اسی لیے کہتے ہیں کہ گھر بنوانے سے پہلے کسی خاندانی انجینئر سے نقشہ ضرور بنوا لینا چاہیے۔
دیکھیں، کس طرح ایک انجینئر نے پتھریلی زمین پر ایک خوبصورت بنگلہ تعمیر کر دیا۔ 👏
پٹرول کس دور میں سستا تھا؟
⬅️سال 2016 - نواز شریف:
پٹرول - 40 ڈالر فی بیرل
ڈالر ریٹ - 98 روپے
حکومت 27 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 65 روپے میں بیچ رہی تھی - ڈھائ گنا ٹیکس
⬅️سال 2022 - عمران خان
پٹرول - 115 ڈالر
ڈالر ریٹ - 180 روپے
حکومت 150 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 150 روپے میں دے رہا تھا - زیرو ٹیکس
⬅️سال 2026 - شہباز شریف
پٹرول - 95 ڈالر
ڈالر ریٹ - 280 روپے
حکومت 170 روپے کا پٹرول خرید کر 400 روپے میں فروخت کر رہی ہے، ڈھائ گنا ٹیکس
یعنی جب دو شریف بھائ حکومت میں ہوں تو عوام کو ڈھائ گنا ٹیکس لگا کر پٹرول بیچتے ہیں، اگر عمران خان کی حکومت ہو تو وہ بغیر ٹیکس کے پٹرول عوام کو دیتا تھا
یہ موازنہ اصل حقیقت ہے، آئندہ کوئ پٹواری 2016 کی مثال مت دے،
جب بھی پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو پٹرول کی ڈالر میں قیمت اور ڈالر ریٹ کو مدنظر رکھ کر کریں،تب آپ کو اصل حقیقت کا پتہ چلے گا
اعداد و شمار - بشکریہ ناصر عباس کی وال سے
عورتوں اور مردوں میں 12 حیرت انگیز فرق۔
1-مردوں کےلئے عورت جتنی اہم ہوتی ہے، عورتوں کےلئے مرد اتنے اہم نہیں ہوتے۔
2-مرد وجہیہ اچھا لگتا ہے اور عورت خوبصورت۔
3-عورت کی دُکھتی رگ تعریف ہے اور مرد کی تعظیم۔
4-عورت کوئی کمزور مرد پسند نہیں کرتی اور مرد کوئی طاقت ور عورت۔
5-زیادہ تر مرد غصے میں گالیاں دیتے ہیں اور عورتیں بددعائیں۔
6-تعلق ٹوٹ رہا ہو تو مرد زیادہ تر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، عورتیں چیخنا شروع کر دیتی ہیں۔
7-مرد ماضی میں رہتے ہیں، عورتیں مستقبل میں۔
8-پاکستانی مرد معجزوں پر زندگی گزارتے ہیں اور عورتیں ٹوٹکوں پر۔
9-عورتیں مذہبی ہوتی ہیں اور مرد مذہب پسند۔
10-مرد خیرات د��نا پسند کرتے ہیں اور عورتیں صدقات۔
11-مرد زیادہ تر"کم مکاؤ" قسم کے رویے کے حامی ہوتے ہیں اور عورتیں "رکھ رکھاؤ" قسم کے رویے کی۔
12-مرد جذباتی ہوتے ہیں اور عورتیں حساس۔
سعودی اور یمن لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
عراق اور کویت لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
پاکستان اور افغانستان لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
متحدہ امارات اور سٗوڈان لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
مگر جیسے ہی ایران اور سعودی لڑیں
تو پورا اسلام خطرے میں آجاتا ہے
اب یہ فرقہ وارانہ بکواس نہیں چلیگی۔ کچھ اور بہانہ ڈھونڈیں دراڑیں ڈالنے کا۔
عمران حکومت۔۔
8 مارچ 2022۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تھی 120 ڈالر فی بیرل اور پاکستان میں پٹرول 149.86 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 144.15 روپے فی لیٹر تھا۔۔شہبازحکومت۔۔
2 اپریل 2026۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ہے 108.28 ڈالر فی بیرل اور پاکستان میں پٹرول 458.49 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر ہے جبکہ ہمارے لئیے آبنائے حر مُز بھی کھلی ہوئی۔۔
بات پھر وہی جب “گوبر حکومتیں” آئیں گی تو “گوبر فیصلے”ہوں گے اور “گوبر ٹیکس” لگیں گے۔۔
عرب امارات ، سعودی عرب اور چین ، تینوں اپنے اپنے پیسے واپس مانگ رہے
نہ آل سعود ، واحد ایٹمی طاقت کا لحاظ کر رہے
نہ اماراتی شیخ گھاس ڈال رہے
نہ ہمالیہ سے بلند دوستی والا چین صبر کر رہا
اور حضرت امریکہ کہ جس کیلئے ہم نے خود کو تباہ کر لیا وہ ہمیں ایران سے سستا تیل اور گیس لینے کی اجازت نہیں دے رہا کہ ہمیں کہیں سے ہی چین ملے ؟؟
الٹا امریکہ نے انڈیا کو ہم پہ حملے کیلئے اسٹینڈ بائی موڈ پہ رکھا ہوا ہے
اور آئی ایم ایف کو بھی کہا ہے
کہ انہیں مزید ٹائٹ کرو
پچاس سالہ تجربہ کار ٹیم نے کیا کمال کی سفارت کاری کی ہے ؟
#پاکستان
اس تصویر کا ہمیشہ مذاق اڑایا گیا لیکن اس کی حقیقت آشکار ہوئی مراد سعید کی کتاب در نیم شپ کا رقیب میں،
لکھتے ہیں اقوام متحدہ میں خطاب کے لیے جانا تھا پروٹوکول افسر خان صاحب کے پاس آئے کہا کل روانگی ہے،
نیویارک میں سفارت خانے کا عملہ تیاریوں میں مصروف،
جیسا کہ آپ جانتے ہیں وزیراعظم صدر جس ملک بھی جاتے وہاں استقبال کا خرچ ریڈ کارپٹ ڈھول بینڈ باجے کا خرچ سرکاری خزانے سے دیا جاتا،
تو جب پروٹوکول افسر کے منہ سے خان صاحب نے سنا کہ تیاریاں شروع ہیں،
تو استفسار کیا کیسی تیاریاں؟
کہا ��یا جی ریڈ کارپٹ وغیرہ خریدنی تاکہ آپ کا استقبال ہو،
یہ سن کر خان صاحب شدید غصے میں آئے اور کہا آپ لوگ ابھی تک مجھے سمجھے نہیں ہم یہ شریفوں زردیوں جیسے بادشاہ بننے نہیں آئے،
ہم عوام کا پیسہ ایسے کاموں میں ہرگز خرچ نہیں کریں گے،
اور پھر گھومتے گھومتے گئے واش روم کے پاس اور شہبازگِل کو آواز دی آؤ یہ ریڈ میٹ اٹھاؤ میرے بیگ میں رکھوا دو،
وہاں یہی بچھے گا اسی پر استقبال ہو گا،
کسی صورت سرکاری خزانے سے عوام کا پیسہ میرے استقبال پر خرچ نہیں ہو گا: در نیم شب کا رقیب صفحہ چار سو اکتہر پیراگراف کفایت شعاری.....!!!
◆☜ کسی دوست کو قرض دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ آپ دونوں کو کھو سکتے ہیں۔
◆☜ اپنی یادداشت پر بھروسہ نہ کریں، تمام معاملات کاغذ پر تحریر کر لیا کریں۔
◆☜ اور کسی کو اس کی مزدوری اس کا کام ختم ہونے سے پہلے نہ دو۔
◆☜ اپنے جیون ساتھی کا انتخاب احتیاط سے کریں کیونکہ وہ آپ کی 90 فیصد خوشی یا نا خوشی کا ذمہ دار ہے۔
◆☜ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دن اچھا گزرے تو دیر سے نہ سوئیں۔
◆☜ اور موبائل فون کو اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات برباد نہ کرنے دیں، جیسا کہ یہ فون آپ کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا نہ کہ اس کے لیے جو آپ کو کال یا میسج کرتا ہے۔
◆☜ اور جب آپ کی والدہ کہتی ہیں کہ آپ کو ایسا کرنے پر پچھتاوا ہو گا، تو آپ اکثر پچھتائیں گے۔
◆☜ اور جب آپ کو کوئی اچھی کتاب نظر آئے تو اسے خرید لیں بھلے آپ نے وہ پہلے سے پڑھ رکھی ہو یا نہ ۔
◆☜ اس شخص کے ساتھ پارٹنرشپ نہ کریں جو تین بار ناکام ہوچکا ہو۔
◆☜ آپ کے بچے جب سولہ سال کی عمر میں پہنچ جائیں تو انکے فارغ وقت میں انہیں کام کرنے کی ترغیب دیں۔ لیکن اگر اس سے پہلے بھی ممکن ہو تو زیادہ بہتر ہے ۔
◆☜ اور مشکوک جگہوں سے دور رہیں، برے واقعات صرف وہاں ہوتے ہیں۔
◆☜ اور جو اپنا پیسہ صحیح خرچ کرنے میں ناکام رہتا ہے وہ اپنی ز��دگی کی ہر چیز میں ناکام ہے۔
اگر زندگی کو سمجھنا ہو ا تو ان تین جگہوں پر ضرور جائیں۔
. ہسپتال۔
یہاں آپ دیکھیں گے کہ زندگی کتنی نازک ہے۔ امیر اور غریب دونوں ایک ہی بستر پر پڑے ہیں ، ایک ہی طرح کی مشینوں سے جڑے ہوئے ، زیادہ وقت کی بھیک مانگتے۔ آپ سمجھ جائیں گے کہ صحت آپ کی پہلی دولت ہے، باقی سب کچھ صرف شور ہے۔
. جیل
یہاں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح ایک غلطی ، ایک غلط دوست یا غصے کا ایک لمحہ پورے مستقبل کو تباہ کر سکتا ہے۔ آپ انتخاب کی حقیقی قیمت کو سمجھیں گے اور یہ کہ آزادی آپ کے پاس اب تک کی سب سے بڑی عیش و آرام کی چیز ہے۔
قبرستان
یہاں آپ کو پتھر میں تراشے ہوئے نام نظر آئیں گے ، جن میں دولت، خوبصورتی یا حیثیت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ صرف ایک تاریخ پیدائش اور ایک تاریخ وفات ۔ اور اس کے درمیان کی ہر چیز غائب۔
آپ سمجھ جائیں گے کہ زندگی مختصر ہے ، اور محبت مہربانی، اور میراث باقی ہیں۔
👈اگر آپ کو پوسٹ پسند آئی ہو تو لائک اور پیارا سا کمنٹ ضرور کیجیے۔
نیوٹن کے وہ قوانین جو وہ لکھنا بھول گیا .. !
1 ) : جب کبھی بھی رانگ نمبر ڈائل ہو جائے تو کبھی بھی مصروف نہیں ملتا۔
2) : اگر آپ نے ایک سے زیادہ چیزیں اٹھار کھیں ہیں تو سب سے پہلے اُن میں سے قیمتی اور نازک چیز گرے گی۔
(3) : کوئی مشین مرمت کرتے وقت جب آپکے ہاتھ تیل یا گریس سے بھر جائیں تو آپ کی ناک پر فورا کھجلی شروع ہو جاہے گی !
4) : دودھ ابالتے وقت آپ بیشک جتنی دیر چولہے کے پاس کھڑے رہیں دودھ نہیں اُبلے گا جیسے ہی ایک پل کیلئے آنکھ اوجھل چولہے کا ستیا ناس۔
5) : اگر کسی جگہ ایک سے زیادہ قطاریں ہوں ایسی صورت میں آپ ایک قطار چھوڑ کر دوسری قطار میں گھس جائیں تو پہلی والی زیادہ جلدی چلنے
لگ پڑے گی ..!
