سنتا جا شرماتا جا ، مریم صفدر اور ان کی ٹیم نے معذور بچوں کو بھی چونا لگا دیا ، نارووال میں ثانیہ عاشق نے معذور بچوں کو ویل چیئرز اور اسکوٹیز دیں لیکن جیسے ہی پروگرام ختم ہوا اور بچوں نے باہر جانا چاہا تو انہیں روک لیا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ویل چیئر اور اسکوٹی واپس کرو پھر باہر جا سکتے ہو ۔۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیفا ارجنٹینا کے خلاف مبینہ ناانصافی کی یہ ویڈیو بار بار ہٹا رہا ہے۔
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مصر کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کو فراموش نہ کیا جائے۔
Shame on Modi ji's 'New India'!
A Dalit woman's head was forcibly shaved in public for refusing the barbaric Pre-Nocta ritual, where upper-caste men claim the 'right' to rape lower-caste brides on their wedding night.
This is the reality of RSS-BJP extremism & caste hatred thriving under Modi.
Thank you Rahul Gandhi ji for raising your voice for the victims & exposing this dark truth!
When will justice come for our Dalit sisters?
انتہائی خوفناک صورتحال 🛑
اسلام آباد پولیس کا باہر سے آئی خاتون پر تشدد!!
تھانہ کوہسار اسلام آباد پولیس, خاتون کو ساری رات تنگ کرنے کے بعد, اب خاتون پر تشدد شروع کر رہے ہیں!!
پاکستان کا خوب نام روشن کررہے ہیں!!
پہلے علی رضا ڈار اور اب آسلام آباد پولیس!!
لیں جی مریم نواز نے کمال کر دیا والے ڈوب کے مرجائیں سارے ۔ لعنت ہو آپ کی شکلوں پر۔ ابھی تو باس کا نام آئے گا جو تین طاقتوروں سے کنیکٹڈ ہے یہ یاد رکھیے گا
سہیل ظفر چٹھہ صاحب اور سی سی ڈی پولیس کا طاقتور کے آگے سجدہ
۔نائب وزیرِاعظم کے رشتہ دار پر الزام ہو تو CCD کی وردی بھی نرم پڑ جاتی ہے، قانون کو بھی بخار چڑھ جاتا ہے، اور انصاف فائلوں میں منہ چھپا لیتا ہے۔
لیکن اگر کوئی عام شہری ہو تو یہی نظام ٹریگر پر انگلی رکھ کر “قانون کی عملداری” یاد دلانے لگتا ہے۔
مریم نواز صاحبہ، ایک ہی پنجاب میں دو قانون کب تک چلائیں گی؟
ایک قانون طاقتوروں کے لیے، دوسرا کمزوروں کے لیے؟
اگر غیرت ہوتی تو CCD کمزوروں پر دھاڑنے کے بجائے بااثر لوگوں کے دروازے پر بھی اسی زور سے دستک دیتی۔
یہ انصاف نہیں، طاقت کے آگے سجدہ اور کمزور پر دھونس ہے۔
نائب وزیرِاعظم کے رشتہ دار پر بات آئے تو CCD کی بہادری کو بریک لگ جاتی ہے،
عام آدمی ہو تو یہی قانون بندوق تان کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
مریم نواز کا پنجاب نہیں،
یہ “VVIP انصاف” اور “عام آدمی انکاؤنٹر” والا پنجاب ہے۔
کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی ٹیچر حمیدہ بی بی پہلی سے پانچویں جماعت تک کے غریب بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں، والدین نے بتایا کہ ماہنامہ فیس 300 اور چار سو لیتی ہیں ۔ ایک گھر کے دو بچے پانچ سو ماہانہ بھی دیتے تھے ۔ اور کئی بچے وہ بغیر فیس کے بھی پڑھاتی تھیں ۔ اس علاقے کے بچوں کے والدین پرائیویٹ سکول کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ شام کے یہ چند گھنٹے ان بچوں کے لیے تعلیم کا واحد دروازہ تھے، اور حمیدہ بی بی کے لیے گھر چلانے کا سہارا۔ اس محنت کے بدلے مہینے میں نو دس ہزار روپے ملتے تھے، جس سے صرف بجلی کا بل ہی شاید ادا ہوتا ہو ۔ ایک ایسی رقم جو آج کے مہنگائی زدہ دور میں ایک ہفتے کا راشن بھی مشکل سے پورا کرتی ہے۔
ان کے شوہر محلے میں پھل کی ریڑھی لگاتے، دن بھر کی کمائی تین چار سو روپے، اس امید پر کہ شام کو گھر میں چولہا جل جائے۔ یہ ایک عام سا گھرانہ تھا جو دو محاذوں پر لڑ کر بمشکل زندگی کی گاڑی آگے دھکیل رہا تھا۔ جس وقت چھت گری، حمیدہ بی بی خود اسی ملبے تلے آگئیں، ان کی بیٹی زخمی ہوئی، اور ان کے دیور کی چار سالہ بیٹی بھی ثانیہ آج زندگی کی بازی ہار گئی۔ حمیدہ کے شوہر اور دیور پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ بچی سمیت ہسپتال میں ۔۔
اپ بے شک ٹیچر کو قصوروار سمجھیں، مگر یہ قدرت کی طرف سے آئی ہوئی مصیبت ہے ، جو والدین دو سو روپے ماہانہ فیس بمشکل دے پاتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے حکومت نے کیا محفوظ متبادل دیا ہے، دوسری طرف صوبائی حکومت کے، وسائل اربوں روپے کے جہاز پر خرچ ہوجاتے ہیں، تنقید ہو تو دفاع میں یہی کہا جاتا ہے
ہاں بھئی ۔۔ ہم نے جہاز خریدا ۔۔ جو کرنا ہے کر لو
ایک طرف سسکتی رینگتی زندگی ۔۔۔ اور دوسری طرف عیاشی کے لیے ان کے ہی پیسوں سے گیارہ ارب روپے کا لگژری جہاز !!
دو طبقات میں تفریق بھی ۔ ۔۔ زمین آسمان کے فاصلے سے زیادہ ہے۔ 💔
ایک طرف آہیں ، چیخیں ، بین ، بھوک ، گرتی کمزور چھتیں ۔۔۔
اور دوسری طرف
ہاں بھئی ہم نے جہاز خریدا ہے ۔۔
منقول
عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے، اپنے پیاروں کو بنا کفن دفنانے پر مجبور، لاکھوں بے روزگار کروڑوں خطِ غربت سے نیچے اور جب فارم 47 کے ذریعے قابض حکمرانوں سے پی ٹی آئی ممبران سوال اٹھاتے کہ قرضوں کے انبار کھڑے کرکے ،معیشت تباہ کرتے اپنی عیاشیوں کے لیے گیارہ ارب کا جہاز کیوں خریدا تو دیکھیں کیسے صوبائی وزیر مغروری اور ڈھٹائی سے اسمبلی میں تسلیم کررہی اور فارم 47 کے باقی ممبران ٹھٹھے اڑا رہے ۔۔۔۔
پاکستانیو یہ ٹھٹھے اس بے شرمی کا ثبوت ہیں کہ ان کو نہ عوام کی فکر نہ پاکستان کی۔
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
🚨جوپراجیکٹس عثمان بزدار نے شروع کیے ہوئے تھے
ہمیں بھی نہیں پتہ تھا وہ تو مریم نواز نے جب ان پراجیکٹس پر اپنے نام کی تختی لگائی تو پتہ چلاکہ یہ توعثمان نے شروع کیے ہوئے تھے
