ایسی بات نہیں اندروں سندھ ��یں لوگوں نے سر عام کنڈیاں لگائی ہوئی ہیں بل نہیں دیتے اسی طرح کے پی میں بھی یہی پوزیشن ہے کشمیر میں بجلی ایک طرح سے فری ہے تو پنجاب ہی ایسا صوبہ ہے جس کے عوام پر باقی صوبوں کا بھی بو��ھ ہے
کچھ بھی تو مستقل نہیں رہتا
پھر تجھے مجھ پہ کیوں یقیں رہتا
اک مرا عشق جو جوان رہے
اک ترا حُسن ہے حسِیں رہتا
دل، کہ رہتا ہے میرے سینے میں
عرش پر دل کا ہے مکِیں رہتا
پہنچا ہوتا جو آستاں پہ ترے
رکّھے دہلیز پر جبیں رہتا
وہ کہ ہیں آسماں سے چھائے ہوئے
اور میں بن کے ہُوں زمیں رہتا
تن زمانے کی قید میں جکڑا
من میں ہے راز کا امیں رہتا
مجھ پہ کُھلتا جو در ترے دل کا
پھر نہ جاتا کہِیں، وہِیں رہتا
#حرفِ_راشد
9 ستمبر 2024
شما��لہ رانا کی بات تو ٹھیک ہے آپ بتائیں اسی طرح اگر شہباز حکومت دل پر پتھر رکھ کر پیٹرول کی قیمت میں پچھلے دو دن میں پندرہ کی بجائے سو روپے کا اضافہ کر دیتی تو آپ لوگوں نے کیا کر لینا تھا ؟؟؟
اتنے زیادہ دقیق علمی پینڈورا بوکسز کھول رکھے ہیں یہاں کہ پڑھ کر سوچتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ کہاں پھر یہ سوچتا ہوں کیوں نہ چُپ رہوں۔
البتہ کچھ اٹھائے گئے مسائل مداخلت کا اخلاقی تقاضہ کررہے ہیں ورنہ ان کو پڑھنے والے گمراہی اور لکھنے والے تباہ کُن خوش فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
کوئی کہاں دیوانوں کی رمزیں سمجھا
دیوانہ ہوا آپ انھیں باتیں سمجھا
اندھے ہیں یہاں چہرے پہ آنکھوں والے
سمجھا تو وہی دل کو جو آنکھیں س��جھا
#حرفِ_راشد #رباعیءِ_راشد #رباعیات
میرا خیال ہے حکمران یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف پنجابی ایسی قوم ہے جو غلامانہ زہنیت رکھتی ہے جو بد سے بدترین حالات میں بھی اپنے آقاوں کی تابعدار ہے ورنہ بجلی اور پیٹرول کی مد میں اتنے ظالمانہ فیصلے جس سے غریب مر رہا ہے اتنی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے فکری سے کھبی نہ کرتے۔
اِنَّماَ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ
ۚ﴿ یٰسٓ ۸۲﴾
اس کا امرِ (تخلیق) فقط یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو (پیدا فرمانا) چاہتا ہے تو اسے فرماتا ہے: ہو جا، پس وہ فوراً (موجود یا ظاہر) ہو جاتی ہے (اور ہوتی چلی جاتی ہے)
بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕقضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿البقرہ-۱۱۷﴾
وہی آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اور جب کسی چیز (کے ایجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے کہ ’تو ہوجا‘ پس وہ ہوجاتی ہے۔
قرآن پاک میں اللّٰہ پاک کے امر اور حکم کے متعلق متعدد مقامات پر آیات ہیں جن سب کا لُبِّ لُباب یہی ہے کہ اُس کا حُکم کُلّی طور پر ناپید اشیاء بھی مانتی ہیں اور عدم سے آ موجود ہوتی ہیں۔
اب مندرجہ ذیل آیت پر غور فرمائیے۔
تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ﴿ المسد -۱﴾
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ ہو جائے۔
یہ آیت ابولہب کے سر��ارِ دوعالم ﷺ کی ذاتِ
عالی صفات کے متعلق کہے گئے ان گستاخانہ الفاظ
(تَبًّا لَكَ! أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا ) کا اللّٰہ پاک کی طرف سے غصے
بھرا جواب ہے نہ کہ اُس کے ہاتھ ٹوٹنے کے امر کا اظہار۔
جو اس بات کی دلیلِ مُبین ہے کہ کائنات کی محبوب
ترین ذات ﷺ کی شان میں ذرہ بھر گُستاخی پر
طیش بھرا ردِّ عمل ، اُمتّی تو اُمتّی خود خالقِ کائنات کی سُنت ہے۔
ہم بھی اپنے اپنے قلب میں جھانک کر دیکھیں کہ ہمیں
کس کس ذات کے متعلق توہین آمیز رویے کے
ردِّعمل کے طور پر لاشعوری طیش آتا ہے کہ یہ حقیقی
محبت کی ایک روشن دلیل ہے کیونکہ ہم
ساری دنیا سے جھوٹ بول سکتے ہیں، اپنے آپ سے
نہیں۔
#حرفِ_راشد
اے رب کائنات* ھم سب کو اپنی رحمت و مغفرت سے فیضیاب فرما. ھمیں تمام جسمانی و روحانی بیماریوں سے شفاء عطا فرما. رزقِ حلال عطا فرما- حقوق الله و حقوق العباد صحیح طور ڀر ادا کرنے کی توفیق دے
آمین
اسلام و علیکم
*وہ لوگ جو ہر کسی کے لئے ہمیشہ اچھی ســـوچ رکھتـے ہیـں ۔ الـلـہ تعــالیٰ ان کو ایسی منــزلیں عـطا فرماتا ہــے جو کسی کـے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں ۔*
بیلاروس کا شہر بریسٹ ملک کے جنوب مغربی حصے میں پولینڈ کی سرحد کے قریب واقع ایک اہم شہر اور بریسٹ علاقہ کا انتظامی مرکز ہے۔ یہ شہر اپنی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے ساتھ ساتھ دوسری جنگ عظیم کے اہم تاریخی مقامات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔
یہ شہر دریائے بگ اور موخاویٹس کے سنگم پر آباد ہے، جو اسے ایک اہم سرحدی اور تجارتی راستہ بناتا ہے۔ تاریخی طور پر اس کا پہلا ذکر 1019ء میں بیریستے کے نام سے ملتا ہے۔ صدیوں کے دوران اس پر کیویائی روس، گرینڈ ڈچی آف لتھوانیا، پولش۔لتھوانیائی دولت مشترکہ اور روسی سلطنت کا قبضہ رہا۔
شہر کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا تاریخی قلعہ ہے، جسے دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے حملے کے خلاف سوویت مزاحمت کی وجہ سے ہیرو فورٹریس کا خطاب ملا۔ اب یہ ایک عظیم الشان جنگی یا��گار ہے اور سیاحوں کے لیے مرکزی کشش کا حامل ہے۔
1918ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران روس اور مرکزی طاقتوں کے درمیان معاہدہ بریسٹ۔لیتوسک یہیں طے پایا، جس نے مشرقی محاذ پر جنگ ختم کر دی۔
سیاحوں کے لیے قلعے کے علاوہ سوویتسکایا اسٹریٹ کی خوبصورت پیدل پٹڑی، بریسٹ ریلوے میوزیم اور بیلوویسکایا پشچا نیشنل پارک قابلِ ذکر ہیں، جہاں یورپی بائسن پائے جاتے ہیں۔
