@RusEmbPakistan Say it loud and clear that you need @ImranKhanPTI for this region. The people of Pakistan have already reacted loudly on 8th February that they are with @ImranKhanPTI
The Embassy of Russia in Islamabad is closely following the developments in Pakistan, including the political situation and court decisions. However, we believe that it is up to the Pakistani people to react to and comment on these developments.
اسرائیلی صورتحال پر جذباتی تبصرے دل کی تسلی کیلئے تو اچھے ہیں لیکن زمینی حقائق اتنے سادہ ہر گز نہیں
خاص طور پر جب مغربی میڈیا اور اسرائیل خود ہائی لائٹ کر کے حماس کے کامیاب حملوں کی خبریں دے رہے ہیں
سابق صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ اتنی کوریج تو یوکرین کی دو سالہ جنگ کی نہیں ہوئی جتنی ان حملوں کی دو گھنٹے میں ہوئی اور یہ عجیب بات ہے
حماس کی کل نفری کبھی بھی 17000 اور حزب اللہ کی 20000 سے زیادہ نہیں رہی دونوں میں اتنی قوت نہیں کہ کوئی فیصلہ کن جنگ لڑ سکیں
اسرائیل سیاسی حالات سے ہٹ کر بھی گریٹر اسرائیل کے جس منصوبے پر کام کر رہا ہے وہ اس میں تیزی لا رہے ہیں حماس کے موجودہ حملوں کو جواز بنا کر اسرائیل تین اقدام کریگا
بظاہر غیر متعلقہ لبنان میں پیش قدمی کریگا جس کیلئے حزب اللہ اسے جواز فراہم کریگی اسرائیل کی دلچسپی پورے لبنان کی بجائے زیادہ سے زیادہ اس کے علاقے عنجر Anjar تک ہو گی
مسجد اقصی گرا دی جائیگی اور عین ممکن ہے اس کا ذمہ دار حماس کے راکٹ قرار دیئے جائیں
حماس حملوں کے باوجود اسرائیل غزہ پر مکمل قبضے کی بجائے اسے آئندہ حملوں کے جواز کیلئے صرف گھیراو میں رکھے گا
اس ساری صورتحال کا اجتماعی جائزہ لیں تو اسرائیل کی عنجر تک متوقع پیش قدمی کی وجہ دمشق کو نشانے پر لینا ہے جہاں سے دجال کے مقابل حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کی پیشگوئی ہے یاد رہے احادیث میں دجال دمشق سے پسپائی اختیار کر کے مقام لد تک پہنچے گا
دوسری طرف خراسان کے بندوبست کیلئے صیہونیوں نے ہمیں چنا نواز شریف سے اسرائیلی وزیر کی ملاقات کے بعد اس کی واپسی کیلئے اقدامات میں تیزی آ گئی ہے اسرائیل کے مقابل واحد آواز کو بند کر دیا گیا ہے واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ نگران حکومت پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے موقف کے خلاف دو ریاستی فارمولے یعنی اسرائیل اور فلسطین کی بات کر کے دراصل اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رہی ہے پاکستان سے متحدہ اسلامی فوج کے سربراہ راحیل شریف موجودہ صورتحال پر مکمل خاموش ہیں اور پاکستان اچانک افغانستان کے خلاف مختلف اقدامات کرنا شروع ہے
گریٹر اسرائیل پروجیکٹ میں حماس ، حزب اللہ اور پاکستان اسرائیل کے غیر اعلانیہ اتحادی نظر آ رہے ہیں