ایک بائیولوجی پروفیسر کا کہنا ہے کہ
آپ کا معدہ وہ جگہ ہے جہاں کارٹیسول (Cortisol) یعنی ذہنی تناؤ کا فضلہ جمع ہوتا ہے،
رات کو سونے سے پہلے صرف ایک مخصوص پروٹین کا استعمال کر کے اسے اپنے جسم سے نکالیں، اور آپ کی زندگی بدل جائے گی۔
9 منٹ کے اس لیکچر میں جو حل انہوں نے سکھایا وہ درج ذیل ہے👇
پاکستانی حقیقت ایک نظر میں
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن کوئی خاص رقم نہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
• 1 لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے افراد ملک کے تقریباً ٹاپ 5٪ کمانے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔
• 4 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ماہانہ آمدن رکھنے والے افراد ٹاپ 1٪ میں آتے ہیں۔
تقریباً 25 کروڑ آبادی والے پاکستان میں:
• صرف 1 کروڑ 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو ماہانہ 1 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کماتے ہیں۔
• جبکہ صرف 25 لاکھ افراد کی آمدن 4 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد ہے۔
اگر آپ کی ماہانہ آمدن 1 لاکھ روپے ہے تو آپ تقریباً 23 کروڑ 80 لاکھ پاکستانیوں سے زیادہ کما رہے ہیں۔
یاد رکھیں، مسئلہ ہمیشہ کم آمدنی نہیں ہوتا، بعض اوقات اصل مسئلہ مالی منصوبہ بندی، غیر ضروری اخراجات اور بجٹ کے فقدان کا ہوتا ہے۔ 💡💰
ایلیسن بوتھا: وہ عورت جس نے موت کو شکست دی
اس نے ایک ہاتھ سے اپنا سر تھام رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے جسم سے باہر نکلتی ہوئی آنتوں کو اندر روکا ہوا تھا۔ پھر اس نے رینگنا شروع کیا۔
18 دسمبر 1994 کی رات، 27 سالہ ایلیسن بوتھا نے ایک بالکل عام سا کام کیا۔ اس نے اپنی ایک سہیلی کو گھر چھوڑا، اور پھر جنوبی افریقہ کے شہر پورٹ الزبتھ میں اپنے اپارٹمنٹ پہنچی۔ اس نے گاڑی پارک کی اور پیچھے سے اپنے کپڑوں کا بیگ لینے کے لیے مڑی۔ اسی لمحے اس کی زندگی بدل گئی۔
ایک شخص چاقو لہراتا ہوا زبردستی اس کی گاڑی میں گھس آیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی، وہ اپنی ہی گاڑی میں قیدی بن چکی تھی۔ اغوا کار نے گاڑی چلائی اور راستے میں اپنے ایک اور ساتھی کو بھی بٹھا لیا۔ وہ اسے ایک سنسان جھاڑیوں والے علاقے میں لے گئے تاکہ وہاں اس کی چیخیں کوئی نہ سن سکے۔
اس رات جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، وہ انسانی سوچ سے باہر ہے۔
اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اس کے پیٹ پر درجنوں وار کیے گئے اور اس کی آنتیں جسم سے باہر نکال دی گئیں۔ اس کے گلے پر اتنی بار چھری چلائی گئی کہ اس کا سر جسم سے تقریباً الگ ہو چکا تھا۔ حملہ آور اسے مردہ سمجھ کر وہیں مٹی میں چھوڑ کر چلے گئے۔
لیکن وہ غلط تھے، ایلیسن اب بھی سانس لے رہی تھی۔
اندھیرے میں خون سے لت پت پڑے ہوئے اسے ایک بات بالکل واضح طور پر سمجھ آ گئی: اگر وہ یہاں سے نہ ہلی تو وہ وہیں مر جائے گی اور کسی کو کبھی پتہ بھی نہیں چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔
زندہ رہنے کا فیصلہ
سب سے پہلے اس نے ایک نشان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی انگلیوں سے اس نے ریت پر اپنے حملہ آوروں کے نام لکھے اور ان کے نیچے وہ چار الفاظ لکھے جنہوں نے بعد میں دنیا کو رلا دیا:
"I love Mom" (ماں، مجھے تم سے پیار ہے)
پھر اس نے حرکت کرنا شروع کی۔ اس کا سر پیچھے کی طرف گر رہا تھا کیونکہ گردن کے پٹھے کٹ چکے تھے، اور پیٹ کے زخم سے آنتیں باہر نکل رہی تھیں۔ اس نے ایک ہاتھ سے اپنا سر سیدھا پکڑا، دوسرے سے اپنے اعضاء کو اندر روکا اور محض زندہ رہنے کی تڑپ کے سہارے رینگنا شروع کیا۔
وہ گرتی، پھر اٹھتی، پھر گرتی۔ اس کی نظر دھندلا رہی تھی، لیکن وہ ہر بار کھڑی ہو جاتی۔ آخر کار وہ سڑک تک پہنچ گئی۔