2025ء تک شہر کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد ہے۔ بریسٹ ایک جدید صنعتی اور ترسیل کا مرکز ہے، جہاں تاریخی ورثہ اور جدید زندگی کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔
#حرفِ_راشد #Brest #Belarus
آپ نے غور کیا ہوگا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ انسان کا مزاج (mood) ہمہ وقت ایک سا نہیں رہتا اور نہ رہ سکتا ہے۔
مزاج و جذبات کا یہ طیف (spectrum ) ان گنت رنگوں کے امتزاج کا کرشمہ ہے۔
البتہ اس طیف کی دونوں انتہاؤں پر دو ہی رنگ ہیں۔
اوپر جوشیلے اور بھڑکیلے جذبات کا گہرا سُرخ رنگ جس میں انسان اختلاط و خود نمائی کا خوب خواہاں ہوتا ہے تو نیچے مایوسی اور اُکتاہٹ کا پھیکا سُرمئی رنگ، جس میں وہ اپنے خول میں کچھوے کی مانند قلعہ بند ہوجانا چاہتا اور دل ایک لفظ تک کہنے ، سُننے اور لکھنے سے اچاٹ و متنفر ہوتا ہے۔
یہ فنکار ہی کا کلیجہ ہے کہ وہ کسی بھی رنگ میں ہوتے ہوئے اس کے اظہار سے انکار نہیں کرتا اور اپنے فن سے منہ نہیں موڑتا۔
#حرفِ_راشد
پیرِ رومی:
بر سماع راست ہر کس چیر نیست
طعمہ ہر مرغکے انجیر نیست
#رومی
مریدِ ہندی:
سِینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات
ہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی
#اقبالِ_بےمثال
مختلف انسانوں کے لئے ایک ہی بات، مختلف اثرات رکھتی ہے۔ پھل روز گرتے ہیں مگر انہیں گرتا دیکھ کر کششِ ثقل پہلی مرتبہ ایک ہی انسان کو دکھائی اور سجھائی دی۔
دنیا میں روزانہ لاکھوں افراد ریل کا سفر کرتے ہیں البتہ ایک ہی انسان کو ریل پہ سفر کرتے ہوئے روشنی کی رفتار، مادے اور توانائی کا رشتہ سمجھ میں آیا۔
ہر غار میں سونے والا، اصحابِ کہف میں سے نہیں۔ ۔ ہر اندلس جانے ولا طارق نہیں۔
اس لئے کہ ان سب حضرات کا اندرونی انسان کسی خاص مقصد اور کسی خاص منزل کی طرف برسوں پہلے نکل چکا تھا اور مادی جسم نے بہت بعد میں اس منزل کو جا پایا۔ اس مقصد اور منزل کو جاتے ہوئے راستے ک�� آوازیں، لوگ اور واقعات ، معمول سے ہٹ کر ، بہت مختلف رنگوں اور شکلوں میں دِکھتے ہیں۔
بعض خوش نصیبوں کو ان کی منزل خود آواز دے کر بلا لیتی ہے اور بظاہر گمراہ کن آلات و اشیاء انہیں راہ دکھا جاتے ہیں۔
کہتے ہیں مالک بن دینار رح شہزادوں کی سی عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے ایک رات محفلِ طرب و عیش کے بعد سب سو گئے اور یہ اکیلے جاگ رہے تھے کہ ساز خود بجنے لگا اور اس میں میں سے آواز آئی “اے مالک کب توبہ کرو گے؟”
بعض اوقات کچھ آوازیں آپ کی روح کو ایسے “رڑک” دیتی ہیں جیسے مدھانی دہی کو اور اس چکر پھیری میں انسان کسی اور جہت اورکسی دوسری دنیا میں جا گرتا ہے اور جب واپس آتا ہے تو اس کے وجود سے وہاں کی مٹی کے ذرات چمٹے ہوتے ہیں اور اس کے آنسو وہاں کی زمین میں ہمیشہ کے لئے جذب ہوچکے ہوتے ہیں۔
#حرفِ_راشد
https://t.co/9XMh99BRMX…