اس مختصر کلپ میں آج سے از کم پچیس سال پہلے قبل امت مسلمہ اور پاکستان کی جو صورتحال بتائی گئی تھی وہ آج بھی ویسی کی ویسی ہے۔
امتِ مسلمہ خصوصا پاکستان کے موجودہ حالات دکھ کر یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے
کہ کیا یہ حالات کبھی ٹھیک ہو سکیں گے کہ نہیں ؟
اسکا فوری جواب یہ سامنے آتا ہے کہ کسی قسم کی کوئی امید نہیں رہ گئی ۔۔! اور یہ بہت مایوس کن ہے۔
لیکن اگر واقعی ان حالات کی بہتری کیلئے کوئی تدبیر سمجھ میں آتی ہے تو وہ اس کلپ کے آخر میں بیان کی گئی ہے۔ براہ کرم خود بھی سماعت فرمائیں اور اسے عام بھئ کریں۔ جزا کم اللہ خیرا
تنظیم اسلامی کے بارے میں معلومات اور شمولیت کیلئے رابطہ فرمائیں:
Email: [email protected]
WhatsApp: +923324353693
(Only text or voice message please)
اس مختصر کلپ میں آج سے از کم پچیس سال پہلے قبل امت مسلمہ اور پاکستان کی جو صورتحال بتائی گئی تھی وہ آج بھی ویسی کی ویسی ہے۔
امتِ مسلمہ خصوصا پاکستان کے موجودہ حالات دکھ کر یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے
کہ کیا یہ حالات کبھی ٹھیک ہو سکیں گے کہ نہیں ؟
اسکا فوری جواب یہ سامنے آتا ہے کہ کسی قسم کی کوئی امید نہیں رہ گئی ۔۔! اور یہ بہت مایوس کن ہے۔
لیکن اگر واقعی ان حالات کی بہتری کیلئے کوئی تدبیر سمجھ میں آتی ہے تو وہ اس کلپ کے آخر میں بیان کی گئی ہے۔ براہ کرم خود بھی سماعت فرمائیں اور اسے عام بھئ کریں۔ جزا کم اللہ خیرا
اللہ کریم حافظ نعیم الرحمن صاحب کو حقیقی معنوں میں دین کی سربلندی اور سرفرازی کے فریضے میں کامیاب و کامران فرمائے اور جس ذمہ داری نے انکی آنکھوں کو اشکبار کیا اس میں سبکدوش کرے آمین الٰہی آمین یارب العالمین
A Kabaddi player in Punjab discovers just before the match that his opponent belongs to the Syed family. He refuses to compete against him, declaring his own defeat, stating that he cannot fight someone from the Syed caste even in the game.
اللہ کریم حافظ نعیم الرحمن صاحب کو حقیقی معنوں میں دین کی سربلندی اور سرفرازی کے فریضے میں کامیاب و کامران فرمائے اور جس ذمہ داری نے انکی آنکھوں کو اشکبار کیا اس میں سبکدوش کرے آمین الٰہی آمین یارب العالمین
آج والدِ محترم رحمہ اللہ کو اپنے رب کی طرف لوٹے ۱۴ سال ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ اور اللہ کی کتاب کی تفسیر اور اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی کوشش میں شب وروز تسلسل کے ساتھ مصروفِ عمل رہے۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء (یہ اللہ کا فضل ہے وہ دیتا ہے جسے چاہتاہے)۔
الحمد للہ ! آج انکی تعلیمات سے پوری دنیا خصوصا اردو اور ہندی سمجھنے والے استفادہ کررہے ہیں۔ موجودہ دور اور آنے والے ادوار کے حوالے سے بھی والدِ محترم کی باتیں اور ہدایات اہلِ دین کیلئے مشعل راہ ہیں۔
والدِ محترم کے سینکڑوں بلکہ اب شاید ہزاروں شاگرد اپنے استاد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے استاد کے علم اور فکر کو پھیلا رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب والدِ محترم کیلئے صدقہ جاریہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ اغفِرلَه وَارحَمهُ وَ اَدخِلهُ فِي رَحمَتِك وَ حَاسِبهُ حِسَابًايَسيِرًا. آمین
اَللّٰهُمَّ نوّرمَرقَدَه وَأكرِم مَنزِلَه و اَلحِقهُ بِالصّالِحِين
اللهم اِنَّهُ كَانَ مِن عِبَادِك خَلَقتَهُ وَ هَدَيتَهُ لَلاِسلَامِ وَاِنَّهُ يَحتَاجُ اِلٰي مَغفِرَتِك وَمَن يَّغفِرُالذُّنُوب اِلَّا اَنتَ فَاغفِر لَہُ مَغفِرَةً مِن عِندِكٓ وٓارحٓمهُ إِنَّك اَنتَ الغَفُورُالرّٓحِىمُ.
اَللّٰهُمَّ لا تَحرِمنَااَجرَهُ وَلَا تَفتِنَّابَعدَه
اٰمين ثم اٰمين
وہ وقت آیا کہ ہم کو قدرت ہماری سعی و عمل کا پھل دے
بتا رہی ہے یہ ظلمتِ شب کہ صبح نزدیک آ رہی ہے
ابھی ہیں کچھ امتحان باقی ‘ فلاکتوں کے نشان باقی
قدم نہ پیچھے ہٹیں کہ قسمت ابھی ہمیں آزما رہی ہے
سیاہیوں سے حزیں نہ ہونا‘ غموں سے اندوہ گیں نہ ہونا
انہی کے پردے میں زندگی کی نئی سحر جگمگا رہی ہے
رئیسؔ اہلِ نظر سے کہہ دو کہ آزمائش سے جی نہ ہاریں
جسے سمجھتے تھے آزمائش وہی تو بگڑی بنا رہی ہے!
آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں بھلے آپ کو کچھ بھی نہ آتا ہو لیکن احترام کرنا ضرور آنا چاہیے کیونکہ یہ احترام ہی تو ہوتا ہے جو شدید غم اور غصے میں زبان اور ہاتھ پر قابو رکھنا سکھاتا ہے۔ یہ احترام ہی ہوتا ہے جو ہم لبوں کو سی لیتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں۔
کسی کا مان مت توڑیں
مان اور محبتیں تو
نصیب والوں کے حصے میں آتی ہیں
اور نصیب والے ہی انھیں
سنبھال پاتے ہیں ،
کسی کے دل میں جگہ بنانے کے لیئے
بہت ٹائم درکار ہوتا ہے
لیکن دل سے اترنے کے لئیے فقط آپ کی
ایک کوتاہی اور غلطی کافی ہے
یہی اس دنیا کی ریت ہے ،