پیارے مزمل۔
آپکو میجر صاحب نے ایک بار پھر استعمال کر لیا۔
میجر صاحب کی نظر یہ تصویر۔ میرے امریکہ آنے سے چند دن پہلے: عمران خان کے گھر میں ملاقات کے بعد کی تصویر۔
ویسے امریکہ آنے سے ایک رات پہلے انہی کے گھر میں رات 12:30am سے تقریبا رات 2 بجے تک میری اور خان صاحب کی ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں بہت سارے میر صادق اور میر جعفروں کا زکر اور notes exchange ہوئے تھے۔ تب تک خان صاحب کو بہت سوں کی حقیقت کا پتہ چل چکا تھا۔ اس آخری میٹنگ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ چاہیئے ہوئیں تو بتا دیجیے گا۔
رہی بات شہزاد اکبر کی تو انہوں نے کیوں استعفی دیا تھا اس بات کا نہ آپکو علم ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علم صرف دو لوگوں کو تھا ایک پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور دوسرا شہباز گل۔ آپ پارٹی پوزیشن میں بہت جونئیر تھے۔ آپکے سامنے انکو کب ہٹایا گیا۔ آپکا وزیر اعظم آفس سے تو کوئی دور دور تک لینا دینا نہیں تھا۔ عمران خان گرفتار ہونے سے ایک دن پہلے تک شہزاد اکبر سے رابطے میں تھے۔
چلیں آپکا یہ مسلہ تو حل کر دیا۔ ویسے یہ نان ایشو تھا۔
اصل بات خان کی رہائی اور علاج ہے۔ تو جب تک یہ مسلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ نے بجٹ صرف مختصر مدت کے لئے پا�� کروانا ہے۔ اور سرپلس بجٹ پاس نہیں کروانا۔ اور دوسرا KP کے لوگوں کا پیسہ جنرلز کی جیب میں نہیں ڈالنا۔
آواز ِ دروں —•—
سقوط ِ مشرقی پاکستان کو محض بھارتی سازش قرار دیکر حقائق سے آنکھیں چرانے کی بجاۓ اپنی غلطیوں کا ادراک کر لیا جاتا تو آج کا پاکستان مستحکم ، خوشحال اور آئینی جمہوری ریاست بن چکا ھوتا ۔۔۔
خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں جاری بے چینی ھماری غیر ذمہ داری ، ، ایڈھاک ازم پر مبنی پالیسیوں ، اشرافیہ کے مفادات کے مسلسل تحفظ ، لوٹ مار اور جینوئن جمہوری عمل روکنے کا رد عمل ھیں
غیر جمہوری مائینڈسیٹ ، موقع پرست سیاست اور نظریۂِ ضرورت پر مبنی نظام ِ عدل کی بد اعمالیاں سارا پاکستان بھگت رھا ھے
مرضی کی حکومتیں بنانے ، بات نہ ماننے والی حکومتیں بگاڑنے، حسب ضرورت سیاسی جماعتیں جنم دینے اور پھر انھیں ختم کر دینے ، نااھل لیکن من پسند افراد کو ملک پر مسلط کرنیکا نتیجہ آج ھماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سامنے کھڑا ھے ۔۔
ھمارے دشمن نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا ھے اور یہی دشمنی کا تقاضا تھا ۔۔
آج کہیں مسلح شورش ھے اور کہیں جتھوں کی حکمرانی
کہیں ناقابل قبول مطالبات ھیں کہیں ناقابل ِ عمل خواھشات کا انبار ---
ایسے میں ٹوٹکے نہیں تدبر ، ھمت اور جمہوری رویے ھی کام آتے ھیں
سیاسی قوتوں کو تسلیم کرکے آگے بڑھا جاۓ ، طاقت اور سیاست کا امتزاج راستہ بنا سکتا ھے !
سیاستدان اکٹھے نہ ھوۓ تو خاکم بدھن نئے سانحات جنم لے سکتے ھیں ۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ جہاں بھی ان منحوس بوٹوں کا سایہ پڑا ہے وہاں
پھر تباہی ہی آئی ہے !
آج کوئٹہ میں بھی دھماکہ ہوا، جو صوبہ کئی دیہائیوں سے فوج کے
قبضہ میں ہے۔۔۔۔
یہ دھماکے آخر وہیں کیوں ہوتے ہیں جہاں فوج ہوتی ہے؟
پاکستان کے دو سب سے بُزدل اور کمینے جرنیلز۔
بُزدل اس لیے کیوں کہ ان دونوں نے اپنی ماؤں کو بیچا۔
کمینے اس لیے کہ بہت سستے میں بچا۔
دونوں پر لانت بےشمار۔