لگتا ہے کہ پاکستان پر مسلط کیا گیا سیٹ اپ ملک میں اور خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ میں کوئی بڑا سانحہ کروانا چاہتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا نیشنل میڈیا اس ڈرٹی گیم میں اُن کا ساتھ دے رہا ہے۔
ہماری سی ٹی ڈی اور پولیس کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش میں کس کو حملے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ کیا APS جیسے سانحے کی تیاری کی جا رہی ہے؟ کیا اپنی جعلی حکومت کو بچانے کے لیے ملک میں کسی نئے سانحے کی پلاننگ ہو رہی ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو ایک بار پھر لہو لہان کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو تجربہ گاہ سمجھ کر PML N کوئی بڑی گیم کرنے والی ہے؟
ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی ماشاءاللہ انتہائی باصلاحیت اور جدید اسلحے سے لیس ہے۔ وفاق کا ادارہ HIT صوبائی حکومت سے رقم وصول ہونے کے باجود جان بوجھ کر سامان کی فراہمی کو سست روی کا شکار کر رہا ہے۔
جو اسلحہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو دیا گیا ہے وہ مفت میں نہیں بلکہ پیسے دے کر وصول کیا گیا ہے۔ باقی سامان پیسے لینے کے باوجود نہیں دیا جا رہا۔
وفاق پر جعلی طریقے سے قابض ٹولہ ملک میں تباہی پھیلانا چاہ رہا ہے۔ پاکستان ہمارا ہے۔ پاکستانی ہمارے ہیں۔ کسی بھی قسم کا کوئی بھی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو آئین و قانون کے مطابق ایسا جواب دیں گے کہ پوری عمر سر نہیں اُٹھا پاؤ گے۔
کیا اپنے ملک کی خدمت کا صلہ یہی ہے؟
حماد اظہر، جنہوں نے پاکستان کو FATF گرے لسٹ سے نکالنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، آج ان پر 71 دہشت گردی کے مقدمات ہیں۔ منہ پر کپڑا، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور عدالت میں پیشی ایسے جیسے کوئی خطرناک دہشت گرد ہو!
ایک سابق وفاقی وزیر اور پڑھے لکھے سیاسی رہنما کے ساتھ یہ سلوک آخر دنیا کو کیا پیغام دے رہا ہے؟
جب سیاسی اختلاف کو دہشت گردی، وفاداری کو جرم اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کو سزا بنا دیا جائے تو سوال افراد کا نہیں رہتا، پورے نظام پر اٹھتا ہے۔
ہتھکڑیاں ہاتھوں میں ڈالی جا سکتی ہیں، نظریے اور حوصلے کو نہیں۔
@Hammad_Azhar@PTIofficial
عمران خان کے اہل خانہ کا اہم تردیدی بیان!
سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی اور عمران خان کی ملاقات کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں اور منسوب بیانات پراہل خانہ کا بیان۔
۲۷ ستمبر ۲۰۲۶
- نورین نیازی اور ان کی عمران خان سے ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
* اس ملاقات سے منسوب بیان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ گردش کرنے والی تمام باتیں من گھڑت ہیں۔
- نورین نیازی نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آخری بار ۲۵ اگست ۲۰۲۶ کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اس ملاقات کی کوئی تفصیلا ت کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔
- یہ بات بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ اس طرح کی من گھڑت کہانی ایک ایسے وقت میں پھیلائی جا رہی ہے جب وہ خود غیر قانونی طور پر حراست میں ہیں اور ان کے پاس ان دعوؤں کا جواب دینے یا وضاحت کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔
ہم ان جھوٹی خبروں کی سخت تر دید کرتے ہیں!
