founded with a vision to bring the revolution to change the system of the country. But with the passage of time the self exile of leadership left this group leaderless.#37YearsOfPAT
Dear professor Khalil, its good to hear and will read the shared reading of you. This is dire need of time for the Muslims belong to all school to join hand .
Mr @FaizullahSwati the Ismailis have championed Tawhid for over a thousand years. Read and learn about the Ismaili belief and philosophy of Tawhid here
https://t.co/ErFi8FcbWG
🚨 حماس کے سیاسی بیورو کے رکن ڈاکٹر محمود الزہار نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والی عرب ریاستوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 👇
"تم سنی مسلمان نہیں ہو؛ تم کافر، غدار، ایجنٹ اور صہیونیوں کے حلیف ہو۔"
ان ممالک کے پاس امریکہ اور اسرائیل سے بہتر ہتھیار ہیں تو یہ شوق بھی پورا کرلیں ویسے بھی صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی فتح سے پہلے حلب کے سیف الدین اور مصر کے ملک شاور کو شکست دیکر صلیبوں سے جنگ کا آغاز کیا تھا بدو آجا ہیں برج خلیفہ کو نسلہ ٹاور بنا دے گا ایران
ایران خلیجی ممالک پہ حملے کر رہا ہے جسے پاکستان میں کچھ لوگ جائز کہتے ہیں۔
میرا سوال:
ان خلیجی ملکوں کے پاس بھی بہتر قسم کے جنگی اثاثے ہیں اور اگر انہوں نے بھی جوابی حملے شروع کر دیے تو پھ�� یہ لوگ اس پہ کیا کہیں گے!!!!
التماس ہے برادر ممالک کے درمیان امن کی ہی دعا اور بات کریں۔🙏
میں نہ امور خارجہ کا ماہر ہوں نہ دفاع کا۔ صف نعلین کا ایک عام سا طالب علم ہوں ۔ متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو پڑھتا ہوں ، ان سے بات کرتا ہوں ، سیکھتا ہوں سمجھتا ہوں۔ جو میں سمجھا ہوں اس کا خلاصہ تین سطری ہے۔
اول: ایران یہ جنگ نہیں ہار رہا ۔ نہ ہی ہارے گا۔
دوم: ایران اکیلا بھی نہیں ۔ بہت کچھ کی تفصیلات ان کہی ہی رہیں تو اچھا ہوتا ہے لیکن ایران بہر حال اکیلا نہیں ہے۔ نقصانات پر نہ جائیے، اہداف پر نظر رکھیے۔ جنگوں کے فیصلے نقصانات سے نہیں اہداف سے ہوتے ہیں۔
سوم: پاکستان ایران کے خلاف نہ گیا ہے ، نہ جا رہا ہے نہ جائے گا۔ یہ پاکستان کی فارن پالیسی کا بنیادی ��صول ہے جو بھٹو صاحب کے دور میں طے ہوا ۔ اس ضمن میں مشکلات ہیں ، بہت شدید ہیں لیکن تسلی رکھیے پاکستان نے آج تک مشکلات نبٹانے کے سوا کیا ہی کیا ہے؟ اسے بھی نبٹا لیا جائے گا۔
دیکھتے جائیے ، انشا اللہ
وہ ویل چیئر، اسرائیل جس کے مقابلے سے عاجز ہو گیا!
۔۔۔
یہ انیس سو اسی کی دہائی تھی،تھکاوٹ پی ایل او پر طاری ہو چکی تھی، یاسرعرفات مائل بہ مفاہمت تھے اور قوم ایک عہد کو ختم ہوتے دیکھ کر پژمردہ سی،نیم مردہ چلی جا رہی تھی۔
اس دوران ایک معذور اٹھتا ہے۔۔۔جامعہ ازہر کا فارغ،اخوان المسلمون کا رکن،لیکن یہ 'الشیخ المشلول'وہ معذور تھا جس نے ویل چیئر پر بیٹھ کر اسرائیل کو معذور کرنے کی بنیاد رکھی اور فلسطین کی فکری اور عملی میدانوں میں قیادت کی۔۔۔۔۔ قیادت کیا کی فلسطینیوں کے ایک نئے سوشل فیبرک کی بنیاد رکھی!
قوم کو صرف کھڑا ہونا، اڑنا اور لڑنا نہیں سکھایا
بلکہ
وہ حقیقی بنیادیں سکھا دیں جو انسان کو کھڑا کر دیتی ہیں اور جن پر کھڑا ہوا جاتا ہے!
اس معذور عالم نے اپنی مسجد میں المجمع الاسلامی قائم کیا جو ریلیف، قرض حسنہ، روزگار، خواتین،بچوں اور مائیکروفاینانس اور معاشرے کے ہر ہر تار کو قرآن سے جوڑنے کا مرکز بنا اور پھر یہ مراکز غزہ، خانیونس اور رفح سے لیکر جبالیا اور بیت حانون تک ہر جگہ قائم ہوتے چلے گئے۔۔۔۔
شیخ نے اس قوم کو اسلام پر کھڑ�� کرنے کا نعرہ نہیں لگایا، اسے ایسا سچ کر دکھایا کہ 17 سال کا محاصرہ،بھوک اور دو سال کی بمباری بھی اس قوم کو قرآن کی بنیادوں سے ہلا نہیں سکی نہ 'بیٹھنے' پر آمادہ ک�� سکی،حماس ایک تنظیم نہیں رہی،ساری قوم اس فگر میں گندھ گئی۔۔۔۔۔۔۔!
شیخ احمد یاسین کے معذور جسم کو اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر نے 22 مارچ 2004 کو شہید کر دیا گیا لیکن فکر و عمل میں ان کے شاگرد تب سے اب تک طاغوت کے حلق کا کانٹا ہیں ؛یہ۔وراثت عبدالعزیز الرنتیسی، صلاح شحادۃ، عماد۔عقل۔اور یحیی عیاش سے ہوتے ہوئے قائدین طوفان یحیی السنوار اور محمد الضیف تک پہنچی۔۔۔۔
طوفان الاقصی کے بعد غزہ کا امتحان ایک رولر کوسٹر کی طرح تیز ہوتا چلا گیا اور غزہ ہر ہر مرحلے میں قرآن کے اخلاق پر پورا اترتا چلا گیا۔۔۔صبر،استقامت، مزاحمت، تسلیم و رضا، توکل علی اللہ ۔۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسی ��قام پر غزہ کے قدموں میں لغزش دیکھی گئی؟۔۔۔ یہ شیخ یاسین کا اخلاص تھا جسے مالک نے ایسا ثمر آور کیا کہ
آج دنیا میں سب سے زیادہ قرآن پر زبانی، عملی اور اخلاقی طور پر قائم معاشرہ کوئی ہے تو اس کا نام غزہ ہے۔۔۔ حفظ القرآن کے کیمپوں اور القسام سے لیکر اسلامی یونیورسٹی غزہ تک۔قدم۔قدم پر شیخ احمد یاسین کے نشانات راہ دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ غزہ میں زندگی کس حد تک مسجد کے گرد گھومنے لگی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو محلوں نہیں مسجدوں کے تعارف سے جانتے ہیں!!!،
اسی قران پر مزاحمت کی تعمیر سرنگوں سے ڈرون تک ہوئی اور آج بھی "ڈی ویپنائزیشن" ایک خام۔خیالی ہی ہے۔۔۔۔۔ دشمن کو ہر ہر قدم پر احمد یاسین ایک ڈراؤنا خواب بن کر ملتا ہے !!!!
شیخ کا معذور وجود اور کارنامہ زندگی تحریک،حرکت،استقامت اور صبر کی ایسی مثال ہے جو امت کے کسی بھی فرد کے لیے 'بیٹھ جانے' کی،مایوسی کی گنجائش باقی نہیں رہتی!
رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔واسکنہ فسیح جناتہ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے انتہائی نازک اور حساس وقت میں اہم بیان دے کر یہ بتا دیا ہے کہ جب مسئلہ اور بات اسلام کی ہو تو پھر اسلام پر کسی چیز کو فوقیت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے ایران کے لئے کہا کہ ایران آج امت مسلمہ اور عالم اسلام کی نمائندگی کر رہا ہے اور امریکہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔
یقیناً ایران نے فلسطین کی حمایت میں جو قیمت ادا کی ہے اور اب تک کر رہا ہے یہ قیامت تک تاریخ کا سنہرا باب رہے گا۔
#Iran
امت ، نیشن سٹیٹ اور پاکستان
آصف محمود
دو باتیں سمجھنے کی ہیں.
پاکستان اس طرح کی نیشن سٹیٹ نہیں ہے کہ امت کے تصور کی نفی کر دے اور لاتعلق ہو کر بیٹھ جائے.
اسی طرح امت کے تصور کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان مسلم ممالک کے لیے خود کو تباہ کر دے.
پاکستان امت کا حصہ بھی ہے اور ایک نیشن سٹیٹ بھی ہے. امت کا درد بھی اسے محسوس ہوتا ہے اور وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر کوشش کرتا ہے. اس وقت بھی اس کی پوری کوشش ہ�� کہ ایران اور سعودیہ میں معاملات سنبھال لیے جائیں. لیکن وہ ایک نیشن سٹیٹ بھی ہے. اس نے اپنا مفاد بھی دیکھنا ہے.
یہ غیر منطقی بات ہے کہ کبھی ایک گروہ ناراض ہو جائے کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے امریکہ سے جنگ کیوں نہیں کی تو کبھی دوسرا گروہ ناراض ہو جائے کہ کیسے یزید ہیں ایران پر قربان نہیں ہو رہے.
پاکستان قومی ریاست اور امت میں توازن کا نام ہے. پاکستان نے کبھی اس بات پر قطع تعلقی نہیں کی کہ پاکستان کے دشمن بھارت سے امت کے کس کس ملک کا کیسا تعلق رہا یا ہے، نہ ہی کبھی پاکستان نے مسلم امہ سے یہ سوال کیا کہ جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو آپ کہاں تھے.
پاکستان نےاپنے حساب بھلا کر سب مسلمان ممالک سے خواہی کی. اس کا نام امت ہے.
لیکن پاکستان ایک قومی ریاست بھی ہے. اس کے اپنے جائز مفادات بھی ہیں.
ان دونوں میں توازن کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. پاکستان بے حس نہیں کہ امت سے لاتعلق ہو جائے لیکن پاکستان قربانی کا بکرا بھی نہیں ہے. ایک ریاست ہے.
امت اور نیش سٹیٹ کے درمیان اس توازن کو سمجھ لیا جائے تو بہت سی الجھنیں حل ہو سکتی ہیں.
کل اسرائیل کے نیوکلیئر پلانٹ پر ایران بے تین بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ درجن بھر رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد دو میزائل سیدھے جا کر نشانے پر لگے۔ ایک میزائل انٹرسیپ ہوا۔
یہ ہے وجہ کہ ٹرمپ نے پینک کرنا شروع کر دیا ہے اور ہولناک دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں یہ میزائل اٹیک صرف میسج تھا اسرائیل کو کہ ایران کے انرجی انفراسٹرکچر سے دور رہو۔ اور عربوں کے لئے میسج تھا کہ امریکہ کو اپنی زمین اور فضا ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روک دو ورنہ ہمیں مجبوری میں تمہیں سبق سکھانا پڑے گا۔
جو ایرانی میزائل اسرائیل کے مضبوط دفاعی نظام کو چیر کر صحرا میں قائم نیوکلیئر پلانٹ تک پہنچ سکتے ہیں ان سے عرب حکمران اپنے محلات میں کیسے محفوظ رہیں گے؟ یہ سوال عرب بادشاہوں کو جلد اپنے آپ سے اور ٹرمپ سے پوچھنا ہوگا۔
میں رائے مختار احمد شیعہ نہیں ہوں
مگر میں ایران ، یمن ، فلسطین اور حزب اللہ کو سپورٹ کرتا ہوں
امریکہ و اسرائیل کے غلاموں اور اتحادیوں پہ شدید لعنت بھیجتا ہوں
#ایران
پاکستان ایک شیعہ لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے بنایا تھا اور یہ سب کیلئے بنایا تھا، کسی مخصوص طبقہ (شیعہ یا سنی) کیلئے نہیں ، پرچم میں سفید رنگ اس بات کا ثبوت ہے یہاں اقلیتیں بھی رہ سکتی ہیں
اب یہ کہنا کہ جسے ایران سے محبت ہے تو وہ وہاں چلا جائے انتہائی احمقانہ جاہلانہ بیان ہے ، ایران جن فلسطینیوں کے لئے کفار سے لڑ رہا ہے وہ تو سنی العقیدہ ہیں
لیکن یہ لڑائی نہ سنیوں کی ہے اور نہ شیعوں کی ی�� لڑائی واضح طور پر قبلہ اول کی ہے اور یہ قبلہ اول ��للہ کا گھر ہے اس کی حفاظت سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے
اگر تمہیں ایران کی کھل کر حمایت کرنے یا امریکہ واسرائیل سے لڑنے سے ڈر لگتا ہے تو جنہوں نے پاکستان بنایا انہیں تم ایران جانے کا کہنے والے کون ہوتے ہو نہ تم نے پاکستان بنایا اور نہ ہی تم اس میں آج تک ایک مرلے کا اضافہ کرسکے