اسکوکہتے ہیں دوسرے کی ٹ ٹ ی پر پاد مارنا
ستھرا پنجاب کی حالت سب کے سامنے ہے💯
کینیڈا سے
جناب بلوندر چائولہ کی حسن نثار کے نام ایک ای میل*
’’حسن نثار صاحب! میں نے زندگی امرتسر میں گزاری، جہاں میں خالصہ کالج یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس پڑھایا کرتا تھا۔ سولہ سال پہلے میں البرٹا، کینیڈا شفٹ ہو گیا تاکہ میں اور میری بیوی، بچوں کے ساتھ رہ سکیں، جو پہلے ہی وہاں سیٹل ہو چکے تھے۔
آپ کو لکھنے کا مقصد صرف ایک معمولی سا موازنہ پیش کرنا ہے کہ ہم جیسوں کے ساتھ اپنے ملکوں میں کیا ہوتا ہے اور کینیڈا جیسے ملک ہم جیسے غریب الوطن لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔
سینئر سٹیزنز کے ساتھ ہونے والے سلوک کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
ہم میاں بیوی کو سینئر سٹیزن ہونے کے ناطے 2400 ڈالر ماہانہ کیش پینشن بغیر دھکے کھائے گھر بیٹھے ملتی ہے۔ ورلڈ کلاس میڈیکل سہولتیں مع فیملی فزیشن، سپیشلسٹ ڈاکٹرز، تشخیصِ امراض کا اعلیٰ ترین بندوبست بھی فری۔
5 سال میں 5000 ڈالر کے برابر بنیادی ڈینٹل کیئر دونوں میاں بیوی کے لیے علیحدہ علیحدہ، یعنی کل 10 ہزار ڈالر۔
دونوں کے لیے ہر پانچ سال میں 2400 ڈالرز (کل 4800) آلۂ سماعت کے لیے، اگر ضرورت محسوس ہو۔
دواؤں میں 70 فیصد سبسڈی، جس کی آخری حد 25 ڈالر فی نسخہ سے کسی صورت زیادہ نہیں۔ یعنی دوا اگر 250 ڈالر کی بھی ہو تو میں یا میری بیوی زیادہ سے زیادہ 25 ڈالر دیں گے، اس سے زیادہ نہیں۔
ہم دونوں کو ہر 3 سال میں نظر کی عینک کے لیے علیحدہ علیحدہ 230 ڈالرز، یعنی کل 460 ڈالرز ملتے ہیں۔ آنکھوں کے ٹیسٹ اور دیگر ٹریٹمنٹس اس رقم کے علاوہ ہیں۔
لوکل پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ہمیں 95 فیصد سبسڈی کے ساتھ پاسز مہیا کیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ بس اور لوکل میٹرو ٹرین پر سفر ہم جیسے ’’مہان‘‘ دیسوں میں کار پر سفر سے بھی کہیں زیادہ آرام دہ ہے۔
موسموں میں تبدیلی کی مناسبت سے Immunization انجیکشنز کی مفت سہولت اور سروس۔
میں چونکہ اپنے بچوں کے ساتھ رہتا ہوں، سو ایک بار مفت فرج، ٹی وی اور بیڈ لینے کا حق بھی حاصل ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی کے لیے ایک ایک آٹو وہیل چیئر اور مساج چیئر اس کے علاوہ ہے۔
اگر کوئی اتنا بوڑھا، کمزور ہو جائے کہ نہ خود ڈرائیو کر سکے نہ بس اسٹاپ تک پہنچ سکے، تو سواری بھیجنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ ڈاکٹر کے پاس یا شاپنگ کے لیے جا سکے۔
مختلف امراض کے حوالہ سے مخصوص انرجی فوڈ، جو ظاہر ہے ملاوٹ اور غلاظت سے پاک ہوتی ہے۔
حسن نثار صاحب! یہ ہوتی ہے اصل جمہوریت، اور یہ ہوتی ہے ویلفیئر سٹیٹ، اور یہ ہوتی ہے انسانوں کے لیے انسان کے بچوں کی حکومت، نہیں... خدمت، خدمت اور خدمت۔
اور یہ ہے زمین پر سورگ، اور اسے کہتے ہیں بھوک، ننگ، غربت، جہالت اور ہر قسم کی توہین سے مکمل آزادی۔
اور یہ ہوتا ہے انسانوں کا معاشرہ، جس میں نہ گندگی، نہ ملاوٹ، نہ رشوت۔
لاء اینڈ آرڈر ایسا جس کا ہمارے مہان دیسوں میں تصور بھی ممکن نہیں۔
کوئی کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کا سوچتا بھی نہیں۔
آپ کو اپنے دیس کا بہتر علم ہوگا، میں تو یہاں کا موازنہ ’’شائننگ انڈیا‘‘ اور ’’میرا بھارت مہان‘‘ سے کرتا ہوں تو اپنی نظروں میں گر جاتا ہوں۔
ایسی جنم بھومی کو میں نے چاٹنا ہے، جو ایک بار جنم دے کر انسان کو دن میں سو سو بار قتل کرے۔
ہمارے ہاں ڈیموکریسیاں نہیں، ڈاکو راج ہیں۔
نہ میرٹ، نہ انصاف، لیکن اپنی شان میں پروپیگنڈے ایسے جیسے ایسا کوئی ہے ہی نہیں۔
آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں بھارت میں پینشنرز کو بڑھاپے میں پینشن لینے کے لیے بھی کتنا ذلیل ہونا پڑتا ہے۔
آپ کا پروگرام کبھی مس نہیں کرتے، کیونکہ اس میں اپنا درد محسوس ہوتا ہے۔
اگر آپ کو میرا یہ خط مل جائے اور آپ کو دلچسپی ہو، تو میں آپ کو یہاں کے سسٹم بارے بہت کچھ بھیج سکتا ہوں کیونکہ، جیسا شروع میں لکھا، میں پولیٹیکل سائنس کا پروفیسر ہوں اور بخوبی جانتا ہوں کہ رب نے ہم کو بھی سب کچھ دے رکھا ہے۔
صرف نظام ناقص، گھٹیا اور فرسودہ ہے، اور اسے چلانے والے نظام سے بھی کہیں زیادہ ناقص، گھٹیا، فرسودہ اور بدنیت ہیں۔
آپ کا مخلص
بلوندر چائولہ
ایڈمنٹن (کینیڈا)
ایک بزرگ محنت کش پر مقدمہ درج کر دیا گیا۔
الزام یہ بتایا جا رہا ہے کہ محرم الحرام میں کام کم ہونے کی وجہ سے وہ دو دن تک بلدیہ کے ایک انسپکٹر کو گولڈ لیف سگریٹ کی ڈبی نہ دے سکا۔ اسی دوران وہ گھر میں سو رہا تھا کہ پولیس کی کال آئی: "تمہارے خلاف پرچہ درج ہو گیا ہے۔"
پاکستانیوں پر عذاب نازل ہے ہر ادارہ ہی تباہ حال ہے کہیں انصاف نہیں خوف خدا نہیں رہا فرعونوں کو
مریم نواز کا کوئی تعلق نہیں ہے پنجاب میں قانون سازی سے، مریم نواز تو صرف انگوٹھا لگانے کے لیے بیٹھی ہوئی ہے،
پنجاب کو اب باقاعدہ طور انٹیلیجنس ایجنسیوں اور پنجاب پولیس کے حوالے کرنے جا رہے ہیں، نجم سیٹھی
بریکنگ نیوز 🚨منیب فاروق کے انکشاف کے بعد عادل راجہ نے بڑی سٹوری بریک کر ڈالی۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے صحافیوں کو کتنے کروڑوں روپے ملے اور کتنی گاڑیاں انعام کے طور پر تحفہ میں ملی عادل راجہ تفصیلات سامنے لے آیا 🔥🔥🔥
