"ایک تھی احسان فراموش قوم " (اس آنکھ کے نام جو اپنی قوم کے انتظار میں پتھرا گئی )
مجھے یہ سوچ سوچ کر آج اس نظام سے گھن آتی رہی کہ جس عمران خان کے نام پر تین دن پہلے یہاں اوہایو میں میری آنکھوں کے سامنے دو گھنٹے کی تقریب میں کراچی میں ایک اور کینسر ہسپتال بنانے کیلئے پونے پانچ لاکھ ڈالر جمع ہوگیے تھے جس میں سالانہ دو لاکھ سے زاید مریضوں کا مفت علاج ہوگا ' ووہی عمران خان آج اپنی ایک آنکھ کی بینائی کے علاج کیلئے اس نظام کے رحم و کرم پر ہے جہاں وہ آنکھوں کے ڈراپس سے زیادہ بہتر کسی بروقت علاج' کچھ قابل ڈاکٹروں اور کچھ کتابوں کی درخواست کر رہا ہے ' اور آج بھی یہ مافیا اس کے آنکھ کی روشنی جانے کا سبب بننے والی مجرمانہ غفلت اور تاخیر پر بات کرنے کی بجاے جیل میں اس کو ملنے والے دیسی چکن اور ایکسرسائز مشین پر بات کرنے پر ہی مائل نظر آتا ہے - یہ نظام جب اس کو مائنس نہی کرسکا اور عوام اس کو ملٹیپلائی کرتے چلے گیے تو اس نے پھر اس کی آنکھ کو مائنس کر ڈالا -
آج اگر اس کو ایک آنکھ سے نظر نہی آرہا تو اس میں سب سے بڑی گناہ گار اس ملک کی ملٹری اسٹبلشمنٹ ہے جس نے ذاتی عناد اور رنجش کو اپنے پروفیشنلزم پر حاوی کرلیا اور اپنے کینٹس اور آئ ایس پی آر کو سیاسی اکھاڑا بناڈالا - -
اس میں اس عدلیہ کا بھی قصور ہے جو تین سال سے یہ سب تماشہ دیکھ رہی ہے پر نہ اس کے کسیز کی اپیل لگاتی ہے اور نہ اس کے خاندان کو اس سے ملوانے کے اپنے ہی آرڈر پر عمل کروا پاتی ہے -
اس میں ان علما کا بھی قصور ہے جو کشمیر اور فلسطین کے مظالم پر مناظرے اور واعظ کرتے ہیں پر اپنے ملک میں ہونے والے غیر انسانی سلوک پر بات کرنے کی بجاے سونگھنے والے جانور کی طرح اس قیدی کے پراٹھوں پر لگے دیسی گھی سونگھنے کیلئے اپنے ناک کے نتھنے تو کھول دیتے ہیں پر اس کی آنکھ کی جاتی بینائی پر بات کرنے کیلئے اپنا منہ نہی کھول سکتے -
اس میڈیا کا بھی قصور ہے جو آج بھی اس کا نام نہی لے سکتا' اس کی تصویر نہی چلا سکتا اور "بانی بانی " کہ کر اس پر گھنٹوں پروگرام کرتا رہتا ہے -
ان تمام پاکستانی کرکٹرز کا بھی قصور ہے جو آج اس نظر کی کمزوری پر آواز نہی اٹھاسکے جس نے ان کا انتخاب کیا تھا اور ان کو گلی محلوں سے نکال کر سلیبریٹی بنادیا تھا - آج بھارت کے کرکٹرز اور سپورٹس انالسٹ تو اس پر سراپا احتجاج نظر آتے ہیں پر پاکستانی سٹارز بس خان کا نام لے کر چندے اکٹھے کرنے پر لگے ہیں پر اس کا نام لے کر ٹویٹ نہی کرسکتے -
ان تمام حریف سیاستدانوں کا بھی قصور ہے جو اپنے علاج کیلئے لندن بھی گیے اور دوبئی بھی ' سالوں کراچی کے ہسپتالوں میں لیٹ کر قید کی مدت پوری کرتے رہے اور ذاتی معالجوں کی فوج ظفر موج سے ملتے رہے ' پر عمران خان کی دفعہ ایسے کم ظرف اور ایسے بے حس ثابت ہویے کہ اس کی بیماری پر بھی جیل کا مینیو کارڈ پڑھتے رہے -
اور اس میں حریفوں کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی قیادت کا بھی برابر کا قصور ہے جو اب تک یہی فیصلہ نہی کر سکی کہ مزاحمت کرنی ہے یا مفاہمت کرنی ہے - گنڈا پور کرنا ہے یا سہیل آفریدی کرنا ہے - بیرسٹر گوہر کی طرح سویٹ بوایے بننا ہے یا سہیل آفریدی کی طرح گرجنا برسنا ہے - سوشل میڈیا کو اون کرنا ہے یا اس سے لاتعلقی کا اظہار کرنا ہے - جیل سپرنٹنڈنٹ کو کوسنا ہے یا اس کے اوپر بیٹھے کرنیل جرنیل کا نام لینا ہے - بسنت منانی ہے یا آٹھ فروری کا احتجاج کرنا ہے ؟
