میں بھی عمران ہوں
ہمت ہے تھوڑ کے دکھاؤ ہمت ہے خرید کر دکھاؤ ہمت ہے تو مائنس کر کے دکھاؤ
عمران خان وہ حقیقت ہے جسے یہ پیادے تو کیا انکا باپ امریکہ بھی مائنس نہیں کر سکتا
عمران خان ایک نظریہ ہے عمران خان ایک ضد ہے عمران خان حقیقی آزادی ہے جسے پاکستانی قوم حاصل کر کے دکھائیگی
اقبال آفریدی سے جب سوال کیا کہ وفاق یہ مینڈیٹ لے کر آیا کہ دہشت گردی ختم کریں گے لیکن یہ تو تجاوزات ختم کر رہے ہیں اسی دوران مبینہ نامعلوم افراد آئے اور اغواء کر کہ لے گئے، مکمل پروگرام لنک میں
https://t.co/UtaiOLtL3x
معدنیات کے ذریعے ڈاکہ ڈالنے کے لیے عاصم منیر نے ایمرجنسی لگائی۔ دن دہاڑے پاکستان پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔
اسی عاصم منیر نے عمران خان اور اُس کی بہنوں کو ڈر کے مارے قید میں رکھا ہوا ہے۔ عمران خان کی بہنوں پر ایک مقدمہ نہیں ہے، 30 دن سے اوپر ہو گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ ایک مسنگ پرسن بن چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بھی قوم کو تمہاری دن دہاڑے ڈکیتی کے بارے میں بتایا۔ تمہیں ان سے تکلیف بھی اسی بات کی ہے۔ اسی بنیاد پر ان کے خلاف مہم چلا رہے ہو۔
یہ سب تم نے کر لیا ہے، عاصم منیر، لیکن حیثیت تمہاری وہی ہے جو ایران نے رکھی ہے۔ تمہارے مالک تمہیں استعمال کریں گے، تم بھی غلامی میں جھک جاؤ گے، لیکن اب ان کو بھی احساس ہو گا کہ تمہاری حیثیت کیا ہے!
قائدِاعظم نے تمہیں نوکر کہا تھا، نوکر بن کر رہو!
علیمہ خان اور عمران خان کی بہنیں 30 دن کے لیے اغوا ہوئی تھیں۔ ایم پی اوز جو لگا ہوا ہے، وہ ختم ہو چکا ہے، انہیں منظر عام پر نہیں لایا جا رہا۔ 34 دن ہو چکے ہیں۔۔ ان تین بزرگ بہنوں سے انہیں خطرہ کیا ہے یا مراد سعید سے انہیں خطرہ کیا ہے کہ یہ دو لوگ ہیں، عمران خان کی بہنیں اور مراد سعید، کہ کے پی کی جو حکومت ہے، انہیں یہ یاد کریں گے، خان سے غداری نہ کرنا، خان کا ایک بیان تو آئے گا، وہ مجبور ہو جائیں گی۔۔
یہاں یہ بہنوں کو رہا اسی لیے نہیں کروا رہے کہ یہاں جو رہنما موجود ہیں، انہوں نے خود محسن نقوی سے کہا ہے کہ علیمہ خان کی وجہ سے کے پی میں رہنما دباؤ میں آتے ہیں، انہیں رہا نہ کریں جب تک آپ سیٹ اپ یہاں نہ بنا لیں۔۔۔
100 اراکین اسمبلی ہیں، 6 مہینے سے خان کی ملاقات بحال نہیں کروا سکے، ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنے کے لیے سارے تیار ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ ملاقات بحال ہوئی تو اسمبلیاں چھوڑنے کا حکم آئے گا، لیکن یہ اپنی کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں۔۔۔
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
بڑی زبردست ڈیولپمنٹ!!
مشال یوسفزئی کو پارلیمنٹیرینز گروپ سے باہر کردیا گیا,
اب مشال یوسفزئی کے دوستوں کو بھی نکال باہر کیا جائے!!
شکریہ سلمان اکرم راجہ صاحب
@salmanAraja
مجھے ابھی NCCIA کا نوٹیس آیا ہے۔ مجھے گرفتار کرنا ہے تو کر لو!
