@MethaSaien پنجاب کول کج نہیں اے. تے صدیاں توں تیرے وڈکے ایتھے امب لین اؤندے رہے نیں.؟ ہن وی تیرے ورگے لکھاں نمک حرام تعلیم علاج رہائش لئی اپنے شجرے بدل بدل کے پنجاب وَل کیوں نسدے نیں.؟
اب یہ مکار، منافق اور نسل پرست کشمیری پناہگیر دگڑدلہ پنجابیوں کے خلاف اپنی بکواس پر ردعمل کا رخ کسی اور طرف موڑ کر پتلی گلی سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے.
مسٹر منافق میر تم نے رنجیت کا حوالہ دے کر سکھ مذہب کی توہین نہیں کی. بلکہ تم نے رنجیت سنگھ کی اولاد کہہ کر پوری پنجابی قوم کی تذلیل کی ہے. تم اتنے کم ظرف اور نمک حرام ہو، کہ پنجاب کے ٹکڑوں پہ پل کر ہمیشہ اور ہر موڑ پر پنجاب اور پنجابیوں کے ہی خلاف کھڑے ہوتے رہے ہو.
لعنت ہے تم جیسے نسل پرست اور بُغضِ پنجاب کے ہر بدنسل دگڑدلے پر.
جیوے پنجاب ... جیوے سپتاسندھو
Hindustan vich kerla vich ik maseet mojod hai jis da Qiblaa Rukh Masjid e aqsa hai , yaani k Ilsam Nabi Pak di zindagi vich hi Hindustan vich aa gia si.
Bad vich Bohat Saray Muslims Hindustan utay Hamlay Ketay Islam de Lai Nahi Balkay Hindustan di Dolat lai
@JattBoldaa اگر تو اپنے باپ کے مقابلے میں ہمسائے کی دلالی کرے گا. تو ہھر چوکیدار کا ایسا کہنا بالکل درست ہے.
یہاں مسئلہ چوکیدار کی بات کا نہیں، بلکہ تیری مشکوک ولدیت کا ہے.
@RShahzaddk جب یہ دگڑدلے ڈیورنڈ لائن کو مانتے ہی نہیں. تو پھر پنجابی فوج کے افغانستان کے اندر گھسنے پر اعتراض کیسا.؟
کابل تک تو ویسے بھی تاریخی طور پر پنجابی سرزمین ہے.
@SohnaPunjaab یہ فتنہ بنیادی طور پر اردوآبی عسکری اسٹبلشمنٹ کا ڈیزائن کردہ ہے.
سیاسی جماعتیں یا مختلف اقلیتی نسلی گروہ تو صرف مردارخور کی طرح اپنا مفاد دیکھ کر مہرے بنے ہوئے ہیں.
@QaziShahid786 کچھ شرم کرو. کب تک یہ جھوٹی کہانیاں سنا سنا کر خود کو تسلیاں دیتے رہو گے.؟
سچ یہ ہے. کہ افغانی وہ قوم ہے. جو تاریخ میں ہر حملہ آور کی سہولتکار بنی. یا پھر بھاگ کر ہمسایوں سے پناہ کی بھیک مانگتی رہی.
سپرپاور کو پہاڑوں میں پنجابیوں نے روکا. افغانی تو پہلے پٹاخے پر ہی بھاگ گئے تھے.
ایک جاہل اور مادرفروش کی بکواس کو حوالہ بنا کر تم اپنے اندر چُھپی بُغضِ پنجاب کی خباثت کی تسکین کا سامان تو کر سکتے ہو. لیکن تاریخی سچائیوں کو کبھی نہیں بدل سکتے.
پورس، سارنگ گکھڑ، دُلا بھٹی، جسرتھ کھوکھر، محرم لک، احمد کھرل، کالےخان گجر، شیرباز عباسی، بھگت سنگھ جیسے لاتعداد کردار پنجابی مزاحمت کا لازوال استعارہ بن چکے ہیں.
شاہدرہ میں منگولوں کی عبرتناک شکست، جلیانوالہ باغ کی شہادتیں، جنگِ چیلیانوالہ میں انگریزی لاشوں کے انبار، گوجرانوالہ کی بغاوت، جسے کچلنے کیلئے انگریز کو ہوائی بمباری کرنا پڑی. احمد کھرل کی جنگ آزادی وغیرہ جیسے روشن باب صرف پنجابی تاریخ کا ہی حصہ ہیں.
مطالعہ الباکستان کی مسخ شدہ تاریخ اور من گھڑت کہانیوں سے باہر نکل کر دیکھو. تو تاریخ کا سچ یہی ہے. کہ پنجاب ہمیشہ مزاحمت، غیرت اور جرأت کی سرزمین ثابت ہوا ہے.
