گھر کے آئی پی پیز کا کھیل سیدھا مگر خطرناک ہے۔ کاغذوں میں ہزار میگاواٹ کی کیپیسٹی دکھائی جاتی ہے، مگر حقیقت میں دس میگاواٹ بھی نہیں ہوتی کیونکہ انہوں نے کبھی بجلی بنائی ہی نہیں۔ یہ کمپنیاں کیپیسٹی پیمنٹ لیتی رہتی ہیں، مگر جب بجلی بنانے کا وقت آتا ہے تو ان کے پاس صلاحیت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلتی ہے۔ یہ ایک بڑا سکینڈل ہے، مگر جب تک پسِ پردہ ہاتھ پیچھے ہے حالات نہیں بدلیں گے۔
یہ تو ہو سکتا ہے کہ جنگ خوفناک ہو لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ امریکہ اس میں کامیاب ہو.
امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ ایک نئی جنگ ہے. کئی دہائیوں سے ان دونوں سورماؤں نے جتنی جنگیں لڑیں نان سٹیٹ ایکٹرز یا بے بس اور اندرونی خلفشار کا شکار کمزور ریاستوں کے خلاف لڑیں.
ایک طویل عرصے کے بعد یہ ایسےملک سے الجھے ��یں جو اگر چہ ان سےبہت کمزور ہی ہے مگر وہ اتنا طاقتور ضرور ہے کہ ان کے چہروں پر خراشیں ڈال رہا ہے. خراشوں سے حسن گہنا جاتا ہے. حسن گہنا جائے تو عشاق منہ پھیر لیتے ہیں.
عرصے بعد یہ پہلی جنگ ہے جس کی تپش یہ دونوں ملک محسوس کر رہے ہیں. یہ کچھ وقت اور چل گئی ��و لکھ کر رکھ لیجیے اس جنگ سے نکلنے کے لیے امریکہ ایران سے زیادہ بے تاب ہو گا.
ایران نے صرف چند ہفتے مزاحمت دکھانا ہے. اگر وہ یہ مرحلہ گزار گیا تو پھر یہ جنگ حملہ آوروں کے لیے ایک دلدل بن جانی ہے. روس ہے، چین ہے، ان کے بہت سارے قرض بھی واجب الادا ہیں، وہ یہ قرض چکانے کا موقع کیوں ضائع کریں گے. ہو سکتا ہے یہ وہ قرض بھی اتار دیں جو ان پر واجب بھی نہ ہوں.
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست افغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران ��ان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محک��وں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا ��فغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جا��ب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
جولائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے حجتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے جرنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ یہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔
فوج مینڈیٹ چھین لے
فوج گولیاں چلا دے
فوج عدالتیں تباہ کردے
فوج عمران خان کا علاج نا ہونے دے
فوج گندی ویڈیوز بنائے
فوج اغواء کرے لاپتہ کرے تشدد کرے
اور ہم اسی فوج کیساتھ کھڑے ہوجائیں؟ نہیں سوری۔ پہلے فوج ہمارے مینڈیٹ ، مفادات اور لیڈر کیساتھ کھڑی ہو۔
اگر یہ گاڑیاں توڑنے والے لوگوں پر تشدد کرنے والے نامعلوم آپ نہیں ہو تو پھر مریم نقاب پوش بھجوا کر آپکو بدنام کر رہی ؟ آپ بول دو آکر کہ یہ کام مریم کا ہے پھر عوام جانے مریم ج��نے تم خاموش ہو تو تم ہی ہو
ریمنڈ ڈیوس کرائے کا قاتل تھا، ��ہ کئی سال تک وینیزویلا میں گھومتا رہا اور اپنی کمپنی بلیک واٹر کے لیے لوگوں کو شکار کرتا رہا۔
ایک دن وینزویلا کے درالحکومت کراکس کے مین شہرا پر کئی لوگوں کو قتل کیا اور گرفتار بھی ہوا، لیکن مضبوط فوج اور ایٹم بم نہ ہونے کی وجہ سے وینیزویلا کی عدالتیں ریمنڈ ڈیوس کو سزا نہ دے سکیں اور وہ سینہ تان کر واپس امریکہ پہنچا۔
اس لیے اپنی فوج کی قدر کرو ورنہ ریمنڈ ڈیوس جیسے سفاک قاتل تمہارے ملک انسانوں کا شکار کھیلنے آئیں گے اور پکڑے جانے کے باوجود بغیر کسی خراش کے واپس جائیں گے۔