مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیانات کو کئی سیاسی مبصرین اپنے بھاؤ بڑھانے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ مخالفین کے مطابق عوام نعروں اور بیانات سے آگے بڑھ چکے ہیں، ماضی کی سیاست، وعدوں اور کارکردگی کا حساب مانگ رہے ہیں۔ الزام تراشی کے بجائے جوابدہی کی ضرورت ہے۔
بلوچستان کی زمین غیرت اور روایات کی علامت ہے،
شہناز بلوچ گروپ کا غریب اور بے بس خاندانوں کو خوف زدہ کرکے انکی عزتوں کا سودا کرنا بدترین درندگی ہے۔ غریب خاندانوں کی بیٹیوں کو یرغمال بنا کر پیسے بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
ریاست کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ صحیح ثابت ہو رہا ہے۔
دھرنے کی آڑ میں ٹی ٹی پی اور شرپسند عناصر کا گٹھ جوڑ سامنے آرہا ہے۔
ان کا مقصد صرف ملک میں آگ لگانا، ہلاکتیں کرانا اور پاکستان کی بدنامی ہے۔
حقوق کی آڑ میں جاری اس خطرناک کھیل کو فوری طور روکنا ضروری ہے۔
اندرونی معاملات پر دشمن ملک کو پکارنا غداری اور سنگین ترین جرم ہے۔
ویڈیو میں سامنے آنے والے گفتگو نے جے اے اے سی (JAAC) کی بنیاد پر اٹھنے والے ہر سوال کو مزید تقویت بخشی ہے۔ حقوق مانگنے اور ملک دشمنوں کی گود میں بیٹھنے میں بہت فرق ہے، جو اب عوام کے سامنے صاف آ چکا ہے۔
تقریباً 100 تاجک اور ازبک عمائدین کا اس وجہ سے اغوا ہونا کہ انہوں نے اپنے علاقے میں ٹی ٹی پی خاندانوں کی آبادکاری پر اعتراض اٹھایا، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اختلافِ رائے کو طاقت کے زور پر دبانے کی بدترین مثال ہے۔
عالمی اداروں کو اس معاملے پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔
ہجیرہ کے رہائشی محمد عابد کے انٹرویو نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مسلح عناصر کی موجودگی، سکیورٹی فورسز پر فائرنگ اور عام شہریوں کو ڈھال بنانے جیسے اقدامات کسی بھی پرامن احتجاج کا حصہ نہیں ہو ��کتے۔
عوام کو ایسے عناصر سے خود کو الگ کرنا ہوگا جو امن و امان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
کشمیری نوجوان کا واضح کردیا:
"ہم نے آواز حقوق کے لیے بلند کی تھی، کسی کے سیاسی کھیل کا حصہ بننے کے لیے نہیں۔"
عوام کو تقسیم کرنے، ان کے جذبات سے کھیلنے اور بیرونی مفادات کو آگے بڑھانے کی سیاست اب قبول نہیں۔ اصل سیاست وہی ہے جو عوامی مسائل کا حل دے۔
آزاد کشمیر میں عوام کو گمراہ کرنے کی سازش بے نقاب ہوگئی۔
پولیس نے ان افراد کو حراست میں لے لیا جو خود پر سرخ رنگ لگا کر فائرنگ کا جھوٹا تاثر دے رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا پروپیگنڈا حقیقت کے برعکس نکلا۔
ریاست مخالف بیانیے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا انتہائی شرمناک ہے۔
A major success by Turbat Police.
During routine checking at Hironk Check Post,28 illegal Afghan nationals were apprehended from a passenger van. Effective border management and strict law enforcement are essential to safeguarding national security and maintaining public order.
نامور صحافی فخر درانی کے انکشافات نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے خلاف صرف سرحدوں پر نہیں، معلوماتی جنگ کے محاذ پر بھی حملے جاری ہیں۔
تیار شدہ مضامین، بھاری رقوم، بیرونِ ملک منتقلی کی پیشکش اور حساس معلومات کے مطالبات— یہ سب پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مستونگ میں خواتین سے بھری بس پر فائرنگ نے بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے احترام کے تمام دعووں کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے.
جو عناصر خواتین، بزرگوں ، بچوں تک کو نشانہ بنائیں، انہیں کسی جدوجہد یا بلوچ روایات کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا۔ قبائل میں بھی اس واقعے پر شدید غم وغصہ ہے۔
اپراورکزئی میں کالعدم ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش خراسان کے درمیان خونریز جھڑپوں نے انکے اندرونی انتشار کو بے نقاب کردیا ہے۔
جماعت الاحرار نے ٹی ٹی پی کے 5 کارندوں کو ہلاک کر دیاکئی اہم کمانڈر بھی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کا نیٹ ورک اب اپنے ہی خون سے داغدار ہو رہا ہے۔
بی ایل اے کی ویڈیو نے انکےکھوکھلے بیانیے کو بےنقاب کردیا۔
بزرگ شہری کو زبردستی بشیرزیب اور ماہرنگ کےحق میں نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا لیکن انکے"پاکستان زندہ باد"کہنے پہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
خود کوعوامی نمائندہ کہنے والےدرحقیقت جبر کے ذریعے اپنی دہشت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
طالبان کے مقرر کردہ عہدیدار ذبیح اللہ امیری کا بدخشان میں قتل طالبان کی بڑھتی اندرونی کمزوریوں اور بحران کا ثبوت ہے۔
مسلسل حملےاور اہلکاروں کو تحفظ دینے میں ناکامی ظاہر کرتے ہیں کہ تمام دعو��ں کے برعکس طالبان کا نظام شدید تباہی کا شکار ہے۔
یہ ویڈیو دیکھے بغیر نہ رہیں!
راولاکوٹ کی چھتوں پر مسلح لوگ سیکیورٹی پر گولیاں برسا رہے ہیں۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے غنڈے کیمرے میں پکڑے گئے۔ اسٹیج پر ٹی ٹی پی جیسی ویڈیوز لگی ہیں، ان کا حقیقی چہرہ بے نقاب!
Field Marshal Syed Asim Munir’s leadership exemplifies Pakistan’s unwavering commitment to peace, regional stability and constructive global engagement. A strong Pakistan continues to be a force for dialogue, cooperation, and harmony.
ایران۔امریکہ امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بھی 4400 پوائنٹس اضافے کے ساتھ شاندار آغاز کیا۔ 📈🇵🇰
#PSX#Pakistan#Economy
History remembers leaders who turn challenges into opportunities. The leadership of Syed Asim Munir and @CMShehbaz has elevated Pakistan’s international standing and reinforced its commitment to regional peace and global cooperation. 🇵🇰
🚨 برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم پی ٹی آئی سوشل میڈیا کارکن انعام اللہ کے ریاست مخالف بیان کے بعد ان کے بھائی اکرام اللہ نے واضح لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیان انعام اللہ کی ذاتی رائے ہے خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں.