چین عملی طور پر صحرا کے پھیلاؤ کو روک رہا ہے۔
چین کئی برسوں سے بڑے پیمانے پر شجرکاری اور زمین کی بحالی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے تاکہ صحرا کے مسلسل پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے لاکھوں ایکڑ رقبے پر درخت لگائے جا رہے ہیں، ریت کو پھیلنے سے روکنے کے لیے خصوصی رکاوٹیں بنائی جا رہی ہیں، اور جدید زرعی و ماحولیاتی طریقوں سے بنجر زمین کو دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا رہا ہے۔
اس مہم کا مقصد نہ صرف زرعی زمین کو محفوظ بنانا ہے بلکہ گردوغبار کے طوفانوں میں کمی لانا، ماحول کو بہتر بنانا اور آئندہ نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کا تحفظ بھی ہے۔ یہ منصوبہ دنیا بھر میں صحرا زدگی سے نمٹنے کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پرائم منسٹر ہاؤس پر قبضہ کر لیا ہے
بریگیڈئر خالد نے کہا ہے کہ آپ اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں ، باہر آپ اور اندر ہم
ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں
مجھے وہ زمانہ یاد ہے جب ڈان اخبار ہاتھ میں آتے ہی سب سے پہلے اردشیر کاوسجی کا کالم پڑھا جاتا تھا۔ اُن کی تحریروں میں نہ خوف ہوتا تھا نہ لچک، وہ اپنے کالم میں نام لیتے، سوال کرتے اور حساب مانگتے تھے بغیر کسی خوف یا مفاد کے۔ اردشیر کاوسجی وہ دور اپنے ساتھ لے گئے جب صحافت ایک پیشہ نہیں، ایک مقدس ذمہ داری تھی ۔میڈیا اب خبر نہیں بیچتا، بیانیے بیچتا ہے۔ آج جب نیوز چینلز پر لفافہ صحافیوں کی چیخ و پکار سنتی ہوں تو دل دکھتا ہے۔کہاں چلا گیا وہ دور جب صحافت سچ بولتی تھی۔ آج صحافت کمائی کا ذریعہ ہے، اصولوں کا نہیں۔ اور افسوس، ہر گزرتے سال کے ساتھ ہماری صحافت نہ صرف زوال کی طرف جا رہی ہے بلکہ ڈھٹائی، منافقت اور غلاظت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔
#JournalismInDecay
#ArdeshirCowasji #Dawn
"لال بیگ مارو تو تم ہیرو کہلاتے ہو، اور اگر تتلی مار دو تو ظالم بن جاتے ہو۔ یعنی ہمارے اخلاق بھی خوبصورتی کے تابع ہیں ,جہاں چہرہ حسین ہو، وہاں جرم بھی معاف ہو جاتا ہے۔"
فریڈرک نطشے
منی مرگ استور میں نایاب بھورے ریچھ کا قتل..
استور گلگت بلتستان کے سرسبز علاقے منی مرگ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے نایاب بھورے ریچھ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ماحولیاتی ماہرین نے اس واقعے کو خطے کے ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ بھورے ریچھ کا شکار قانوناً ممنوع ہے، تاہم یہ واقعہ حفاظتی اقدامات میں سنگین کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین اور مقامی کمیونٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور سخت اقدامات کیے جائیں
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو ریاست جونا گڑھ کے دیوان مگر افسوس پاکستان میں لوگوں کو انکے متعلق من گھڑت کہانیاں سنا کر بیوقوف بنایا جاتا رہا ہے
تاریخ سچائ
مشرف نے نواز شریف کو بندوق کے زور سے باہر بھیجا اسلئے آپ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کوئی ڈیل کر کے باہر گئے ھیں۔
نواز شریف پر مشرف نے جھوٹے کیس بنائے اس لئے انکو یقین تھا کہ انکو ان انصاف نہیں ملے گا:عمران خان
توہین کا ہتھیار خطرناک ہی نہیں ہے، سستا بھی بہت ہے۔ اب تو اتںا سستا ہوگیا ہے کہ بھکاری بھی ہاتھوں میں لیے پھر رہے ہیں۔
کہانی سنتے ہوئے ان سارے واقعات کا تصور کریں جن میں اچانک کسی شخص پر توہین کا الزام لگا اور موقع پر موجود لوگوں نے اس شخص پر پتھراؤ کرکے آگ لگادی۔
ایسے تمام معزز شہری جن کے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس بوجہ بڑھاپا، بیماری، حادثہ, مزدوری یا دیگر وجوہات کے باعث مٹ چکے ہیں یا معدوم ہو چکے ہیں وہ معزز شہری بینک اکاؤنٹ کھلوانے یا موبائل سم نکلوانے یا دیگر ایسے تمام کام کروانے کیلئے جہاں بائیو میٹرک کی ضرورت پڑتی ہے, وہ وہاں یہ ہائیکورٹ لاہور کا آرڈر دکھا کر اپنا کام کروا سکتے ہیں-
یورپ کے ترقی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ انہوں نے پہلے گناہ اور جرم میں فرق سمجھا ۔
پھر گناہ پہ سزا کا اختیار فرد سے چھین کر خدا کو واپس کیا اور جرم پر سزا کا اختیار ریاست کو ۔