عادل راجہ کی تفصیلات کے مطابق ریحام خان کو سب سے زیادہ 25 کروڑ روپے انعام ملا جسے باقاعدہ خان کے خلاف لانچ کیا گیا تھا۔ مبشر لقمان کو 10 کروڑ اور ایک گاڑی ملی۔ مبشر لقمان نے بہت زیادہ کیچڑ بھی خان کے کردار پر اچھالا تھا۔ دوسرے نمبر پر سہیل وڑائچ ہیں جنہیں 9 کروڑ روپے ملے خان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے پر۔ تیسرے نمبر پر آتی ہیں غریدہ فاروقی جن پر انعامات کی برسات کی گئی۔ اسلام آباد کی مہنگی سوسائٹی میں 6 مرلہ کا مکان، 8 کروڑ روپے اور ایک گاڑی سے نوازا گیا۔ چھوتھا نمبر سلیم صافی کا ہے جن کو 7 کروڑ روپے اور ایک گاڑی دی گئی۔ پانچویں نمبر آتا ہے منصور علی خان کا جنکو 6 کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ تین گاڑیاں دی گئیں۔ چھٹا نمبر پر منیب فاروق آتے ہیں جنہیں 5 کروڑ روپے انعام دیا گیا۔ ساتواں نمبر جاوید چوہدری کا ہے جس کے ہاتھ 4 کروڑ روپے لگے۔ آٹھواں نمبر ہے افتخار چوہدری کا جنکو 3 کروڑ روپے دیے گئے۔ ناواں نمبر کامران شاہد کا ہے جنہیں نے 2 کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ 7 مرلہ کا مکان بھی دیا گیا جس کی لوکیشن لاہور میں ہے۔ 10 ویں نمبر طلعت حسین کا ہے جسے 1 کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ بیٹے کو پی ایس ایل اور قومی ٹیم میں شامل کروایا گیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے صحافی ایسے ہیں جن کی معلومات ابھی لیک نہیں کی گئی۔ چند ہفتوں کے بعد میری کوشش ہوگی انکے نام بھی سامنے لائے جاسکیں۔ ایک بڑا پاکستان کا صحافی ہے جنہیں 40 کروڑ روپے ملے ہیں، اور بھی بہت کچھ ملا ہے لیکن اسکی مکمل الگ سے انفارمیشن بہت جلد آپ کے ساتھ شئیر کروں گا۔
عمران خان کی حکومت کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ مجھے، غریدہ فاروقی، سلیم صافی، سہیل وڑائچ، منصور علی خان، ابرار عالم اور ہمارے دیگر صحافی دوستوں کو باقاعدہ بلا کر ہدایت جاری کی گئی کہ ہم لوگ خان کے خلاف کھل کر پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ چوبیس گھنٹے چینل پر یہی بیٹھ کر کہنا ہے کہ خان نالائق ہے، مہنگائی کر رہا ہے۔ اس بیانیے پر عوض ہمیں لاکھوں کروڑوں روپے دیے گئے۔
منے منیب نے اعتراف جرم کر لیا عمران خان ایک بار پھر سچے ثابت ہوے۔
عمران خان کے ساتھ میرا اللہ بادشاہ ہے ۔ اج سچ کفن پھاڑ کر قبر سے نکل ایا ہے عمران خان اک بار پھر سرخرو ہوا ۔
منیب فارق جیسے ٹاوٹ نے اج سچ بول کر غریدہ فاروقی سلیم صافی ابصار عالم منصور کی صحافت کو تابوت میں بند کر کے رکھ دیا ہے ۔
یہ بات بتای بھی کس نے جو ان لفافیوں کی اپنی ٹیم کا ممبر تھا اور اج بھی ہے ۔
منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے ایک سال بھی پورا نہ ہونے پر غریدہ فاروقی سلیم صافی سہیل وڑائچ منصور علی خان اور ابصار عالم کو باقاعدہ بلاکر ہدایات جاری کی گئیں کہ خان کے خلاف پروپیگنڈہ کریں اور اس کام کے عوض لاکھوں کروڑوں روپے دیے گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان واقعی نالائق تھا اگر واقعی مہنگائی اس کی اپنی ناکامی تھی تو پھر اتنی بڑی رقم خرچ کرکے باقاعدہ میڈیا مہم چلانے کی کیا ضرورت تھی؟