عاصم منیر میں تمہاری بزدلی سے نہیں ڈرتا۔
مشرف نے اپنا بھیجا ہوا خط پڑھنے پر مجھے غداری کے مقدمے میں 23 سال کی سزا دی تھی۔ کیا وہ میرا سر جھکا سکا تھا؟
عاصم منیر! میں اپنے ایک ایک لفظ پر قائم ہوں!
@KarmaProMaxx@MuradSaeedPTI مری پختون اور مزی کریں پنجاب ہم تو پر بھی اپنا ذندگی گزارتی ہےچاہۓ جتنا بھی سخت کیو نہ ہو مگر پنجاب کو تو فلسطین جیسا ظلم ہورہے ہے اپ کب نکلونگے
@MuradSaeedPTI بہت سیانی دہشتگرد ہے نہ کبھی ڈی ایچ اے کو ٹارگٹ کیا نہ معدنیات کے کانو کو نہ
یہ کیسا دہشتگرد ہے جو ائ ایس اۓ کے بات نہیں مانتے ہے وہ ہمیشہ ٹارگٹ ہوتے
اصل بات یہ ہے
یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچے وردی ہے
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
خیبر پختونخوا سے زمرود نکالنے اور بارود لانے والوں سے احساب ضرور ہوگا
اس میں ولی خان اور مفتی محمود کی خاندان نے اغیار کا مکمل ساتھ دیا ہیں
قوم ان دو خاندانوں کو یاد رکھیں یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں باقی پیپلز اور نون نے تو باری باری سے اس قوم کا خون چوسا ہیں
اس لڑائی میں کون ٹھیک ہے کون غلط یہ فیصلہ تو وقت بہت جلد کردے گا لیکن سلمان اکرم راجہ کا جو ٹویٹ میں نے دیکھا ہے اس میں پارٹی کو نہیں بلکہ غیر جمہوری قوتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے آخر اتنا سخت ردعمل کیوں آرہا ہے؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے اغواء پر خاموشی ناقابلِ قبول ہے! فوری طور پر ان کی موجودگی اور سلامتی واضح کی جائے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجینسی عوامی مینڈیٹ اور جمہوری حق کی سنگین پامالی کی گئی ۔عوام کے ووٹ کو طاقت کے زور پر روندہ گیا ۔ خیبر پختونخوا کسی کی جاگیر نہیں؛ یہ عوام کا صوبہ ہے، اور اس کے مینڈیٹ پر طاقت کے ذریعے ڈاکا کسی صورت قبول نہیں۔ آج عوام کی جانب سے مسترد شدہ ٹولے کو طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا ھے ۔ جن کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں تحریک انصاف کو نشانہ بنا نا ھے ۔
مراد سعید کے گھر پر چھاپے یا کارروائی کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی سیاسی رہنما یا اس کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ گھروں کی حرمت، شہریوں کے بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا احترام کیا جائے؛ سیاسی انتقام اب بند ھونا چاہیے۔
منتخب نمائندوں ، تحریک انصاف کے تنظیمی ساتھیوں ، آئی ڈی ایف کے ڈاکٹر صاحبان کی گمشدگی قانون کی حکمرانی پر سنگین سوال ہے؛ ان کی موجودگی اور سلامتی سے متعلق فوری وضاحت دی جائے۔
@gulzafarkhan باغی صاحب وہ بات یاد ہے اپ کو جس ٹائم اپ نے ریحان زیب کو گالیا دیا تھا جب مروت کے افس سے باہر ایا اور کہا کہ یہ سیٹ میں نے پانچ کروڑ روپے پر لیا ہے تو پر کون تھے وہ لوگ جس سے اپ نے سیٹ خریدا گنڈاپور اور مروت اب گنڈاپور کا دفاع کرنا بھی ضروری ہے
جناب اعلی
🚨🚨🚨 ایمرجنسی الرٹ 🚨🚨🚨
اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر تحریک انصاف کا ان جعلی اسمبلیوں میں موجودگی کی وجہ سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس جعلی جمہوری سیٹ اپ کو دنیا کے سامنے حقیقی جمہوریت بنا کر پیش کررہی ہے اور عمران خان کی قید تنہائی کا قانونی جواز بنا رہے ہیں