خیبرپختونخواہ پر قبضہ معدنیات سے منسلک کرنا اخیر درجے کی سادگی ہے ۔ کیونکہ معدنیات کا کوئی بھی بڑا پروجیکٹ آؤٹ پٹ دینے میں 5 سے 8 سال لیتا ہے
وجہ افغانستان بھی نہیں اس کیلئے پہلے بھی صوبائی حکومت سے کون پوچھتا تھا
اصل وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف ناپاک منصوبہ مکمل کرنے میں KP بڑی رکاوٹ تھی۔ جس پر PTI کے کچھ لوگوں کے تعاون سے کنٹرول حاصل کیا گیا
اب آخری وار کی کوشش کی جائیگی اس لئے جلد از جلد جوابی صف بندی ضروری ہے
ڈاکٹر فیصل کا مطالبہ 🚨🚨
مجھے خان صاحب کو دیکھے ہوئے تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، عمران خان کے مؤثر اور جامع علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی عمران خان تک رسائی دی جائے
چار ہمسائے ہیں۔ تین دشمن بنا لیے ہیں۔ تینوں سے تجارت بند ہے۔ چوتھے سے مہنگے قرضے لیے اب اسکے پراجیکٹس بھی ویران کردیے۔ پانچ صوبے ہیں۔ ایک میں فوج موومنٹ نہیں کرسکتی۔ دوسرے میں گورنر راج ، تیسرے میں کٹھ پتلی حکومت اور چوتھا حمایت کے بدلے ٹھگوں کو دے رکھا ہے پانچویں میں بھی عوامی نماندہ حکومت نہیں۔ ملحق ریاست میں شدید احتجاج دھرنے چل رہے ہیں۔
کچھ عرصے بعد کوئی جرنیل کہے گا یہ سارا سیاسی مسئلہ تھا۔ سیاستدانوں کی کمزوریاں تھیں۔ ملک ہی ایسا تھا۔ گرمی ہے بہت تھی۔ دور ہی بہت تھا۔
گورنر راج لگنے کے ٹھیک 2 دن بعد کور کمانڈر پشاور نے خاص میٹنگ کی ہے میٹنگ معدنیات کے بارے میں تھی ذرائع نے بتایا کور کمانڈر برق رفتاری سے معدنیات نکلوانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا ہے ایسے طریقے بتائیں کہ ہم تیز ترین طریقے سے ان معدنیات کو باہر نکال سکیں اور انہیں بیچ سکیں
شہباز گل
شہباز شریف صاحب، کہاں ہے غزہ پیس بورڈ۔۔۔
ناقابل برداشت منظر۔۔معصوم فلسطینی بچے دہشتگرد اسرائیل کے ہاتھوں امریکی ،یورپی سپورٹ سے بھوک اور گولیوں سے دن دھاڑے دنیا کے آنکھوں کے سامنے شہید ہورہے ہیں۔۔۔۔
یہ سب کچھ عالم اسلام کے حکمرانوں اور جرنیلو کی خاموش سہولت کاری سے ہورہا ہے۔۔۔
ان معصوموں کے خون کی قیمت تاریخ کا قرض ہے۔۔
قید میں مجبور کیا جا رہا ہے۔ عاصم منیر ہر صورت خان کو ڈیل پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ ہم نے پورا سال ضائع کر دیا۔ کیا پورا ایک سال قید تنہائی کاٹنا آسان کام ہے ؟ خود کو ایک کمرے میں بند کریں پھر پتہ چلے کیا ہوتی قید۔ پورا ایک سال ضائع مگر کیوں ؟
آزادی فلسطین کا سرخ دروازہ یحی السنوار کے خون آلود ہاتھ سے کھلے گا،ان شاءاللہ۔۔
یحییٰ السنوار کی شہادت کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔
آپ 2024ء کو جنوبی غزہ کے شہر رفح کے علاقے تل السلطان میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران شہید ہوئے تھے۔
شہادت سے چند لمحے پہلے کی ان کی آخری تصویر آج بھی ان کی مزاحمت کے آخری لمحات کی یاد دلاتی ہے۔سنوار کی غیر معمولی جرات،وژن،استقامت اور قربانی سے تا ابد حریت پسند رہنمائی اور رہبری لیتے رہیں گے۔۔
اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
فلسطین، فلسطینیوں کا ہے پورے کا پورا ہے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا۔ انشاءاللہ
پہلے گڈ طالبان واپس لاؤ۔ پھر دہشت گردی شروع کرواؤ۔ پھر آپریشن کے نام پر علاقہ خالی۔ پھر معدنیات نکالو بیچو۔ اور پھر قصور پی ٹی آئی کا۔ اب نئی کہانی مراد سعید دہشت افغانستان میں ہے اور دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔ مطلب عوام چ ہے۔ کچھ بھی کہانی بیچو۔
سارا معاملہ معدنیات کا ہے اور اس سے پیسے بنانے کا ہے۔ ورنہ سب کو یہ بات پتہ ہے کہ دہشت گردی کا حل لوکل لوگوں کو ساتھ ملانے کے بغیر ممکن نہیں۔
کور کمانڈر پشاور نے کہا تھا فوج کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے مقبول ہو جاتا ہے وہ یہ سوچ رہے ہیں کیونکہ ہمارے خلاف ہی بیانیہ چلتا ہے تو کیوں نہ فضل الرحمان اور ایمل ولی خان کو لانچ کریں کیونکہ یہی ایک چیز ان کو پتا چل گئی ہے کہ بکتی ہے
شہباز گل