جھوٹ کو پروپیگنڈے کی ضرورت ہوتی ہے سچ خود بولتا ہے۔
پاکستانی عوام کو آج سمجھنا ہوگا کہ جو صحافی کروڑوں لے کر کسی سیاستدان کے خلاف پروپیگنڈہ کرے وہ صحافی نہیں بلکہ ایک کرائے کا قلم ہے ۔
اور کرائے کے قلم کی گواہی تاریخ میں کبھی قابل قبول نہیں رہی۔ عمران خان کا سچ یہ ہے کہ اسے گرانے کے لیے اتنے بڑے وسائل اتنی بڑی سازش اور اتنا منظم میڈیا حملہ درکار تھا جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ شخص کسی کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھا اور خطرہ صرف وہی بنتا ہے جو سچ پر کھڑا ہو۔
بریکنگ نیوز 🚨جیو نیوز پر شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں دوران گفتگو سہیل وڑائچ اور منیب فاروق آپس میں الجھ پڑے، ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگا دیے 🔥🔥🔥
سہل وڑائچ : تُم یہاں بیٹھ کر جھوٹ بول رہے ہو، میں نے عمران خان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کیلئے ایک روپیہ تک کسی سے نہیں لیا۔
منیب فاروق: وڑائچ صاحب آپ ہمارے سینئیر ہیں خدا کا خُوف کریں حقائق کا سامنا کریں، یہ ہر یکم تاریخ کو آپ کے بنک اکائونٹ میں لاکھوں روپے آتے رہتے ہیں، اب انکاری کیوں ہو؟ برداشت کرو۔
سہیل وڑائچ کا جواب: منیب اپنی حد میں رہو، الزام تراشی کرنا بند کرو۔ تمہیں شرم آنی چاہیے جس طرح کی تم گفتگو کر رہے ہو اپنے سنئیر کے ساتھ۔
منیب کا کاونٹر اٹیک: سہیل صاحب شرم تو تمہیں آنی چاہیے 40 سال بھی زیادہ کا تمہیں عرصہ ہوگیا ہے صحافت میں، عمر کے آخری حصے میں ہو اب تو سدھر جاؤ، حلال کھانے کی بجائے حرام کھا رہے ہو۔ کچھ غیرت نوں ہاتھ مارو۔ وظیفہ خوری پر گزارا کرنا بند کردو۔
سہیل وڑائچ کا غضے میں جواب: بس بہت ہوگیا گھٹیا انسان۔ تم دو ٹکے کے لونڈے مجھے غیرت اور خودداری پر لکچر دو گے؟ تم کیا کرتے رہتے ہو سارا دن. واٹس ایپ گروپ میں ایڈ ہو جیسے پیغام آتا ہے فوراً اس پر ویلاگ بنا ڈالتے ہو۔ شٹ اپ بھگوڑے
پھر بیچ میں منصور علی خان اور شاہ زیب خانزادہ نے بیچ بچاؤ کروایا۔
اتنا سناٹا کیوں ہے
عمران خان کہاں ہیں: سب خاموش
گلگت بلتستان الیکشن ؟ : سب خاموش
بجٹ ڈرامہ : سب خاموش
سی سی ڈی کا فیملی پر حملہ: سب خاموش
ہم قبرستان میں ہیں کیا ؟
زیادہ تر لوگ اپنے لیے جیتے ہیں۔ ایک کامیاب کیریر کے بعد عیش و آرام کرتے ہیں۔ آدھا وقت اپنی صحت کا خیال رکھنے پر صرف کرتے ہیں۔ سیر و تفریح کرتے ہیں۔ کم ہوتے ہیں جو سب عیش و آرام سب راحتیں ترک کر کے اپنی قوم کی سربلندی کے لئے قبر جیسے عذاب سے گزرتے ہیں۔ سات ماہ ہونے والے ہیں۔ کوئی خبر نہیں ہے کس حال میں ہیں۔
اور قوم سوئی پڑی ہے۔ بے حسی کی انتہا ہے۔ کبھی کبھی انسان سوچتا ہے واقعی اس قوم کو مریم نواز اور زرداری جیسے حکمران ہی سوٹ کرتے ہیں۔ یہ انہیں کی مستحق ہے۔ 😢