رات پونے تین بجے، ایک ویٹرنری طالب علم وہاں سے گزرا۔ اس نے ہیڈلائٹس کی روشنی میں کسی چیز کو دیکھا، پہلے اسے لگا کہ کوئی لاش ہے، لیکن پھر اس نے حرکت کی۔ اس نے ایمبولینس بلائی اور ایلیسن کو ہسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹرز حیران تھے کہ اتنے شدید زخموں کے باوجود کوئی انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ ایک سرجن نے کہا کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسا کیس نہیں دیکھا۔
انصاف اور نئی زندگی
ایلیسن نہ صرف زندہ رہی بلکہ اس نے ہسپتال کے بستر سے ہی پولیس کو اپنے حملہ آوروں کی شناخت بتائی۔ فرانز ڈو ٹوئٹ اور تھیونس کروگر کو گرفتار کر لیا گیا اور 1995 میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
ایلیسن نے خاموش رہنے کے بجائے اپنی پہچان ظاہر کی اور دوسری خواتین کے لیے ہمت کی مثال بن گئی۔ اس نے کتاب لکھی، وہ ایک موٹیویشنل اسپیکر بنی اور 30 سے زائد ممالک کا سفر کیا۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ وہ شاید کبھی ماں نہ بن سکے، لیکن اس نے دو بیٹوں کو جنم دیا۔
حالیہ مشکلات اور جیت
جولائی 2023 میں، 28 سال بعد دونوں حملہ آوروں کو پیرول پر رہا کر دیا گیا، جس سے ایلیسن کو شدید صدمہ پہنچا۔ ستمبر 2024 میں اسے دماغی شریان پھٹنے (Aneurysm) کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اس کے جسم کا ایک حصہ متاثر ہوا۔
لیکن فروری 2025 میں، عوامی احتجاج اور قانونی جائزے کے بعد، ان مجرموں کی رہائی منسوخ کر دی گئی اور انہیں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔
آج ایلیسن آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہی ہے۔ اس نے حال ہی میں ایک پیغام دیا:
"آپ جس بھی مشکل سے گزر رہے ہوں، وہ صرف ایک عارضی وقت ہے۔ یہ آپ پر اچانک بھاری پڑ سکتا ہے، لیکن اگر آپ آگے بڑھتے رہیں گے، تو دوسری طرف ضرور نکلیں گے۔ میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔"
ایلیسن بوتھا کی کہانی صرف بچ جانے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس انسانی جذبے کی مثال ہے جو سب کچھ چھین جانے کے بعد بھی ہار ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔
Via Facebook
Introducing Huma Finance (HUMA) on Binance Launchpool! Farm HUMA by Locking BNB, FDUSD, and USDC | Sign up as a Binance user to get 100 USD worth of trading fee rebates now!
https://t.co/ehnHtCXujr
Introducing Huma Finance (HUMA) on Binance Launchpool! Farm HUMA by Locking BNB, FDUSD, and USDC | Sign up as a Binance user to get 100 USD worth of trading fee rebates now!
https://t.co/MRs6C03iGV
Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 55 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://t.co/9k6riSrdHS and use my username (afzal1199) as your invitation code.
Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 55 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://t.co/9k6riSrdHS and use my username (afzal1199) as your invitation code.
Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 55 million members worldwide. To claim your Pi, follow this link https://t.co/9k6riSrdHS and use my username (afzal1199) as your invitation code.
مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کبھی اپنی زندگی میں نماز کو اس کے مقررہ وقت پر پڑھنے اور اس میں دیر نہ کرنے کی اتنی خوبصورت وضاحت پڑھی ہو جتنی کہ اس نابغہ ڈاکٹر علامہ عباس کی تحریر میں ہے۔
انہوں نے نماز کے بارے میں یوں لکھا ہے:
نماز کو مقررہ وقت پر نہ پڑھنے کی جو بات مجھے شرمندہ کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ میں نے نماز کا وقت خود نہیں مقرر کیا اور نہ ہی میں نے اس کا وقت منتخب کیا!
یہ خالق تعالیٰ ہے جس نے اس کا وقت مقرر کیا ہے... وہ اللہ جس نے اس کائنات کو اس کی عظمت، وسعت، خوبصورتی، بہترین ترتیب، کثرتِ مخلوقات، نعمتوں اور معجزات کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ چاہتا ہے کہ میں اس کے سامنے کھڑا ہو جاؤں، اس سے بات کروں اور اس سے مناجات کروں۔
اور میں کیا کرتا ہوں؟
اکثر اوقات میں اس وقت کو اپنی آخری ترجیح بنا دیتا ہوں یہاں تک کہ وہ وقت قریباً گزر جاتا ہے، ہر معمولی کام اور چھوٹے سے چھوٹے معاملے کو اس پر مقدم کر دیتا ہوں!
اللہ تعالیٰ مجھے طلب کرتا ہے (اور میں اس کی عظیم کائنات میں ایک بے وزن ذرہ ہوں) تاکہ میں اس کے سامنے کھڑا ہو جاؤں؛ اور میں زندگی کی فضولیات اور اس کی فانی زینتوں میں مشغول ہوں۔
وہ مجھے چند منٹ کے لئے طلب کرتا ہے، اور میں انکار کرتا ہوں، ٹال مٹول کرتا ہوں اور تاخیر کرتا ہوں، پھر میں اپنی عادت کے مطابق تاخیر سے آتا ہوں!
اس سے بڑی بدبختی کیا ہو سکتی ہے؟!
وہ مجھے اپنے ساتھ (ایک بند ملاقات) کے لئے بلاتا ہے؛ میں جو ضرورت مند ہوں اور وہ جو بے نیاز اور فضل کرنے والا ہے؛ اور میں اس ملاقات کو ہر قسم کے خیالات اور بے خیالی کا مجموعہ بنا دیتا ہوں... میں اپنے جسم کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں اور میرا دماغ غائب ہوتا ہے!
وہ چاہتا ہے کہ میں چند منٹ کے لئے ہر چیز سے دور ہو جاؤں؛ تاکہ اپنے جسم اور دماغ کو آرام دوں، زندگی کے شور اور مصروفیات سے تھوڑی دیر کے لئے الگ ہو جاؤں، اور اپنی شکایات اور پریشانیوں کو اس کے سامنے پیش کروں۔
وہ عظیم خالق، جو میری عبادت اور وقت کا محتاج نہیں ہے، مجھے طلب کرتا ہے تاکہ میری آواز سنے اور میں جو ٹال مٹول کرتا ہوں!
پھر میں آتا ہوں یا تو بھاری دل کے ساتھ یا جلدی میں جیسے میں مجبوراً آ رہا ہوں!
میں حاضر غائب ہوں!
وہ اس ملاقات کو خاص بنانا چاہتا ہے اور میں اسے ایک سرد روٹین بنا دیتا ہوں!ک
اس سے زیادہ بدبختی کیا ہو سکتی ہے؟
اللهم اغفر لي كل صلاةٍ لا تليق بجلال وجهك وعظيم سلطانك۔
منقول
اس بھائی نے انڈیا سے 10 جون کو رابطہ کیا
بہن کو بریسٹ کینسر تھا
وظیفہ دیا گیا، 21 جون یعنی کل رابطہ کیا کہ الحمد للہ شفایاب ہوگئیں۔
بے شک قرآن کریم شفا ہے غم و رنج و بلا سے، ہدایت ہے بھجے دلوں کی۔
شیئر کیجیئے آپ کا شیئر کسی ناامید مریض کے لئے امید و حیات نو بن سکتا ہے۔
پاکستانیوں میں شاید پہلی دفعہ سعودیہ اور دبئی یو اے ای سے پہلے عید پڑھی گئی کیونکہ پاکستان میں بہت ساری جگہوں پر ساڑھے چھ بجے یا چھ بجے عید ادا کی گئی اور سعودیہ اور یو اے ای میں ایک گھنٹہ بعد میں مطلب پاکستان میں پہلے ہی ادا کی گئی