ملیر میں 17 سالہ ارشاد کی پولیس حراست میں مبینہ ہلاکت پر صدر پی ٹی آئی کراچی فہیم خان کا شدید ردعمل
17 سالہ ارشاد کی مبینہ پولیس حراست، تشدد اور کرنٹ لگا کر ہلاکت کے اہلخانہ کے الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ سندھ پولیس اور سندھ حکومت اس واقعے سے نظریں نہیں چرا سکتیں۔
آئی جی سندھ فوری نوٹس لیں، واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کو معطل کرکے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے۔
کسی بھی شخص کو، چاہے وہ زیرِ حراست ملزم ہی کیوں نہ ہو، قانون اپنے ہاتھ میں لے کر جان سے مارنے کا حق نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف ہر مظلوم اور متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ارشاد کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کرنا سندھ حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔
فہیم خان
صدر، پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن
#JusticeForIrshad #PTIKarachi
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
اب اگر آپ میں سے ہر بندہ اسے ۱۰ بندوں تک پنچا دے تو یہ واقعہ قوت بن سکتی ہے۔ سرحد یونیورسٹی کے ایڈمیشن ڈیٹ میں کچھ دن رہ گئے ہیں۔ اس کی بائیکاٹ کی مہم ہم سب کو چلانی چاہیئے۔
ان یونیورسٹیز کو کچھ نہ کچھ عوامی ردِ عمل ملنا چاہیئے۔
شئیر کریں اس سے پہلے کہ درندوں کے ہاتھ لگ جائے
ابھی کچھ دیر قبل بنی گالہ اسلام آباد کی حدود سے ماریہ نامی یہ معصوم بچی ملی ہے جو غلطی سے بس میں سوار ہوکر کوئٹہ سے اسلام آباد آگئی ۔
سڑک پہ بیٹھی سہمی ہوئی تھی ﷲ نے کرم کیا کہ کسی برے ہاتھ میں نہیں گئی
اس بچی کو کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ یہ اس کے والد کا نام غلام رسول ہے چودہ اگست کو کسی نے اس کو بس میں چڑھا دیا تھا
یہ بیچاری اسلام آباد پہنچ گئی پشتو بولتی ہے دس دن سے مختلف علاقوں میں رل رہی ہے ۔
ایک پشتو سمجھنے والے پولیس والے نے اس کو پکڑا تو پتا چلا کہ یہ زہنی معذور ہے بیچاری بھوکی تھی انہوں نے کھانا کھلایا
یہ کاسی روڈ / حاجی غیبی روڈ، کوئٹہ کی رہائشی ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔
جیسے کل آپ نے کراچی والے بچے کو سب تک پہنچایا تو الحمداللہ اس کے والدین کا پتا چل گیا
تو اس بچی کا بھی فرض ادا کریں ہوسکتا ہے کہ آغواء کرکے کوئی لے آیا ہو
😥😔😪😪
اہم پیغام 🚨🚨
پشتو ترجمہ
ہمیں معلوم ہے، ہمارے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ کوہاٹی گیٹ بنوں سے گاڑیوں میں دہشت گردوں کو لا کر دوبارہ علاقوں میں آباد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ثبوت عام کرنے پر مجبور نہ کیا جائے کہ دنیا دیکھے کہ فوج دہشت گردوں کی آباد کاری کر رہی ہے۔
بنوں پولیس
آیت نور — ایک اور معصوم زندگی چھین لی گئی 💔
ہری پور میں زیادتی کا نشانہ بننے والی معصوم آیت نور کی لاش برآمد ہونے کی خبر انتہائی دلخراش ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے ارکان ایک بچی کے ساتھ زیادتی اور ظلم کے خلاف احتجاج کرکے ابھی اپنے گھروں تک پہنچتے ہی ہیں کہ کسی دوسری معصوم بچی کے ساتھ ظلم کی ایک اور خبر سامنے آ جاتی ہے۔
آخر کب تک ہم اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟
آخر کب تک ایک واقعے کے بعد دوسرے واقعے پر صرف احتجاج اور انصاف کا مطالبہ کرتے رہیں گے؟
ہمیں صرف مذمت نہیں، ایسا مؤثر نظام چاہیے جو ہمارے بچوں کو زندہ اور محفوظ رکھ سکے۔
آیت نور کے مجرموں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
آیت نور کے لیے انصاف — پاکستان کے ہر بچے کے لیے تحفظ۔ 😭💔
#JusticeForAyatNoor #آیت_نور_کو_انصاف_دو #ProtectOurChildren #ChildProtection #StopChildAbuse #HRCPakistan
🚨اہم انکشاف
ہم سے ہمارے فون مانگے جا رہے ہیں تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں اور ساتھ ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ" ہم تمھارے ساتھ اور تمھارے گھر والوں کے ساتھ یہ اور وہ کر دیں گے "
طالبہ
وزیر اعظم شہباز شریف
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
وزیر اطلاعات عطا تارڑ
چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف
سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال
اور سپریڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ
کے خلاف عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔۔۔۔
حامد میر انٹرنیشنل میڈیا پر,
پوری دنیا کو حکومت کا سفاکانہ چہرہ دکھا رہے ہیں!!
حکومت نے توہینِ عدالت کی ہے۔ عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے (PIMS) منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کو عمران خان کی میڈیسن کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔ عمران خان نے اپنی بہن کو بتایا کہ ’یہ انسان نہیں ہیں، یہ مجھے بہت ٹارچر کر رہے ہیں‘۔
اس طرح حکومت نے بالکل صاف صاف توہینِ عدالت کر دی!
کیا قانون نافذ کرنے کا طریقہ کار یہ ہے؟
وہ پتیلا نہیں تھا اس کے خاندان کی روزی روٹی تھی
جب اس کو معلوم ہوا کہ اس کی روزی ختم ہونے جارہی ہے تو وہ کیا کرتا افسوس
تصویر میں نظر آنے والے بچے کو صبح پیرا فورس نے تنگ کیا عینی شاہدین کے مطابق اپیل میانہ محلہ کے رہائشی ابوبکر کی لاش پپلاں سے مل گئ ہے
جس جوان کی لا ش آج صبح تھل کینال نہر سے ملی ھے چاولوں کی ریڑھی لگاتا تھا واپڈا پل کے ساتھ
تو پیرا فورس نے چاولوں کا پتیلا اٹھا کر نہر میں پھینک دیا۔
نوجوان نے دل برداشتہ ہو کر نہر میں چھلانگ لگا دی اعلیٰ افسران کو جانچ پڑتال کرنی چاہیے
اب یہ بیچارا تو اس دنیا کے چلا گیا کیا کسی کے کانوں پہ جو تک رینگے گی ؟؟؟
اس کی ماں سکتے میں ہے کیا کوئی اس کے انصاف کے لیئے آواز اٹھائے گا ؟؟؟؟
😪😪😪
یہ کہانی پڑھیں پتا نہیں حکومت اس معاملے میں کیوں سوئی ھوئی ھے کراچی شیلٹر میں موجود ایک لڑکی کو اپنے پنجاب کے گھر کا ایڈریس اور حیدر آباد میں رشتے داروں تک کا ایڈریس یاد تھا لیکن شیلٹر والوں نے اسے گھر نہیں پہنچایا بلکہ شیلٹر میں ھی قید رکھا ان شیلٹر والوں کی مکمل انکوائری ھونی چاہیے اور انکا طریقہ کار حکومت کو خود طے کرنا چاہیے