میری 21 اکتوبر کی ٹویٹ پر معزرت کا مطالبہ ٹویٹ کے متن کو نہ سمجھنے یا جان بوجھ کر اسکو غلط رنگ دینے پر مبنی ہے۔ اس ٹویٹ میں خیبر پختونخواہ اسمبلی یا خیبر پختونخواہ کی پارٹی تنظیم پر ہرگز کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے ممبران اور تنظیمی عہدیداران عمران خان کے وفادار ہیں۔ میری ٹویٹ ایک ممکنہ بیرونی سازش کے تناظر میں کی گئی تھی۔ کسی قسم کی معزرت کی ہر گز ضرورت نہیں۔ پارٹی کے اندرونی نظم پر حملے ابھی ختم نہیں ہوئے۔
میں نے عرض کیا تھا کہ ایران کے ساتھ بارڈر بند کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔ بارڈر کو فورا کھول دیں ورنہ بڑا نقصان ہوگا۔ ظاہر ہے مجھے ایران کے ردعمل کا اندازہ تھا۔ اور یہ بھی کہ یہ کیسا ہوگا۔
پاکستانی حکومت نے لیکن لِیت و لَعَل سے کام لیا جس کا اب نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔
ایرانی بزنسمین اب پاکستان کو سستے داموں LPG بیچنے پر آمادہ نہيں ہیں۔ کہہ رہے ہیں ہم نے اس کے لئے بہتر مارکیٹ تلاش کر لی ہے۔ آپ پہلے ہماری شرائط مانیں پھر تجارت ہوگی۔
آبنائے ہرمز بھی بند ہے۔ اب قطریوں سے بھی پاکستان گیس نہیں خرید سکتا۔ شریف خاندان کو بھاری کمشن بھی نہيں ملے گا۔ اس لئے ایران کی شرائط مان کر ایران سے ہی LPG خریدنی پڑے گی کیونکہ باب المندب اور آبنائے اب کئی سال بند رہیں گے۔ درست پڑھا۔۔۔کئی سال۔
بابک زنجانی @babakzanjani_ch کا یہ مطالبہ سو فیصد درست ہے کہ ایرانی ٹرکوں اور ان کے ڈرائیورز کو 48 گھنٹوں سے زیادہ پاکستان میں پروسیجر کے نام پر نہ روکا جائے۔ عزت و احترام کے ساتھ دو دن میں واپس بیجھا جائے۔ انہيں ہفتوں پاکستان میں بارڈر کے نزدیک ذلیل نہ کیا جائے یہاں نہ کچھ کھانے کے لئے ہے نہ پینے کے لئے اور نہ استراحت کے لئے کوئی جگہ ہے۔
ایسا بھی ہوا ہے کہ ایرانی ڈرائیورز دو دو مہینے ایران کی طرف یا پاکستان کی طرف بیابان ویرانے میں پھنسے ریے ہیں۔ ان کا پیشہ ان کے لیے کڑی سزا بنا دیا گیا تھا۔ ڈرائیورز سے بات ہوتی تو وہ روتے تھے۔ اس لئے میں مسٹر زنجانی کے مطالبے کی پوری طرح سپورٹ کرتا ہوں کہ انسانی احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور دونوں طرف ایسا انتظام کیا جائے کہ ڈرائیورز دو دن سے زیادہ کسی بھی ملک میں معطل نہ ہوں۔
عمران خان صاحب سے اڈیالہ میں کئی بار خیبر پختونخواہ حکومت کے حوالے سے بات ہوئی۔ خان صاحب نے ہر بار کہا کہ عوام سے رشتے اور حکومت کے درمیان انتخاب کرنا ہو تو ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے رہنا۔ بیساکھیوں کے ذریعے یا جبر کی گود میں بیٹھ کر حکومت کرنے والی جماعتوں کا حشر ہمارے سامنے ہے: مصنوعی فارم 47 کا اقتدار اور عوام کی دھتکار۔ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت کو عوام سے رشتہ نہ توڑنے کی وجہ سے سلب کیا گیا ہے۔ مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ پارٹی کو ہر سطح پر اپنے اندرونی نظم اور اتحاد کو قائم رکھنا ہے۔ پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کو پارٹی کی رہنمائی کرنا ہے۔ مرکز اور صوبوں میں پارلیمانی پارٹیاں پارلیمان کے اندر پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کی طے کردہ پالیسی کے تحت کام کرتی رہیں گی۔ پاکستانی قوم عمران خان کے عوام دوستی کے نظریے کے ساتھ کھڑی ہے۔
”سب کچھ ختم ہوگیا ہے اب صرف قبائل کے پہاڑوں میں معدنیات باقی ہے اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، یاد رکھے قبائلوں تاریخ آپ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اگر ہم نے کھڑے نہیں ہوئے تو آنے والی نسلیں ہمیں گالیاں دیں گے.“- مرجان خان
ضم شدہ اضلاع پر مسلط غیر قانونی مشاورتی کونسل میں اہم عہدہ دیے جانے سے چند روز پہلے تک مرجان خان واضح اور پُرجوش انداز میں معدنیات پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی اپیل کر رہے تھے.
کیا اسی لیے پی ٹی آئی کو فوجی آپریشنز کی حمایت کرنے کے لیے 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی گئی تاکہ مقامی آبادی کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا سکے. آخر وہ کون سے وعدے ہیں اور کن کے ساتھ کیے گئے ہیں کہ معدنیات سے مالا مال قبائلی اضلاع میں مقامی آبادی کو اتنی عجلت میں آئی ڈی پیز بنانا چاہ رہے ہیں؟
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
کور کمیٹی میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہوئی ،دوسرا عمران خان نے فیصلوں کا اختیار پولیٹکل کمیٹی کو دیا ،کور کمیٹی کو بھی لوپ میں رکھنے کا یعنی فیصلے سے پہلے کورکمیٹی کو اعتماد میں لینے کا کہا گیا تھا،کورکمیٹی میں تعداد بہت زیادہ تھی فیصلے مشکل تھے کرنا اس لیے سیاسی کمیٹی بنائی گئی تاکہ ایک تو بات لیک کم ہو اور فیصلہ ہوسکے ،سیاسی کمیٹی میں تنظیموں کے سربراہاں کو شامل کرنے کی تجویز تھی ،اور بعد میں تحریک اور مزاکرات کا مینڈیٹ اچکزئی اور راجہ ناصر کو دیا گیا سٹریٹ مومنٹ کا اختیار سہیل آفریدی کے پاس ہے ،عمران خان کی اجازت کے بغیر کوئی بھی تبدیلی کیسے ممکن ؟ باقی یہ منتق بھی عجیب ہے کہ یہ عوام کے نمائندے ہیں ،نمائندے تو ہم بھی ہیں ہمیں ہرایا گیا یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ عوام کے ہم نمائندے نہیں ،عمران خان کی ایک ایک ہدایت تحریری فارم میں ہمارے پاس موجود ہے ،
کیا انکی رہائی پر وڈیو پیغام دینے پر بھی پابندی ہے مینا خان شفیع جان اور شاہد خٹک پر ؟ کیا یہ بھی میرا کوئی ایجنڈا ہے۔ پنجاب کے MPAs خاموش۔ MNA خاموش۔ سینیٹر خاموش۔ کے پی MPA خاموش۔ کوئی سمجھا دے کہ رہائی کاُمطالبہ کرنے سے بھی لوگ کیوں بھاگ گئے۔ اس کی سائنس سمجھا دیں۔
میں محترم چئیرمین گوہر صاحب اور محترم جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ صاحب کو کور کمیٹی سے اپنا استعفی پیش کرنا چاہونگا۔ اس پلیٹ فارم کےلیے خان صاحب نے ہمیں باہمی مشاورت سے پارٹی کی مفاد میں مربوط فیصلے کرنے کےلیے چنا تھا۔ ہم نے آخری حد تک برداشت کے ساتھ، مکمل اخلاص اور شب و روز کی تندہی کے ساتھ تمام معاملات پر پارٹی اور خان صاحب کو مضبوط کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے اب یہ پلیٹ فارم متاثر کن کارکردگی پیش کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ اس کی واضح وجوہات یہ ہیں کہ پارٹی آئین کے مطابق اس اہم فیصلہ ساز پلیٹ فارم کو یا تو بطور انجمن ستائش باہمی کےلیے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر ایسے ربر اسٹیمپ کے بطور جس کے زریعے کیے گئے غلط فیصلوں، غلطیوں، کوتائیوں یا نقصانات کی توجیہہ پیش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو پے درپے مسلسل ہر محاظ پر ناکامیوں کا سامنا ہے۔ جہاں اس پلیٹ فارم پر معزز میمبرز کو خان صاحب بھی مشاورت، اختلاف رائے اور تنقید کےلیے کھلے دل سے خوش آمدید کہتے تھے وہاں اب چند فیصلہ ساز دوست مشورے کو توہین اور اختلاف رائے کو جرم سمجھتے ہیں۔ تنقید کو تو بدقسمتی سے اب دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ ہر شخص آخر میں صرف اللہ اور اپنے ضمیر کو جوابدہ ہیں۔ شاید دوستوں نے کھلے نیت سے کوششیں کی ہوں، شاید ہم ہی غلط ہوں۔ لیکن اس بابت کبھی فراخدلی سے کوئی مکالمہ نا ہوسکا۔ ہم تین سال سے گزارش کرتے رہے کہ فیصلے اجتماعی ہوں۔ پارٹی تنظیم مضبوط ہو۔ ہر شخص اپنی زمہ داریوں کا احساس کرے اور پارٹی کو متحد کرکے تحریکی اہداف جس میں اول ترین خان صاحب کی رہائی ہے انکو حاصل کیا جائے۔ لیکن یہ امر قابل صد افسوس ہے کہ نیک نیتانہ گزارشات کو سنجیدہ لینے کے بجائے ہر بات میں سازش ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ فیصلہ ساز دوستوں کی انا اس قدر بلند ہے کہ کورکمیٹی تو چھوڑیں سوشل میڈیا پر بیس بائیس سال کے بچوں کی تنقید ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکو طنزیہ جواب دیے جاتے۔ اس پلیٹ فارم پر اظہار اختلاف پرمعتبر پرانے ساتھیوں کی برملا بے عزتی کی جاتی۔ کوئی تجویز دے تو وہ ارسطو کہلاتا، کوئی کسی ایکٹیوٹی کی تائید کرے تو رستم و سہراب جیسے طنزیہ القابات سے نوازا جاتا۔ کوئی تنظیم بنانے کی استدعا کرے تو اسکو عہدوں کے شوقین بتایا جاتا۔
اس بات پر فخر ہے کہ پارٹی کےساتھ اور خاص طور پر خان صاحب کے ساتھ 19 سال کا تعلق ہے۔ نا حکومتیں لوٹی نا کبھی کسی قسم کی مراعات کا الزام لگا۔ مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ سارا بلوچستان جانتا ہے کہ سیٹ اور وزارت و دیگر آفرز کے باوجود جن لوگوں نے ضمیر کا سودا نا کیا ان میں ہمارا بھی زکر ہوتا ہے۔ پارٹی کے لیے پیسہ، وقت، پسینہ اور خون سب حاضر کیا۔ بارہا سیدھی فائرنگ کا سامنا کیا لیکن میدان یا ساتھیوں کو اکیلا چھوڑنے کےبجائے گرفتار ہونا اور جیلوں میں جانا قبول کیا۔ دو درجن سے زائد دہشتگردی کے کیسوں کے ساتھ 70 سے زائد ایف آئی آر ہونگے۔ عہدے یا کمیٹیوں کو اعزازات کے بجائے ہمیشہ زمہ داری سمجھا۔ لیکن جب وہی عہدے یا اعزازات پارٹی کی مضبوطی و بہتری کی بجائے نقصان کا سبب بنے تو بلا ججھک نشست خالی کردی۔ نا یہ پہلی بار ہے نا آخری بار ہے۔ اللہ عمران خان کو سلامت رکھے، اسکے نام پر بطور ایک کارکن ہمیشہ حاضر رہینگے۔
والسلام
حامد میر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ تم “قومی اثاثہ “ فیصل واڈا کو اپنے پروگرام میں اکیلے بٹھا کر کیوں انٹرویو کرتے ہو ، تو اس نے کس ڈھٹائی سے جواب دیا کہ ایسے ہی عمران خان بھی ایک قومی اثاثہ تھا اور ہم اس ایک اکیلے ایم این اے کو بٹھا کر پروگرام میں سوال کیا کرتےتھے
اپنے اس جواب پروہ تنہائی میں ضرور شرمسارہوا ہو گا ۔ کیا منور حسن ، قاضی حسین احمد ، سراج الحق ، اختر مینگل ، محمود اچکزئی ، ولی خان ساجد میر ، مولانا سمیع الحق ، رسول پلیجو وغیرہ یہ سب بھی قومی اثاثہ تھے۔ یہ لیڈر بھی تو کبھی ایک ایم این اے والی یا کبھی بغیر کسی ایم این اے کی پارٹی کے سربراہ تھےاور آپ انہیں بھی پروگرامُ میں اکیلے میں بلاتے تھے ۔
کیا یہ سب فیصل واڈا کی جیسے تھے جس شخص کو پاکستان میں دس لوگ بھی نہ جانیں اگر آپ کا چینل اسے نہ دکھائے ۔ آپ نے اپنے دفاع میں عمران خان کا قد چھوٹا کرنے کی جو کوشش کی ہے ، لگتا ہے آپ جرنلزم تو چھوڑ انصاف کے بنیادی معیارات بھی بھول گئے ہیں ۔
عمران خان سیاست میں آنے سے پہلے بھی اس قوم کا ایک اثاثہ تھا اور آج بھی ہے اورآپ جیسے نوکری پیشہ شکست خوردہ صحافی اسے پاکستان کی تاریخ سے اب نہیں کھرچ سکتے ۔
کاش آپ جواب میں یہ سچ بول لیتے کہ آپ فیصل واڈا کو اپنے شو میں کیوں بلاتے ہو ، کاش ایسا ہو جاتا
کیا خان اسٹیبلشمنٹ کا اثاثہ تھا ؟ میر صاحب یہ 1990 نہیں کہ آپ کالم لکھیں گے اور نائی کی دوکان پر بیٹھ کر لوگ پڑھیں گے ہٰذا 2026 اب اگلے ماضی کی ویڈیوز اُٹھا کر منہ پر پھینک دیتے ہیں ! یہ تھا عمران خان دیکھو !
فاٹا کو خیبرپختونخوا سے الگ کر TTP کی سب سے بڑی ڈیمانڈ اسٹیبلشمنٹ نے پوری کر دی ہے ،
پہلے دہشتگردوں کو واپس بسایا اور اب یہ دہشتگردوں کے مطالبات پورے کررہے ہیں، یہ بند کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والے ہی دہشتگردوں کے بینفیشری ہیں
یہ سوچ اسلام کے اصولوں کیخلاف ہے اگر اسلام یہ تعلیم دیتا تو کبھی بھی ہجرت کو فرض قرار نہ دیتا ملک انسانوں کیلئے ہوتے ہیں انسان ملک کیلئے نہیں اس عسکری غیر اسلامی سوچ سے باہر نکلیں
گورنر راج لگا مزمل اسلم صاحب نے ایک ٹویٹ تک نہیں کی
وزیراعلی اغواء ہوا ایک ٹویٹ تک نہیں کی
اسپیکر اغواء ہوا ایک ٹویٹ تک نہیں کی
تاحال لاپتہ ہیں ٹویٹ نہیں ائی
بہت کچھ ہوا دو ہفتے گزر گئے ایک ٹویٹ تک نہیں ائی
گورنر راج کے بعد سب سے پہلا جواب شہباز گل کو دی جو ٹویٹ اپوزیشن پر کرنی تھی انہوں نے شہباز گل پر کردی
ایسی کیا مجبوری ہے کہ ایک ٹویٹ تک نہ کرسکا؟
ایک لڑکا ہے اس کا نام ہے حسنین رفیق ، صحافی ہے۔ آپ سب اسے جانتے ہیں۔ جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں وہ دکھاتا تھا۔ وہ کسی کالج بیکری فارمیسی والے سیٹھ کا نوکر نہیں۔ ساری زندگی کرائے کے گھر میں رہا ، اپنا گھر بنایا جو فوج نے تڑوا دیا۔ لاپتہ ہے۔ اس پر بدترین تشدد کی بھی اطلاعات ہیں۔
لیکن مشکل میں عاصمہ شیرازی اور حامد میر ہیں؟ جنکے گھروں کی مالیت کھلا کھلا بیس تیس کروڑ ہے؟ یعنی پریشانیاں وہ جھیل رہے ہیں جو بیس تیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں؟ جو چینل مالک کا پریشر گروپ ہیں؟ یعنی یہ جو کررہے ہیں وہ مشکل ہے تو جو حسنین رفیق کررہا تھا وہ آسان ہے؟
سٹے سٹرانگ حسنین رفیق ۔ سٹے سٹرانگ آزاد صحافت ، سٹے سٹرانگ مزاحمت ، سٹے سٹرانگ انکار ۔ چاپلوسی مردہ باد ۔ منافقت مردہ باد۔ حرام خوری مردہ باد۔ سیٹھ کے نوکر مردہ باد۔
ان صاحب نے ہر وہ کام کیا کروایا جس آج عمران خان نے منع کیا۔ یہ حوالدار مزمل اسلم صاحب ہیں۔ جو آج بھی KP کے فنانس کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ آج جو گروپ ہم سے تنگ ہے ۔ اس گروپ کی دل جگر جان تھے یہ صاحب۔ جب مزمل کو ایکسپوز کیا تو یہی گروپ اندرن خانہ انکو سپورٹ کرتا تھا۔
مزمل نے سرپلس بجٹ دہیے۔ فوجی آپریشن کئے لئے پیسے دئیے۔ 18 ترمیمکے پھڈے میں اضافی پیسہ بھی جنرلز کو دیا۔ سب سے بڑھ کر خان کی مرضی حکم کے خلاف بجٹ جلدی میں پاس کروایا - معدنیات کے بل کو پاس کروانے کی کوشش کی۔ ہر گندے کام میں جنرلز کی سہولیات کاری کی۔
زرا بوجھو تو جانیں کہ ان کے جگری یار کون کون تھے۔ سوشل میڈیا میں ؟ کیونکہ جب تک آپ کینسر cells کو تشخیص نہیں کریں گے۔ انکا علاج ممکن نہیں۔
ایک طرف خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کا بہانہ بنا کر آئین کو پامال کرتے ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے سخت اقدامات تھوپے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف حکومتِ وقت کی ترجیحات کا عالم دیکھئیے!
فارم 47 کے جعلی وزیراعظم شہباز شریف وادیِ تیرہ (ضلع خیبر) میں اس سابق عسکریت پسند کمانڈر کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں جس کے گروہ کے ہاتھوں ہزاروں بے گناہ اور معصوم شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
کیا ریاست کا قانون صرف عام اور مظلوم شہریوں کے لیے سخت ہے؟
جو عسکریت پسند کل تک ہزاروں پشتونوں اور پاکستانیوں کے خون کے ذمہ دار تھے، آج وہ کن سیاسی فائدوں کے تحت گلے لگائے جا رہے ہیں؟
اگر حالات اتنے ہی سنگین ہیں کہ پورے صوبے پر ایمرجنسی اور گورنر راج کی تلوار لٹکائی جائے، تو پھر ان خونریز ماضی رکھنے والے کرداروں کے ساتھ مسکراتی ملاقاتوں کا کیا جواز ہے؟
ایک طرف عوام کی منتخب حکومت پر امن کے نام پر قبضہ کرکے عوام کو خوف اور پابندیوں میں رکھا جا رہا ہے، اور دوسری طرف جن کے ہاتھوں پر خون کے دھبے ہیں، انہیں سیاسی و ریاستی مسندوں پر پروٹوکول مل رہا ہے۔
بہت بڑی مکاری یہ صاحب خود کر رہے ہیں عمران خان کے دور میںفوج جو بھی پابندیاں لگاتی تھی یہ ہر چیز کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیتے تھے آج کہتے ہیں ہمیں معلوم ہی نہیں کون کر رہا ہے بھئی اگر معلوم نہیں تو نواز شریف اور زرداری کا نام تو لو مریم اور بلاول کو ذمہ دار تو ٹھہراؤ یا اپنے پسندیدہ پارٹیوں کو کلین چٹ دینی ہے؟
اپوزیشن کی سنیں۔ اخے خان کے لئے لانگ مارچ فلاپ کر دیا۔ اخے کوئی نہیں نکلا۔ اخے خان کی سپورٹ ختم ہو گئی۔ اخے کے پی میں پی ٹی آئی ختم ہو گئی۔
بھائی لانگ مارچ کبھی پراپر پلان ہی نہیں ہوا تھا۔ نہ گنڈاپور نے۔ نہ بعد والے دوستوں نے۔ سب ورکر کو مطمئن کرنے کا منجھن تھا۔ ہاں ایک بار صرف ایک بشری بی بی اور خان کی کوورڈینیشن میں ڈی چوک پہنچا۔ اس میں بھی روڑے اٹکائے گئے۔ میں اس سب کا گواہ ہوں۔ ورنہ اگر پلان کیا ہوتا تو مینا خان شاہد خٹک شفیع جان ایک منٹ دو منٹ چار منٹ تو لانگ مارچ چلاتے۔ چلیں نہ چلاتے ورکر کو تو کہتے کہ لانگ مارچ جاری رکھو۔ یہ کوئی جادو تھوڑی تھا کہ سب خائب ہو گیا۔ میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ KP کا ورکر بزدل ہے یا خان کے ساتھ نہیں ہے۔ بد قسنتی سے ہماری تیاری ہی نہیں تھی۔
بار بار کہہ رہا ہوں مینا خان شاہد خٹک شفیع جان میرے اس سوال کا جواب دیں کہ 8 فروری 2024 سے آج تک خان کے کہنے پر KP حکومت نے کونسا کام روکا یا کیا۔ کون سا ایک کام جس سے خان نے منع کیا اور ہم منع ہوئے۔
ورکر آج بھی خان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جس دن ورکر کو درست طریقے سے آزمایا وہ کھڑا ہو گا۔ ورکر کی خواہ مخواہ توہین مت کریں۔