منجانب
عمران خان صاحب کے اہل خانہ۔
شیر شاہ خان
@KhanShershah
اہم ترین 🚨
آج ARY نیوز پر سہیل آفریدی اور علی آمین گنڈاپور کے حوالے سے جو خبر چلی تھی خان صاحب کی فیملی نے اسے جھوٹ قرار دیا
اس پیغام کو ہر جگہ پھیلا دیں
یہ وہ شخص ہے جس نے پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے نام ہے حاجی امتیاز اور تعلق ہے منڈی بہاولدین سے جس کو عوام نے سب سے زیادہ ووٹ دیے اس کے ساتھ اس جعلی نظام کا ظلم دیکھیں
شیر شاہ خان کی گفتگو 🚨
پولیس نے ڈھائی گھنٹے کے لیے ہم سب کو حراست میں لیا پھر ہم سب کو الگ کر کے میرے کزنز اور اسٹاف کو واپس بھیج دیا اور خالہ لوگوں کو لے گئے میں اسے اغواء کہوں گا
سابق وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور کی زیرِ صدارت 27 ستمبر کے حوالے سے مشاورت میٹنگ منعقد ہوا، جس میں بہت بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی
علی امین گنڈا پور نے عمران خان کے حق میں شدید نعرے عمران تیرے جانثار
عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا علیمہ خان کی گرفتاری پر احتجاج
لاہور میں پولیس نے میری پھوپھی، علیمہ خان کو اغوا کر لیا ہے۔ ہمارے خاندان کو کچھ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔ ان کے اہل خانہ اور وکلاء ان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔
یہ ایک فسطائی حکومت کا رویہ ہے—جمہوریت کا دعویٰ کرنے کے باوجود لوگوں کو اغوا کرنا، خاندانوں کو ہراساں کرنا اور انسانی حقوق، قانونی تقاضوں اور قانون کی حکمرانی کو پامال کرنا۔
پہلے انہوں نے میرے والد عمران خان کو قید کیا، اب وہ ان کے خاندان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کے اہل خانہ اور وکلاء کو ان تک فوری رسائی دی جائے، انہیں کہاں رکھا گیا ہے اس بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، دنیا اس سے آنکھیں نہیں چرا سکتی۔
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
حسنین رفیق صاحب، آپ کی ہمت کو سلام ہے۔ آپ نے پنجاب کی سرزمین پر وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی میزبانی کر کے بڑا خطرہ اپنے سر لیا۔ آج آپ جرات اور استقامت کی علامت ہیں۔ اللہ تعالی آپ کا نگہبان ہو۔ آپ پر فخر ہے۔
پہلی اخباری خبر۔۔سانحہ پمز میں واحد زندہ بچ جانے والی بچی بھی 22 دنوں بعد انتقال کر گئی،جاں بحق بچوں کی تعداد 15 ہوگئی۔۔
دوسری اخباری خبر۔۔وزیراعظم شہبازشریف لندن پہنچ گئے،چیک اپ کرائیں گے۔۔
اب دونوں خبریں ملا کر پڑھیں،بس کہنا یہ کہ جب تک ہمارے وزیراعظموں کےذاتی چیک اپ لندن یا باہر ہوتے رہیں گےتب تک ہمارےسرکاری ہسپتالوں میں بچےجل جل کر مرتےرہیں گے۔۔
عمران خان کو پاکستان کی ایک جیل میں موت کی کال کوٹھڑی میں انتہائی خراب حالات میں رکھا گیا ہے، برطانیہ کو چاہیے کہ اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان کی رہائی میں مدد کرے۔ سابق وزیراعظم برطانیہ بورس جانسن
یہ ویڈیو مکمل دیکھنا اور پھر اندازہ لگانہ کہ ننگا بادشاہ کتنا سائیکو ہے
یہ شہباز چیمہ کا گھر ہے۔ اور اسکو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے چیف منسٹر کو اپنے گھر ٹھہرایا۔ لعنت ان پولیس والوں پر اور لعنت ہو پولیس کو ایسے احکامات دینے والوں پر
پنجاب پر مسلط جعلی حکومت نے یہ گھر صرف اس لئے توڑا کہ حسنین نے میری مہمان نوازی کی۔ صبح ۵ بجے تک جہاں میں جاتا تھا اُس گھر کی بجلی کاٹ دیتے تھے۔ قسم سے پنجاب کی غیرت مند عوام ایسے کم ظرف بیغیرت اور ظالم حکمرانوں کی حقدار نہیں ہے۔
Ali Muhammad Khan, MNA, is a committed stalwart of PM Imran Khan and PTI. He was imprisoned and held in solitary confinement in a death cell. He endured his captivity with grace and bravery.
His famous speech following the vote of no confidence—standing alone on the floor of the National Assembly and confronting all the forces arrayed against PM Imran Khan—is iconic. It embodies defiance and bravery.
I stand with my brave brother, Ali Muhammad Khan, MNA, because he stood with PM Imran Khan then and continues to stand with PM Imran Khan today.
I am proud of Ali Muhammad Khan, MNA.
@PTIofficial@Ali_MuhammadPTI
PTI نے گجرات سے تمام نیشنل اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں فارم 45 پر جیتی تھیں، گجرات کی نیشنل اسمبلی کی سیٹوں پر PTI کی جیت کے مارجن کا یہ عالم تھا کہ PTI نے ٹوٹل پانچ لاکھ چھبیس ہزار ووٹ حاصل کیے اور ن لیگ اور ان کے حمایت یافتہ امیدوران نے نے ایک لاکھ اکہتر ہزار ووٹ لیا
آج سہیل آفریدی کا استقبال دکھا رہا ہے گجرات سارے کا سارا ہی عمران خان کا ہے
پریس ریلیز:
پاکستان تحریکِ انصاف وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ روا رکھے جانے والے پنجاب پولیس کے شرمناک اور قابلِ مذمت رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ایک منتخب عوامی نمائندے کو ہراساں کرنا یا اغوا کرنے کی کوشش کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مریم نواز اور ان کے غنڈہ گرد عناصر کو اس شرمناک طرزِ عمل پر شرم آنی چاہیے۔
اقتدار عارضی ہے، مگر عوام کے مینڈیٹ کی توہین اور جمہوری نمائندوں کی تذلیل تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے۔
منجانب
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف