اسلام آباد میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج کو آج بائیس روز مکمل ہو چکے ہیں۔
ریاستی دارالحکومت میں جاری اس پُرامن احتجاج کو نہ تو اقتدار کے ایوانوں سے کوئی توجہ حاصل ہوئی، اور نہ ہی اربابِ اختیار کی جانب سے کوئی سنجیدہ ردعمل سامنے آیا۔
تاہم، ریاستی بے حسی اور مسلسل جبر کے باوجود، یہ مائیں، بہنیں ��ور بیٹیاں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں جیسے سنگین انسانی المیے کے خلاف مسلسل سراپا احتجاج ہیں، اور اپنے مؤقف پر ثابت قدمی سے قائم ہیں۔
اسلام آباد میں موجود سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان، طلبہ، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور ضمیر رکھنے والے تمام افراد سے اپیل ہے کہ وہ اس احتجاجی دھرنے کا ساتھ دیں، اس میں شرکت کریں، اور اپنے وجود، آواز اور یکجہتی سے اس جدوجہد کو تقویت بخشیں
ہماری خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے، اور ہماری شرکت مظلوموں کو حوصلہ۔ اب وقت ہے کہ ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے اس اجتماعی مزاحمت کا حصہ بنیں۔
#ReleaseBYCLeaders
اسلام آباد انتظامیہ کی بے حسی اور جبر کا عالم یہ ہے کہ بلوچ مظاہرین، جو صرف اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کے لیے آئے ہیں، انہیں نہ پریس کلب کی حدود میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے، نہ ٹینٹ لگانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس، انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ شدید بارش اور خراب موسم میں بھی سڑک پر بیٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔
یہ کسی بھی مہذب ریاست کا بنیادی اخلاقی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق دے، خاص طور پر ان خاندانوں کو جو صرف اپنے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہے، چونکہ یہ بلوچستان کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اس لیے ان سے اس قدر بے رحمی سے پیش آ کر گویا ان کی مظلومیت کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔
یہ عمل نہ صرف انسانی ��قوق کی پامالی ہے بلکہ ریاستی تعصب اور عدم برداشت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
معزز دوستو!
جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 22 مارچ کی صبح پانچ بجے میری بہن، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بیبو بلوچ کے ہمراہ ایک پُرامن احتجاجی دھرنے سے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔ انہیں کالونیل دور کے قانون “تھری ایم پی او” کے تحت دیگر ساتھیوں سمیت ہدہ جیل میں قید کیا گیا ہے۔
ہم، یعنی لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی، نے ابتدا ہی سے ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر دوستوں کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا اور عدالت سے رجوع کیا۔ تاہم، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ معزز عدالت ہمیں انصاف فراہم کرنے اور منصفانہ فیصلہ کرنے کے بجائے مسلسل حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے فیصلوں پر انحصار کر رہی ہے۔
10 اپریل کو عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے کیس کی سماعت مکمل کی۔ فیصلہ اسی دن یا اگلے دن متوقع تھا۔ ہمیں اُمید تھی کہ عدالت “تھری ایم پی او” کے اس غیر قانونی کیس کو ختم کر کے ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے تمام ساتھیوں کی فوری رہائی کا حکم دے گی، کیونکہ حکومتی وکلاء کے پاس ان کے خلاف کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود، عدالت نے چار دن تک فیصلہ مؤخر رکھا اور 15 اپریل کو فیصلہ سنانے کے بجائے کیس کو ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ اور حکومت خود اس کیس میں فریق ہیں، جنہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کی پوری قیادت کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہے۔ ہم نے انہی غیر قانونی اقدامات کے خلاف عدالت سے انصاف کی اپیل کی تھی، مگر عدالت نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے اختیار ایک ایسی حکومت کے سپرد کر دیا جو خود ہم پر ظلم کر رہی ہے۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد “تھری ایم پی او” کے تحت گرفتاری میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی۔ ہم نے دوبارہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے ابتدائی سماعت میں تمام دلائل سننے کے بعد حکومتی وکلاء کو ہدایت دی کہ اگلی پیشی میں ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت تمام گرفتار افراد کے خلاف ثبوت فراہم کیے جائیں۔ اگر ثبوت پیش نہ کیے گئے تو عدالت انہیں رہا کر دے گی۔ تاہم، اگلی پیشی میں حکومتی لیگل ٹیم کوئی ثبوت یا دلیل پیش نہ کر سکی۔
ہمیں اُمید تھی کہ عدالت اپنے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے انہیں رہا کر دے گی، لیکن ہمیں شدید حیرت ہوئی کہ عدالت نے اپنے ہی اصولوں اور روایات کے برخلاف کیس کو پانچ دن کے لیے مزید ملتوی کر دیا اور حکومتی ٹیم کو پیر کے روز دوبارہ ثبوت اور دلائل پیش کرنے کا موقع دیا۔ حالانکہ معزز جج صاحبان گزشتہ دو ماہ سے اس ایک ہی کیس کی سماعت کر رہے ہیں اور حکومتی ٹیم کو بار بار ثبوت پیش کرنے کا حکم دے چکے ہیں، مگر وہ اب تک ناکام رہے ہیں۔ اس کے باوجود معزز عدالت مسلسل سماعت ملتوی کر رہی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام دوستوں کے کیس کو مسلسل مؤخر کرنے سے عدالت اور جج صاحبان کے وقار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے اور عوام کا اعتماد بھی عدالت سے اٹھ رہا ہے۔
کل، بروز پیر، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر دوستوں کی دوبارہ پیشی ہے۔ ہم تمام وکلاء برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کل عدالت میں ہماری مدد کریں اور کورٹ روم میں موجود رہیں۔
#ReleaseBYCLeaders
میری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو بلوچ اور گلزادی کو تھوڑی دیر پہلے ہُڈا ڈسٹرکٹ جیل سے CTD اہلکاروں نے زبردستی اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر CTD نے ان پر تشدد کیا، بالخصوص ماہ رنگ اور بیبو کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ اس کے بعد وہ بیبو، کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ ہم اپنی وکلاء ٹیم کے ساتھ ہدہ جیل میں موجود ہیں۔ براہِ کرم اپنی آواز اٹھائیں
Here's another image of Iran in 1952 - many women protesting against Western interventionism. But the image of a politically motivated womankind, that is also socialist and anti Western imperialism, isn't really the one white feminists want.