آپ کی رائے میں کیا یہ قوانین درست ہیں؟ کمنٹ میں اظہار کریں۔
یہ مظاہرہ اسرائیل میں ہورہا ہے۔ ایران پر مسلط جنگ کے خلاف ہو رہا ہے۔ ان کو تو نیتن یاہو نہیں کہتا کہ ایران سے ہمدری ہے تو ایران چلے جاو۔
لیکن ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان جسے ریاست طیبہ قرار دیا جا رہا ہے میں ایسی بات کرنے پر کہا جاتا ہے کہ ایران چلے جاو
جس ائر ڈیفینس سسٹم سے F-35 کو ٹارگٹ کیا گیا اس سسٹم سے رشیہ اور چائنہ کا کوئ تعلق نہیں
وہ سسٹم بذاتِ خود ایران کا تیار کردہ ہے جو گزشتہ بارہ روز کی جنگ ہوئ تھی اسکے بعد بنایا گیا تھا جوہن حسین
🔴 عربوں کے شیطان کی حقیقت
عرب امارات کے شیخ بن ذید کے کارنامے 🚫
ٹرمپ کو تحفے میں سونے کا ہوائی جہاز
ہندوستان کو سب سے بڑے مندر کا تحفہ
سوڈان کے مسلمانوں کا قتل عام
سعودی عرب کے خلاف پراکیسی وار
کراچی کو تباہ کروانا
بیروت کو تباہ کروانا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بد امنی اور گوادر بندرگاہ کے رستے میں رکاوٹیں
ایران کے خلاف امریکہ کو اڈے
موساد کو مسلمان ممالک کے خلاف خلیجی ممالک میں جاوسوسی کے اڈے
اسرائیل کے ساتھ کاروباری شراکت داری اور ابراہیم معاہدے کا حصہ بننا
اپنے ملک میں ہندوستانیوں کو کاروباری ترجیحی دینا اور پاکستانیوں کی تذلیل کرنا
پاکستانیوں پر ویزے کے اجرا پر پابندی
اس کے باوجود پاکستانی اس خسی ککڑ کے لئیے رو رہے ہیں
نحوست کے سائے
صرف ڈیڑھ سال قبل امریکہ میں ٹرمپ کی گڈی اونچی ہواؤں میں پرواز کررہی تھی۔ ایک جنون تھا جو اس کی مقبولیت کو ہوا دے کر بلند سے بلند کئے جارہا تھا۔ پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ ٹرمپ پہلے سال میں غیرمقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ بیٹھا۔ ایک کے بعد ایک غلط فیصلہ، ایک کے بعد ایک بحران - اب حالت یہ ہے کہ اس سال ہونے والے کانگریس کے مڈٹرم الیکشن میں اس کی جماعت بری طرح پٹنے جارہی ہے۔
ایک وقت تھا جب ساری مسلم امہ کا دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ ایران کے مقابلے میں سعودی عرب کو ہمیشہ حمایت ملتی رہی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ یکایک پوری دنیا کے مسلمان آل سعود کی بجائے ایرانی قیادت کے ساتھ ہمدردی دکھانا شروع ہوگئے۔ اب یہ وقت ہے کہ سعودی عرب حرمین شریفین کے دفاع کیلئے بلاتا ہے تو وہ آگے سے یا تو ڈالر مانگتے ہیں یا معذرت کردیتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب امارات اپنی ڈپلومیسی کی مہارت پر فخر کررہا تھا۔ امریکہ سے لے کر بھارت تک، اسرائیل سے لے کر پاکستان تک، سب اس کی مٹھی میں آچکے تھے۔ ابوظہبی اپنے ت��ل اور دبئی اپنے ٹورازم کی بنا پر ہر سال معاشی ترقی کے میدان میں بلند سے بلند ہوتا جارہا تھا۔ آج یہ وقت ہے کہ دبئی سے تمام ملٹی نیشنل کمپنیاں بھاگ رہی ہیں، جتنی سیلیبریