میں نے کبھی PMLN کی مخالفت نہی کی مشکل وقت میں بھی انکا ساتھ دیا لیکن اب بہت ہو گیا حکومت میں آنے کے بعد جو انہوں نے پیٹرول ڈیزل کی مد میں عوام کا کچومر نکالا ہے میری سات نسلوں کی بھی توبہ اللہ ان ظالموں سے ہماری جان بخشی کرواے
آمین
پیٹرول 458# روپے لیٹر شکریہ وزیراعظم پاکستان شکریہ پرائم منسٹر مریم نواز صاحبہ مری ہوی عوام کو مزید مارنے کا اب مہربانی کر کے کفن بھی مہنگا کر دیں تاکہ مری ہوی عوام آسانی دے دفن بھی نا ہو سکے ،
مظہر بھینسے @mazhar_barlas اپنی خبر ڈیلیٹ کیوں کر دی ؟ اس جھوٹی خبر پر تمھارا باپ معافی مانگے گا ؟
فیک نیوز کا یہ پر فیکٹ کیس ہے PECA اس گینڈے پر فٹ بیٹھتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صحافت خطرے میں آ جائے گی
کسی اور مُلک میں ہوتا تو اب تک سوئی مار کر اس کی ہوا نکال دی گئی ہوتی
دو دن پہلےکی بات میرے ایک انکل آرمی میں نوشہرہ تبدیلی ہوی ہےانکی ہوا یہ کہ کینٹ کے اندر سےانکی بائک کھڑی کرنے کے ایک منٹ بعد چوری ہو گئی چور اسکی جگہ کھٹارا بائک کھڑی کر گیےاور اسی دن چور کھٹارا بائک کے کاغز لاے اور آرمی کو دکھا کر وہ بھی لے گیےنیکسٹ لیول سیکیورٹی ہماری فوج کی👏
کیا شیتل اور زرک کے لیے دشمن ممالک کی فنڈگ پر پلنے والی مہارنگ بلوچ اپنے سوکالڈ جاہل وڈیروں سے سوال کرے گی انکے خلاف احتجاج کرے گی یا پھر وہاں سے بھی ہڈی مل گئی ہے چلو پنجابی تو غیر ہے یہ تو بچے تو اپنے تھے انکے لیے ہی آواز اٹھا دوں بلوچوں جہاہلوں کہا ہے وہ ایمان مزاری صاحبہ؟
آپ نے کوہستان کرپشن اسکینڈل پر کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیک��ی ہوں گی، لیکن اصل میں یہ اسکینڈل ہے کیا؟ 🤔🤔
آئیے آپ کو بالکل آسان الفاظ میں اس کی کہانی سناتے ہیں
خیبر پختونخوا کے بلند پہاڑوں کے بیچ ایک چھوٹا سا ضلع ہے، جس کا نام ہے "اپر کوہستان"۔ عام طور پر اس ضلع کو صوبائی حکومت کی طرف سے سالانہ صرف ایک سے ڈیڑھ ارب روپے ملتے تھے تاکہ علاقے میں کچھ سڑکیں، اسکول یا اسپتال بن سکیں۔ لیکن پھر اچانک، پچھلے پانچ سالوں میں یہاں سے تقریباً چالیس ارب روپے خرچ ہونے لگے۔
جی ہاں، آپ نے ٹھیک سنا: پورے چالیس ارب روپے!
مگر سوال یہ ہے کہ یہ اربوں روپے کہاں گئے؟ نہ کوئی بڑی سڑک بنی، نہ کوئی بڑا ہسپتال تعمیر ہوا، نہ ہی کسی غریب کے بچے کو ��چھی تعلیم ملی۔ یہ پیسہ ایسے غائب ہوا جیسے کبھی موجود ہی نہ تھا۔
یہاں پرانی ایک سیاسی جماعت یاد آتی ہے، جس نے "تبدیلی" اور "کرپشن کے خلاف جنگ" کے نعرے لگا کر ووٹ لیے تھے۔ جی ہاں! وہی سیاسی جماعت، وہی تبدیلی والے دعوے، وہی کرپشن کے خاتمے کے وعدے۔ لیکن اقتدار ملتے ہی کیا ہوا؟ یہی جماعت خاموشی سے دیکھتی رہی اور پہاڑوں کے بیچ موجود یہ چھوٹا سا ضلع کرپشن کی ایک خوفناک مثال بنتا چلا گیا۔
اب کہانی ذرا فلمی موڑ لیتی ہے:
ہوا کچھ یوں کہ چند سیاستدان، چند سرکاری افسر، چند ٹھیکیدار اور چند بینک کے لوگ مل کر جعلی چیک بناتے، اور اربوں روپے چپکے سے نکال لیتے۔ یہ چیک ہزاروں کی تعداد میں بنے، اور سینکڑوں اکاؤنٹس میں پیسے چھپ چھپا کر بھیجے گئے۔ ان پیسوں سے اسلام آباد اور پشاور جیسے شہروں میں بڑی بڑی کوٹھیاں، پلازے اور مہنگی ترین گاڑیاں خریدی گئیں۔ وہ ضلع جو غربت اور پسماندگی کا شکار تھا، اس کے نام پر نکلنے والے اربوں روپے چند لوگوں کے محلوں اور بینک اکاؤنٹس کی زینت بنتے رہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب ہو کیسے رہا تھا؟ تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی جماعت، کرپشن ختم کرنے والی سرکار، ان کی ناک کے نیچے سے اربوں روپے کی لوٹ مار کیسے جاری رہی؟ کیا یہ کرپشن انہیں نظر نہیں آ رہی تھی یا پھر انکے لوگ یہاں حصہ دار تھے جو خاموش رہے؟
پھر اچانک ایک دن حکومت کو ہوش آیا، کیونکہ کرپشن کا پیمانہ اتنا بڑھ گیا کہ اب اسے چھپانا ناممکن تھا۔ احتساب کے اداروں نے چھاپے مارے، تو کروڑوں روپے نقد، سونا اور جائیدادوں کے کاغذات سامنے آ گئے۔ صرف چند ہفتوں میں پتا چلا کہ کوہستان کے نام پر دراصل پورا ایک کرپشن کا مافیا سرگرم تھا۔
اب احتساب کے ادارے اور عدالتیں سرگرم ہیں۔ بڑی بڑی جائیدادیں ضبط ہو رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ چالیس ارب روپے کبھی واپس آئیں گے؟ کیا ذمہ داروں کو سزا ملے گی یا پھر یہ صرف اخبارات اور ٹی وی کی شہ سرخیوں تک محدود رہ جائے گا؟
یہ اسکینڈل ہمیں یہ سبق ضرور دیتا ہے کہ کرپشن کے خلاف لڑائی کا دعوی کرنے والے خود کیسے بڑے بڑے گھپلے خاموشی سے کرواتے رہے۔
یہ تھی کہانی کوہستان کرپشن اسکینڈل کی، جس نے تبدیلی سرکار کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کر دیا۔
اب یہ ویڈیوز شیئر کریں، تاکہ سب کو پتہ چلے کہ خیبر پختونخوا کے پہاڑوں میں تبدیلی کے نام پر کتنا بڑا کھیل کھیلا گیا۔
ہندوستان سمیت پوری دنیا کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان اور ہمارے دفاعی آدارے ہمہ وقت تیار رہتے ہے ہمارا بچہ بچہ ملک پر قربان ہونے کے لیے تیار ہے جس نے بھی میلی آنکھ سے ملک پاکستان پر نظر ڈالی تو آنے والی نسلوں کے لیےکتابوں میں تمہاری تباہی کے باب ہی چھپیں گے
پاک فوج زندآباد
کوی صدیوں پرانی بات نہی ابھی کچھ ٹائم پہلے کی بات ہے جب انٹسار خان TLP کے دھرنا دینے پر ظلم زیادتیاں کرتے تھے کارنوں پر سیدھی گولیاں چلاتے تھے کیمیکل والا پانی پھینکا جاتا تھا تب عم��ان ریاض جیسے بیغیرت کہتے تھےکہ انہیں ماروں قتل کروں اور اج خود کے ٹایم ریاض کو کتے کی زبان لگ گئی
سانحہ 9 مئی 25 لاشوں کا ڈھنڈورا پیٹا،
اور کل سے 200 لاشوں کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے عمران خان لاشیں کھانے والا گد ہے اور جو یوٹیوبرز فیک نیوز پھیلا رہے سب سے پہلے ریاست ایسے یوٹیوبرز کا حساب کرے اسکے بعد یہ ملک سہی راستے پر گامزن ہوگا،
@NawazSharifMNS@CMShehbaz@MaryamNSharif
آخر ملک کی کتنی نسلیں بیرون ممالک منتقل ہوتیں رہیں گیں۔۔۔ کیوں نہ پاکستان میں ہی وہ سسٹم تخلیق کردیا جائے جسکی وجہ سے نوجوان ہنرمند افراد بیرون ممالک ہجرت کرتے ہیں۔۔۔
آئیں ملکر "جدید پاکستان" کی بنیاد رکھیں !!!
شکریہ
#PakistanVision2040