یہ سب وہ سوال ہیں جو برحال ذہن کو جھنجھوڑتے ہیں - آج اگر اس ملک کی نوجوان نسل کی آنکھیں کھولنے والی آنکھ خود اندھی ہورہی ہے تو یہ بات دنیا کے سامنے یہ ثابت کر رہی ہے کہ ہم من حیث القوم ایک احسان فراموش قوم ہیں جس کا ایک قومی ہیرو تین ضرب چار فٹ کے ایک باتھ روم کو استعمال کرنے پر مجبور ہے جس کی چھت بھی دیوار سے متصل نہی ہے اور جہاں دس کیمرے لگے ہیں جو اسی رپورٹ کے مطابق شاور تک کی جگہ کی سرویلینس کرتے ہیں - یہ رپورٹ پوری دنیا میں ہماری بے حسی' احسان فراموشی اور انتہاہے بغض و انتقام پر مہر ثبت کر رہی ہے - یہ حالات دیکھ کر آج کی جنریشن زی کو پرانے سب واقعات اور بھی حقیقت معلوم ہوتے ہیں جن میں قائد اعظم کی ایمبولینس ' لیاقت علی خان کی آخری تقریر ' فاطمہ جناح کی ہراسانی اور ذوالفقار علی بھٹو کو جیل میں پھانسی سے پہلے ہی ادھ موا کرنے کا ذکر ہے - یہ پچیس کروڑ عوام اور ایک ایٹمی طاقت کیلئے لمحۂ فکریہ نہی ہے بلکہ لمحۂ ذلت اور لمحہ رسوائی ہے اور عمران خان کا یہ کڑا وقت تو گزر ہی جائیگا پر ہمارا یہ لمحہ ذلت ہمیشہ کیلئے ٹھہر جائیگا -
--------------------------------------------------------
@soulful7867@MoeedNj@ImranRiazKhan@BarristerGohar@salmanAraja@ImranARaja1
“My so-called trial in Adiala Jail is not being conducted by a judge but by an ISI Colonel, who takes instructions directly from the Army Chief, Asim Munir. This is a military trial, not a civilian one.
Everything in Pakistan today is being done under Asim Law, with the Constitution and legal framework in shreds. Over three hundred fabricated cases have been registered against me, all of which I am facing. I will emerge with justice from the courts without making any deal. Every form of oppression has been inflicted upon our party. My wife and I would be freed today if cases were decided on merit. All our human rights have been violated. We are deprived even of the basic facilities granted to ordinary prisoners. My books are withheld, and in eight months I was allowed to speak to my children only once. The judges in my cases hold no authority; they cannot conduct the trials independently. Their decisions are dictated by a Colonel, who merely executes the orders of Asim Munir.
I instruct my entire party to remain united. This oppressive system cannot endure for long. It is essential that all of you retweet posts from my account, in a clear message of unity and alignment.
A grand public rally must be announced in Khyber Pakhtunkhwa, where participants from across the country can stand together against the darkness that engulfs us.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
3/3
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو؛ قوم کے نام پیغام:
- 15 جولائی 2025
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے۔
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تا کہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں۔
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
#حق_کی_جیت_ہو_گی
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔
“فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!!
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔
سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی-
دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔
تیسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔
چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے مارے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کر دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔
چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔
بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
“First and foremost, you must not lose hope.
I will never accept this dictatorship, and I am prepared to remain in a prison cell for as long as it takes in the struggle against this tyranny. I will not compromise on my principles or the fight for the true freedom of the nation.
Our commitment is to real freedom, democracy, and the rule of law. We will fight until the last ball to achieve this. I will not strike any deals and will face all the baseless cases against me.
Once again, I urge the nation to read the Hamoodur Rahman Commission Report. The history of 1971 is being repeated in Pakistan. Yahya Khan destroyed the country, and today, the dictator is doing the same to protect his dictatorship and personal gains, pushing the country to the brink of destruction.
Following the dark verdict in the Al-Qadir Trust case, the judiciary has further eroded its credibility. Judges who support tyranny and act on directives are rewarded. The judges nominated for the Islamabad High Court have only one qualification: delivering rulings against me.
This case should have been against Nawaz Sharif and his son, who sold their 9-billion-rupee property in the UK to Malik Riaz for 18 billion rupees. The question should be, where did they get the 9 billion rupees? The receipts demanded from them in the Panama case have never been produced. Alongside Qazi Faez Isa, they had billions of rupees in money laundering pardoned in the Hudaibiya Paper Mills case.
The Al-Qadir University, like Shaukat Khanum Hospital and Namal University, is a free charitable institution for the public, where students were being educated about the life of the Prophet Muhammad (PBUH). Neither I nor Bushra Bibi gained a single penny from the Al-Qadir University, nor did the government incur any loss.
Even the land of the Al-Qadir Trust has been taken back, which will only harm the underprivileged students who were studying about the life of the Prophet Muhammad (PBUH).
The outcome of the Al-Qadir Trust case was known to everyone beforehand. Whether it was the delay in the verdict or the discussions regarding punishment, everything was leaked to the media in advance. Such mockery has never been witnessed in the history of the judiciary. The same person who dictated the verdict to the judge also leaked it to the media.
My wife is a homemaker with no connection to politics. Bushra Bibi was punished solely to cause me pain and exert pressure on me. She has previously been implicated in baseless cases but has always faced them as a test from Allah and remained steadfast in supporting my cause.
If there is no progress in the negotiations regarding the establishment of a judicial commission for the events of May 9 (2023), and November 26 (2024) then continuing the talks would be pointless. Dishonest individuals never allow neutral umpires to intervene. The government is avoiding the demand for a judicial commission because it is dishonest.” -
Former Prime Minister Imran Khan’s Message from Adiala Jail – 17th January 2025
190 ملین پاؤنڈز پاکستان واپس آئے اور سپریم کورٹ کے پاس موجود ہیں۔
القادر یونیورسٹی قائم ہے جس میں غریب بچے سیرت اور جدید تعلیم مفت حاصل کررہے ہیں۔
یونیورسٹی کے انتظامی معاملات ٹرسٹ کے ذمّے ہیں۔
ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق القادر ٹرسٹ سے عمران خان یا ان کی اہلیہ ایک پائی کا ذاتی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔
نہ 190 ملین پاؤنڈ عمران خان کے اکاؤنٹ میں ہے نہ ہی ٹرسٹ کی زمین یا بلڈنگ ان کی ملکیت ہے۔
جب عمران خان نے اس سارے معاملے سے ایک پائی کا فائدہ نہیں اٹھایا تو مقدمہ کس بات کا۔
#FreeImranKhan
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی تعلیمات اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی کیوں بنائی
اتنا بڑا جرم کیا ہے اس کی سزا تو ملے گی
#عمران_کا_گناہ_محبت_رسول_اللہ
عمران خان کو سیرت نبی ﷺ پڑھانے والی یونیورسٹی بنانے پر سزا سنانے کا عسکری ڈاکیوں نے پیشگی اعلان کیا ہے، پوچھنا یہ تھا کہ اپنے ہر معاملے پر قرآن کی آیات کو اپنے حق میں استعمال کرنے والے بڑے صاحب اس سزا پر اپنے حق میں کس قرانی آیت کا حوالہ دیں گے؟
#عمران_کا_گناہ_محبت_رسول_اللہ
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلا ٹیم سے اہم گفتگو۔
“26 نومبر کو آج چھ ہفتے ہو گئے ہیں ہمارے کئی لوگ ابھی تک گمشدہ ہیں ۔ یہ لوگ ڈی چوک اسلام آباد سے غائب کیے گئے ہیں کسی قبائلی علاقے سے نہیں۔ حکومت ان کو کسی عدالت میں پیش کر رہی ہے نہ ہی ان کو تلاش کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ہمارے مطالبات اور مذاکرات کو لے کر کتنی سنجیدہ ہے۔ ہم نے آج گمشدہ افراد کے معاملے پر کمیٹی بنا دی ہے جس کی سربراہی سینئیر وکیل قاضی انور کریں گے-
ہم پر زور مطالبہ کر رہے ہیں کہ 26 نومبر کو جو ہمارے لوگوں پر سیدھی گولیاں ماری گئیں ؛ 64 لوگوں کو زخمی اور 14 لوگوں کو شہید کیا گیا انکے قتل عام کی شفاف تحقیقات کی جائیں ۔ یہاں تحقیقات تو کیا ہونی ہیں الٹا انہی مظلوم افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کوٹلی ستیاں سے ہمارے 17 سالہ کارکن انیس شہزاد ستی کو شہید کیا گیا ۔ پھر اسکے غمزدہ خاندان کو ہراساں کیا گیا کہ وہ اپنا کیس واپس لیں۔ یہی سب کچھ نو مئی کو بھی کیا گیا تھا ۔جب ہم پر ہی گولیاں چلائی گئی تھیں ہمارے 16 لوگوں کو شہید کیا گیا اور پھر پر امن نہتی عوام کو ہی دہشتگرد بنا دیا گیا ۔ انکے گھروں کا تقدس پامال کیا گیا ؛ بے قصور افراد کو جیلوں میں ڈال کر انکی زندگیاں برباد کی گئیں۔ میرے گھر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی ۔ 9 مئی اور 26 نومبر پر شفاف جوڈیشل کمیشن بننا ناگزیر ہے۔ میں اس واقعے کو تب تک بھولنے نہیں دوں گا جب تک مظلوموں کو انصاف نہ مل جائے۔
میرے مطالبات جائز اور معقول ہیں لیکن حکومت ان پر سنجیدہ نہیں ۔ مجھے میری جماعت کے افرد سے ملوایا نہیں جاتا جو کہ میرا قانونی حق ہے ۔ اگر حکومت نے اگلی نشست میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہ کی تو ہم مذاکرات کے عمل کو آگے نہیں بڑھائیں گے۔
بشریٰ بی بی کے خلاف کمپئین کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔ بشریٰ بی بی جو کر رہی ہیں وہ میری ذات کے لیے کر رہی ہیں- سنجگانی جیسے شوشے چھوڑ کر اصل معاملات سے توجہ ہٹائی جاتی ہے ۔ ڈی چوک میں کارکنان کے ہمراہ پہنچ جانا بشری بی بی کی کامیابی ہے جس پر انکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ میں اپنی پارٹی کے لوگوں کو تلقین کرتا ہوں کہ ہمارے مسنگ پرسنز کا معاملہ ہر سطح پر اٹھائیں ۔
پاکستان میں آمریت کا دس سالہ پلان لایا گیا تھا جس میں سے دو سال گزر چکے ہیں یہاں جو جج یا پولیس والا ظلم کا حصہ بنتا ہے اسکو ترقی دے دی جاتی ہے ہمایوں دلاور نے غیر قانونی فیصلہ دیا تو اسکو ترقی دے دی گئی دوسری جانب راولپنڈی ؛ سرگودھا کے ججز نے انصاف پر مبنی فیصلے دیے تو انکو گھر بھیج دیا گیا۔ ایسا کر کے ملک میں میرٹ اور قانون کی حکمرانی کو قتل کر دیا گیا ہے-
ملک میں موجود اس فسطائی نظام کے ہوتے ہوئے معاشی ترقی کا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ معاشی خوشحالی کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے اور سرمایہ کاری ملک میں اداروں کے اپنی حدود و قیود میں رہتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کئے بغیر ممکن نہیں۔ ملک میں بڑھتی دہشتگردی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ اور افسوسناک امر تو یہ کہ اس کے تدارک کے ذمہ داران کی ساری توانائیاں اور وسائل ہماری جماعت کو دیوار سے لگانے میں صرف ہو رہی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ اپنی ذاتی اناؤں اور وقتی مفادات سے ہٹ کر ملکی ترقی اور قوم کی خوشحالی کا سوچا جائے۔