@wajid96517@LoneWol63773849@Punjabastan دوسری بات کہ کیا یہ ساہیوال میں رائے احمد خان کی بغاوت بھی تیرے کسی سکھ باپ نے کی تھی؟
یا گوجرانوالہ میں جس بغاوت کو کچلنے کیلئے تیرے انگریز باپ نے ہوائی بمباری کی تھی. وہ بغاوت تیرے کس سکھ باپ نے بپا کی تھی؟
@wajid96517@LoneWol63773849@Punjabastan جہالت اور بُغضِ پنجاب بھی انسان کو کتنا خبیث اور کمینہ بنا دیتا ہے.
ابوجہلی دانشور صاحب یہ سکھ مسلمان ہندو مذہب جو بھی ہو. لیکن نسل خون وہی رہتا ہے. وہی جاٹ گجر ارائیں راجپوت نسلیں پنجاب کے سکھ ہندو مسلمان سب میں ایک جیسی ہی ہیں. کیونکہ مذہب الگ لیکن لیکن قوم سب کی پنجابی ہی ہے.
@khitran_1 کردستانی رنDوں کے ناجا ئز بچوں کو پنجاب اور پنجابی کے نام سے یوں ہی آگ لگا کرتی ہے. جیسے تیری بھگوڑی ماں کی پھ دی میں لگی ہے.
سڑتے رہو ما در چو دو. اور بھونکتے رہو. پنجاب تمھاری بیٹیاں چو دتا رہے گا
پنجابی ہیرو سارنگ گکھڑ دا مجسمہ لگن اُپر افغانیاں پشتوناں دے ہر طبقہءِفکر سمیت اجتماعی اور نفرت انگیز ردعمل نے ثابت کر دتا اے.
کہ افغانی پشتون صرف کسے ہندو سِکھ نال نہیں، بلکہ ہر مذہب، نسل تے علاقے دے پنجابی نال ساواں بُغض رکھدے نیں. اور پشتوناں دی پنجاب تے پنجابی نال نفرت مذہبی نہیں، بلکہ خالص نسلی تے قومیتی بنیاداں اُپر اے.
کمزور تاریخ رکھنے والی قومیں اپنا احساسِ کمتری چھپانے کیلئے اپنی گلی سے گزرنے والے ہر مسافر کو باپ بنا لیتی ہیں. اور افغانی پشتون اس کام میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے.
داتا گنج بخشؒ افغانی یا پشتون نہیں، بلکہ سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک عرب تھے. یہ لوگ تبلیغِ دین کیلئے عربستان سے پہلے ایران افغانستان آئے اور پھر پنجاب.
اسلام کے خودساختہ ٹھیکیداروں کے نزدیک 78 سال جو ایک قابض لٹیرے سوری کا مجسمہ لگا رہا. وہ حلال تھا. لیکن اب ایک دھرتی زاد پنجابی سارنگ کا مجسمہ لگانا حرام ہو گیا ہے.
یہ بےشرم دگڑدلے اپنی نسل پرستی، تعصب اور بُغضِ پنجاب کی غلاظت کو مذہبی لبادے میں چھپانے کی کوشش کر کے دین کی بھی بےحرمتی کا باعث بنتے ہیں.
العجب و الغضب. کہ صرف ایک مجسمہ نے، جی ہاں صرف ایک دھرتی زاد پنجابی سارنگ گکھڑ کے مجسمے نے کابل سے پشاور تک نہ صرف کرائے کے قاتلوں اور دخترفروشوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں. بلکہ باہرلے حملہ آوروں کے دلال اور اردو اسٹبلشمنٹ کے پالتو وطن فروشوں کو بھی تَتے توے پر بٹھا دیا ہے.
ذرا سوچئے، کہ یہ سب کرشمہ صرف ایک بےجان پنجابی مجسمے کا ہے. تو پھر اگر 13-کروڑ جیتےجاگتے پنجابی پورس، جسرتھ کھوکھر، سارنگ گکھڑ، دُلا بھٹی، مہاراجہ رنجیت، احمد کھرل، محرم لک، کالےخان گجر، باز محمد عباسی، بھگت سنگھ کی مثل بن گئے. تو تب کیا منظر ہوگا.
ست سُر صوفی ورثہ ساڈا، پنج پانی تاثیراں.
کیہڑا اپنے قد نوں میچے ساڈے نال کھلو کے.
پنجابی زندہ باد. ✊ 💪
پنجابیت زندہ باد. ✊
پنجابی مقامی ہیروز کو لمبے عرصے تک نظر انداز کیا جاتا رہا الٹا انہیں چور ڈاکو تک کہا جاتا رہا ساتھ پنجابیوں کو طعنے مارے جاتے رہے تمہارے پاس کونسا ہیرو ہے سب افغانی ہیں تمہارے ہیرو
اب اگر پنجاب میں کسی غیر مقامی کا مجسمہ ہٹایا گیا ہے تو اس میں اتنا شور کیوں ؟