یہ باوردی شخص اسے سنبھال لے گا۔ لیکن آپ نے یہاں یہ حال کر دیا ہے کہ جب کوئی وردی پوش نظر آتا ہے تو ہمارے لوگ ڈر کے مارے گھروں میں گھس جاتے ہیں کہ یہ تلاشی لے گا یا میری جیب سے کچھ نکال لے گا۔ پاکستان آرمی کی جو تھوڑی ��ہت عزت رہ گئی ہے، خدارا اسے خراب مت کریں۔ وردی پہن کر بدمعاشوں کے ساتھ بیٹھنے سے آپ پوری فوج کی عزت داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اپنا کام کریں، اور اپنے دائرہ کار میں رہیں۔ اگر آپ آئین کی پاسداری کریں گے تو ہم آپ کو سلیوٹ کریں گے۔ پاکستان آرمی زندہ باد، پاکستان کی ایجنسیاں زندہ باد! لیکن جب آپ آ کر ان غیر قانونی کاموں اور مصیبتوں میں شامل ہو جائیں گے، تو پھر معاملات خراب ہوں گے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
"Whatever you have, at least constitutionally, your child has the first right, if not the entire right. Regarding the Baloch, you talk about the 'Baloch Liberation Army' or whatever you call it, but you don't consider why this stage has come?
Pashtuns and Baloch; if their wrong census is removed, then the total population of all of us is equal to one district of Punjab. Rather, every district of Punjab is larger than the Pashtun and Baloch population. Our population is equal to one district of Punjab, but our resources are more than the resources of Europe. So why are we hungry? Why are we hungry?
You should admit to the Baloch today that your child has the first right and authority over your coast and resources. After that, if any Baloch fights, then we will also ask him, 'Baba, why are you fighting now?' Tell the Sindhi, 'Sindhi Mando! These coasts and resources belong to your child.' The poor Punjabi should also be assured of the same. Then we will see that Pakistan will become a great country.
When we talk about our rights, it is said that yes, it is against the army. Baba! Can there be any madman who would be against his army? There are armies all over the world. Our newspaper people make this mistake, now they may or may not, but the army is also a state force anyway.
Look, if we live in this world, then the existence of armies in the world is a fact. You should not isolate Pakistan from the world. The army is bigger than Pakistan's army belongs to America, Russia, France and I don't know what kind of weapons such and such a country has. It is accepted in the world that the army is a state force.
However, man, with his collective wisdom, had decided centuries later that a man who has a sword in his hand will not sit in a jirga or panchayat. If he is fond of wielding a sword, he should go to the battlefield and protect the borders. And if he wants to come here (in politics or governance), then he should put down his sword, take off his uniform. Give it, and come with the Bismillah.
We are neither against the forces nor the agencies, because no country can run without agencies. Intelligence agencies are the ears and eyes of countries, they should continue their work. But you are only busy with what this PTI guy is doing, what Akhtar Mengal is doing, what this person is doing? This is not your duty.
We have six, seven, eight agencies, and they are very competent civil agencies. You should let them do their real work. The rest is about the army, so brother, the army is our eyes."
Opposition Leader Mehmood Khan Achakzai