"Just wear dresses, and shut up."
آج کا دن دنیا بھر میں بسنے والے ان خواتین کے نام جو ہر قسم کی تشدد کے خلاف مزاحمت اور بہادری کی علامت بن چکی ہیں
آج کا دن ان بلوچ ماؤں اور بہنوں کے نام جو ریاستی تشدد کا کئی دہائیوں سے مقابلہ کررہی ہ��ں
آج کا دن ہر اس عورت کے نام جو ظلم سہنے خاموش رہنے سے انکاری ہیں
آج کا دن آج کے نام جو ہمیں لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے
آو ایک ایسے سماج کی تشکیل کریں جہاں صرف آٹھ مارچ نہیں ہر دن خواتین کے نام ہو انکی بہادری اور جرات کے نام ہو ۔۔!
#InternationalWomensDay
عامر بلوچ کا تعلق مستونگ بلوچستان سے ہے جو ایک اسٹوڈنٹ ہے بلوچ کے بچے ٹارچر سیلوں میں جوان اور جوانی سے بوڑھے ہوجاتے ہیں وہاں سے نیم زندہ جانیں لاشیں یا تو وہ بھی نہیں آتی ہیں جو خواب انکیلئے والدین دیکھتے ہیں وہ خواب ہی رہ جاتے ہیں۔
#ReleaseAmirBaloch
Hope the world is watching this. Hope the world is seeing how the voice of the oppressed from the Pashtun belt has been severely injured in unprovoked firing simply for demanding his right to be present during counting of votes. There must be accountability for this disgusting
اسلام آباد : سازشوں کے اس شہر اقتدار میں ہماری آخری رات :
جبر کی ایسی کئی راتیں ہم نے حوصلوں سے مات دی ہیں سرد راتوں کو کانپتی مائیں سینے سے لگائے اپنے بچوں کی تصویریں کھلا آسمان چاروں اطراف بندوق بردار اور ہم نہتے لوگ ۔۔۔!
بڑی بڑی عم��رتوں سبز اور سرخ بتی والی گاڑیوں میں بیٹھے اقتدار کے پوچاریوں کی نگاہوں میں ہم چھوٹے ضرور نظر اتے ہیں
مگر ہمارے حوصلے بولان کی سنگلاخ پہاڑوں کی طرح بلند ہیں
ہم نے ظالم کی طرف انگلی اٹھا کر اسکے منہ پر اسے ظالم اور جابر کہا اسکی بربریت کی کہانی انکوں بتاتے ہوئے ہچکچائے نہیں ان قلم پروش ضمیر پروشوں کی طرح ڈرے نہیں ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے رہے :
ہم نے ایسی سیاہ تاریک راتیں پہلے بھی دیکھی ہیں مگر اس سحر کی امید ہماری جیت کی چاہ ہمارے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیتی ہیں ۔
ہم اس وقت تک لڑیں گے جبتک لڑنے کی ضرورت باقی ہے
یہ لڑائی صرف بلوچوں کی نہیں پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والی زیر دست اقوام کی لڑائی ہے جس کو منزل تک پہنچائیں گے
رات باقی ہے سفر اور سفر اور سفر
#MarchAgainstBalochGenocide
ہمارے بچے بھی شعور کے اس سطح تک پہنچ چکے ہیں کہ خاموشی میں موت اور مزاحمت میں زندگی کے نظریہ کے ساتھ ہے۔
اور آپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ آپ اس تحریک کو طاقت اور تشدد سے شکست دے سکتے ہو۔
ڈرتے وہ لوگ ہیں جنہیں اپنا عیش و عشرت کھونے کا ڈر ہو،
ہمارے تو گدان بھی جل چکے ہیں۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#IStandWithBalochMarch
New year resolution for leftist dudes posing for their status updates in Che Guevara caps, and fishing for appropriate poetry to go with it, while gaslighting victims of harassments in their organisations:
1. Educate myself
2. Quit politics if can't do the first.
No caption needed.
But if you care about us, escalate your efforts and do whatever you can to stop this genocide and demand a ceasefire before the end of this year. We can’t take it anymore
Dr Zaheer Baloch's whereabouts remain unknown;his life is in danger, while 100+ students, along with missing persons families,r still not released. @ICT_Police must release all d protesters till tomorrow,or otherwise,we will be forced to take hard steps.
https://t.co/W0Z5CZrmJU
We are not being given any info about our arrested friends, including PhD scholar Dr. Zaheer. We make it clear that if the state wants to talk to us, then first release all of our colleagues; without it, we don’t talk to the state.
#MarchAgainstBalochGenocid