اختیار ولی انتہائی گھٹیا آدمی ہے جس نے ایک معصوم پی ٹی ائی ورکر کو ٹی ٹی پی کا بندہ بتا کر پوری پریس کانفرنس کل کی اور مزے کی پی ٹی وی نے اسکو بھرپور چلایا۔
لعنت تم پر اور تمہارے مالکوں پر۔
I’m sure you, @fawadchaudhry, won’t blame Pashtuns for a rape that happened in Lahore’s Defence area. Or is it all cool when it happens in Defence, but “jahil” when it happens in KP? Not a single tweet about this? Tumhara kutta Tommy?
یہ ڈاکو ڈفر الائینس #DDA اتنا خوفزدہ ہو چکا ہے کہ نورین خان اور عظمی خان کے کے ساتھ ساتھ گھر کی ملازماؤں اور باورچی کو بھی اغوا کر لیا ہے۔
مارچ تو پھر بھی ہو گا !
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ .
آزادی صحافت اور روایتی مہمان نوازی پر ریاستی مشینری کا حملہ۔
حسنین ایک غیر جانبدار اور خود مختار صحافی ہے، جس کا قصور یہ بنا کہ اس نے ایک انسان اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے گھر میں ٹھہرایا اور پناہ دی۔ اس مہمان نوازی کا بدلہ اس کا گھر مسمار کر کے، سامان لوٹ کر اور اس کی چھت چھین کر لیا گیا۔ پنجاب حکومت، مریم نواز اور انتظامیہ کا یہ اقدام صاف بتاتا ہے کہ سیاسی انتقام میں اندھے ہو کر اب عام شہریوں اور صحافیوں کی نجی زندگیوں اور جائدادوں کو سڑکوں پر رولا جا رہا ہے۔
کسی مہمان کو اپنے گھر میں جگہ دینا نہ تو کوئی جرم ہے اور نہ ہی آئینِ پاکستان اس کی ممانعت کرتا ہے۔ لیکن پنجاب پولیس اور مقامی انتظامیہ نے تمام قانونی تقاضوں، عدالتی وارنٹس اور انسانی اقدار کو ہوا میں اڑا دیا۔ ایک غیر جانبدار صحافی کے گھر میں زبردستی گھسنا، قیمتی سامان اٹھا کر لے جانا اور پورے گھر کو ملبے کا ڈھیر بنا دینا قانون نافذ کرنے کا عمل نہیں بلکہ براہِ راست ڈکیتی اور غنڈہ گردی ہے۔
ایک طرف سچ بولنے والے صحافیوں پر ویسے ہی دباؤ ڈالا جاتا ہے، اور دوسری طرف اگر وہ کسی کو مہمان بنا لیں تو ان کے گھر ہی اجاڑ دیے جاتے ہیں۔ اس کھلے ظلم میں ملوث تمام ایس ایچ اوز، انتظامی افسران اور سیاسی سرپرست اس ستم کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔
مہمان نوازی کو جرم بنا کر شہریوں کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ طاقت کے ناجائز استعمال کرنے والی ٹک ٹاکر کے حساب سے بھی ایک گری ہوئی حرکت ہے۔
@Naya__Pakistan_@Husnainrafique_
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
راولپنڈی کینٹ کے سینئر نائب صدر اعجاز ستی ریاستی حراست میں تشدد کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے شہید ہو گئے۔
پاکستان کی بربادی اور تباہی کے پیچھے فوج، رینجرز، ایف سی، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس اور سی ٹی ڈی کی وردیاں ہیں۔
He is not a terrorist he is Agha Sheikh Sarver a journalist in Pakistan. His crime is to report from the ground and to show the public sentiments towards military regime in Pakistan. Please raise your voice against this tyranny in Pakistan. @UNHumanRights@IFJGlobal@CPJAsia@globalfreemedia@RSF_inter
پنجاب پر مسلط کی گئی ناجائز حکومت اور ان کے ہینڈلرز کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان پر ایسا ظلم کیاا جا رہا ہے جو سن کر ہر مسلمان شرمسار ہو رہا ہے- لاہور میں عید میلاد النبی ﷺ کی تیاری کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ورکرز کے خلاف غیرقانونی چھاپے اور پکڑ دھکڑ کے دوران ہمارے سینئیر کارکن اشتیاق احمد کو گرم تیل کے کڑاھے میں گرایا گیا اور وہ جسم جھلسنے کی وجہ سے آج شہید ہو گئے- انا للہ وانا الیہ راجعون
میں کل لاہور میں اشتیاق شہید کے گھر جاؤں گا اور اس کے بعد لاہور میں ہی پنجاب سٹریٹ موومنٹ کا لائحہ عمل دوں گا !!
یہ ظلم بھی جابروں کے حصے تھا کہ میلاد کی محفل سجانے پر عمران خان کے ایک سپورٹر کو زندہ جلا دیا۔ شہادت مبارک ہو اشتیاق بھائی۔ اللہ آپکے بچوں کا نگہبان ہو 🤲
پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے الزام سے بری قرار دینے کا کارنامہ بھی صرف پنجاب کی وزیراعلیٰ سرانجام دے سکتی ہے سندھ، پنجاب یا بلوچستان کا وزیراعلیٰ ایسی بات کردے تو اسکی زندگی عذاب ہو جائے