"آپ اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ فلاں کیا کر رہا ہے، پی ٹی آئی کیا کر رہی ہے، یا اختر مینگل کیا کر رہا ہ��؛ حالانکہ یہ آپ کی ڈیوٹی نہیں ہے۔
ہماری چھ، سات، آٹھ بہت اہل (کمپیٹنٹ) سول ایجنسیاں موجود ہیں۔ بھائی بات یہ ہے کہ فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی ہماری سر آنکھوں پر، لیکن انہیں اپنے دائرہ کار (فریم ورک) کے اندر رہنا چاہیے۔ آئین نے جو دائرہ کار مقرر کیا ہے، وہ اس کے اندر رہیں تو بسم اللہ۔
میں نے اسمبلی میں ایک بات کہی تھی، شاید لوگوں کو بری لگی ہو، میں نے کہا تھا کہ ہمارے موجودہ فیلڈ مارشل آئین کے تحت اٹھائے گئے اپنے حلف کا احترام کریں، تو میں ان کے ہاتھ چوموں گا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نے آج تک اپنے باپ، ماں، بھائی یا چچا کا ہاتھ نہیں چوما، لیکن فیلڈ مارشل صاحب اور ان کی ایجنسیاں اگر اپنے حلف کی پاسداری کریں۔۔۔ وکیلوں کو معلوم ہے کہ حلف کیا ہوتا ہے۔ جو شخص یہ حلف اٹھائے کہ 'میں نے سیاست میں حصہ نہیں لینا'، تو اب یہ بات کون مانے گا؟ ادھر ہم کوئی جمہوری سرگرمی یا احتجاج کرتے ہیں تو وہ ہمارے خلاف شروع ہو جاتے ہیں۔
پرسوں ہمارا جلسہ تھا، اس میں میں نے اپنے بلوچ بھائیوں اور دیگر لوگوں سے بھی یہی کہا تھا کہ بھائی! دن دہاڑے آپ کی سڑکوں پر ہماری لاریاں (ٹرک) جلائی جاتی ہیں، لوگ مارے جاتے ہیں۔ غریب لوگوں کی تین تین کروڑ کی لاریاں جلا دی گئیں۔ ابھی ہرنائی میں تقریباً بیس سے زیادہ لاریاں جلائی گئیں۔ پہاڑوں کے اوپر ملیشیا کی چوکیاں (پوسٹیں) ہیں، ان کے پاس بہترین کیمرے نصب ہیں، لیکن دن دہاڑے ڈرائیور کو اتار کر گاڑی کو آگ لگا دی جاتی ہے اور ملزم آرام سے چل پڑتا ہے۔
آخر یہ کون کر رہا ہے؟ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بی ایل اے (BLA) ہے، لیکن آپ ہی کے نام سے کوئی شخص یہ کام کر رہا ہے۔ آپ کے نام سے، آپ کے علاقے میں اور آپ کے گاؤں میں یہ سب ہو رہا ہے۔ میری اس بات کو بعض لوگوں نے مسئلہ بنا دیا۔
اب آپ خود دیکھیں، اگر کسی کے ساتھ بے انصافی ہوتی ہے، تو وہ ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ کرتا ہے۔ لیکن جب ایک غریب آدمی ڈپٹی کمشنر کے پاس جاتا ہے، تو جس کے خلاف وہ ایف آئی آر (FIR) درج کروانا چاہتا ہے، وہ ملزم پہلے سے وہاں بیٹھا کیک اور پیسٹریاں کھا رہا ہوتا ہے۔ اگر وہ آئی جی کے پاس جاتا ہے، تو وہی بلا وہاں بھی بیٹھی ہوتی ہے۔ تو پھر ہم شکایت کہاں درج کروائیں؟
جب نہ ریاست ہماری ذمہ داری لیتی ہے، نہ حکومت اور نہ ہی پولیس ہماری ذمہ داری لیتی ہے، تو پھر ہم کیا کریں؟ ہم مجبور ہیں۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
"آئینِ پاکستان میں غداری کی واضح تعریف موجود ہے۔ آئین کے مطابق، جو شخص آئین کو پامال کرتا ہے، وہ سنگین غداری (High Treason) کا مرتکب ہوتا ہے۔
آپ قانون دان اور باشعور افراد ہیں؛ آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ اس وقت ملک میں آئین، آزاد عدلیہ اور پارلیمان کی کیا حالت ہے۔ ماضی کے جن آمروں پر ہم تنقید کرتے ہیں، ان کے ادوار میں بھی کام کرنے کا کوئی نہ کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود تھا۔
'تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان' ایک ایسی منفرد تحریک ہے جو عوامی سطح پر خود منظم ہوئی ہے۔ اس میں پسے ہوئے طبقات کی نمائندہ جماعتیں، مینگل برادران، اہلِ تشیع کے جید علما اور پنجاب کی متعدد سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ پاکستان کو درپیش موجودہ حالات میں کسی بھی محبِ وطن اور شریف النفس پاکستانی کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوگی۔
ہر وہ محبِ وطن انسان جو ملک میں پارلیمان کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور آزاد صحافت کا متمنی ہے، اور جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آئین نے ہر ریاستی ادارے کی حدودِ کار متعین کر دی ہیں، وہ اس وقت ملک میں موجود نہیں ہے۔ اگر ہم ان حالات پر یونہی خاموش رہے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
میں معذرت خواہ ہوں کہ بسا اوقات جذبات میں آ کر تلخ باتیں کہہ جاتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج ماتحت عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک، کوئی جج یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کے دفتر میں خفیہ اداروں کے اہلکار موجود نہیں ہیں، یا ان پر مرضی کے فیصلے صادر کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جا رہا۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
"جب پاکستان کی تشکیل ہوئی، تو آپ نے سیاسی لوگوں کو باہر کر دیا۔ ملک چلانے کے لیے لوگوں کی ضرورت تھی، لیکن آپ نے باچا خان کو فارغ کر دیا، بلوچ قیادت کو فارغ کر دیا، جمعیت علماء اور جماعت اسلامی کو فارغ ��ر دیا۔
میں معذرت خواہ ہوں، لوگ اس بات پر ناراض ہوتے ہیں لیکن، پاکستان کا یا کوئی بھی مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ سچ، اور بالکل صاف سچ نہ کہا جائے۔
باچا خان کو متوازن (بی��نس) کرنے کے لیے انٹیلیجنس والوں یا کچھ یار لوگوں نے مشورہ دیا کہ فلاں زمیندار کو شامل کر لو، فلاں خان کو شامل کر لو، فلاں آدمی کو لے آؤ۔ بلوچ قومی آزادی کی تحریکوں کا راستہ روکنے کے لیے فلاں نواب اور فلاں سردار کو شامل کر لو۔ اسی طرح پنجاب سے فلاں چوہدری کو شامل کر لو۔
پہلے دن سے ہی ان لوگوں کو لانے کے لیے... آخر وہ کیوں آتے؟ وہ کیوں شامل ہوتے؟ ان کی وفاداریاں خریدنے کے لیے کسی کو مربیے دیے گئے تو کسی کو کچھ اور دیا گیا۔ یعنی ہم نے غیر ارادی طور پر پاکستان کے معاشرے میں کرپشن داخل کر دی (We injected corruption in the society of Pakistan)۔
آج بھی اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم سب کی نفسیات یہ بن چکی ہے کہ اقتدار میں آنے والے کو سلام کرو، اس کے گلے میں ہار ڈالو، اور جانے والے کو گالیاں دو۔ پاکستان آج جن بحرانوں میں مبتلا ہے، ان کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔
لوگ ہماری ان باتوں پر ناراض ہوتے ہیں۔ آپ وکلا (Lawyers) ہیں، یہ آپ کا میدان ہے۔ بڑی مشکلوں سے 1973 کا ایک آئین بنا، اور وہ بھی ��اکستان کے دو لخت ہونے کے بعد۔ جب پہلے الیکشن ہوئے تو ہم نے ان کے نتائج تسلیم نہیں کیے، جس کے نتیجے میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور... میں کیا کہوں، خدانخواستہ پاکستان ٹوٹ گیا۔
پھر بھٹو صاحب نے انتخابات سے قبل (before elections) ہی اسمبلیاں توڑ دیں، جس میں گڑبڑ ہوئی، ایک نیا طوفان اٹھا، اور غریب بھٹو پھانسی چڑھ گیا۔ آئندہ نو، دس سال اس ملک کے ساتھ کیا کیا گیا، وہ تفصیلات آپ کو معلوم ہیں۔
اگرچہ 1973 کے آئین پر ہمارے تحفظات تھے، کیونکہ یہ ایک ساتھ جڑے ہوئے پشتونوں کو ایک صوبے میں اکٹھا نہیں رکھ سکا تھا۔ لیکن ان تحفظات کے باوجود پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (جو اس وقت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کہلاتی تھی) کے وفود نے اسلام آباد میں آئین بننے کے جشن میں شرکت کی۔ غرض یہ آئین بڑی مشکلوں سے بنا تھا۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
ہمارے ساتھ یہاں سے ایک منٹ (کی مسافت پر)، تھوڑا آگے کے علاقے سے لے کر راغے تک جتنے بھی قبیلے رہتے ہیں، ایک شخص نے ان سے کہا کہ 'یہ جو خان ہے، یہ غریبوں کا خان ہے'۔ الیاس زئی خان، فلاں خان، رئیس خان، چیز خان، کیرانی خان، زرکون خان اور بشام تک دور دور تک کے یہ سارے خانان... کسی ایک بندے نے ان سے کہا تھا (اب وہ بندہ کون ہے؟ مجھے تو معلوم ہے لیکن میں نام نہیں لیتا کیونکہ مجھے شرم آتی ہے)۔
اس نے ان سے کہا، یہاں کے گورنر کو بلایا اور کہا کہ 'یہ جو خان ہے اس سے کہو کہ اس پورے علاقے کے مشران (بزرگوں) کو بلائے'۔ یہ جو طوانو کاکا کا خاندان ہے، یہ الیاس زئی ہیں، یہ شمشوزئی ہیں، یہ غبیزئی ہیں، یہ شاہ خواشے زئی ہیں، ان تمام عزیزوں اور ان کے مشران کو بلایا گیا تھا کہ 'آپ لوگ، آپ لوگ محمود کو ووٹ نہیں دیں گے'۔ یہ فلاں لوگوں کا فیصلہ تھا۔ یہ اس کا فیصلہ تھا کہ آپ کا ووٹ محمود کی طرف نہ جائے۔
میں نے یہ بات الیکشن میں بھی کی تھی۔ میں اس وقت جوان تھا، گلستان میں کھڑا تھا، ملک غلام سرور، میں اور خان شہید کے ساتھی سب ایک ساتھ تھے۔ میری عمر کوئی 24 یا 25 سال تھی۔ تو مجھے کہنے لگے کہ 'تم نے وہاں پر کیا حل نکالا ہے؟' (ہاتھ کا اشارہ ایسے کر کے)۔ وہاں پر کیا حل نکالا ہے؟ کس چیز کا حل؟ کل یا پرسوں پھر الیکشن ہے، یا تین دن بعد الیکشن ہے۔ وہاں پر کس چیز کا حل؟ یہ جو میری آنکھیں ہیں، یہ جو میری آنکھیں ہیں، یہ حل چاہتی ہیں۔ کس چیز کا حل کریں؟ الیکشن تو ہو رہا ہے، کاغذات جمع ہو چکے ہیں، اور انتخابی نشانات بھی آ چکے ہیں۔ یہ جو میری آنکھیں ہیں، میں ان چکروں میں نہیں پڑتا۔ میں خان شہید کا ساتھی ہوں۔
میں یہاں پر آیا۔ یہ جو آغا محمد نے کارروائی کی ہے، یہ جمعہ خان اور جمعہ خان کے ساتھیوں پر، بازار میں... خدا رحم کرے، ہمارے جوان، ہمارے لوگ اور یہ ساتھی، خدا ان کو زندگی دے، باقی تو سب ایک ایک کر کے مر چکے ہیں۔ ہم پائیندہ خان کے ہوٹل میں روٹی کھا رہے تھے، ایک غریب اور دوسرا (شخص) بھی ساتھ تھا۔ ہم نے روٹی کھائی اور میں وہاں کرسی پر بیٹھ گیا۔ تو یہ جو ہے نا، غلام سرور بھی ہمارے ساتھ تھا۔ میں جب آیا تو یہ آغا محمد نے... یہ جو ایک چھوٹی سی سرائے ہے، وہاں پر کریم خان کا ہوٹل ہے (خدا اس کی مغفرت کرے)، طوانو کاکا کا بیٹا، کریم خان وہاں بیٹھا تھا، وہ آغا محمد ہے اور غلام سرور بھی ہمارے ساتھ تھا۔ ہم نے کیا کیا؟ کریم خان کہتا ہے کہ 'میں نے غفار کو یہاں بلایا ہے، غلام سرور! کہ ہم یہاں قندھار کے گورنر سے ملاقات کریں گے'۔"
قاعد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
مستونگ: پاکستانی فورسز پر حملے اور شدید نوعیت کی جھڑپیں
مستونگ کے علاقے کانک و پنجپائی میں پاکستانی فورسز اور بلوچ آزادی پسندوں کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں جاری ہے۔ فورسز کو دھماکے اور مسلح حملوں میں جانی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔
پشتون بچی کا کچے کا ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا کا معاملہ
یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، اگر حکمران کچھ نہیں کرسکتے تو پھر پشتونخوا وطن کے لوگ اپنا فیصلہ خود کرلیں گے۔
جیل میں قید عمران خان کو بحیثیت قیدی ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں ان کی ملاقاتوں پر پابندی ہٹائی جائے تمام ارکان اسمبلی نے آئین کے دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے ہم ائین کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت نہیں دیں گے محمود خان اچکزئی
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اپوزیشن الائنس کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد
تحریک تحفظ آئين پاکستان سربراه پشتونخوا ملی عوامی پارٹی چئيرمین قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی میڈیا نمائندگان سے گفتگو
As Mahmood Khan Achakzai , in the capacity of the position I hold i.e Opposition Leader and Head of Largest political Alliance of Opposition in Pakistan Tehreek-Tahafuz - Ayin- e Pakistan @TTAP_OFFICIAL, I ask you in very soft words that
میں محمود کی حیثیت سے پوچھتا ہوں کہ حکومت ہمیں واضح ترین الفاظ میں بتائیں کہ عمران خان سے ملاقات کب ہوگی؟ اور اسے کب اس کے مرضی کے ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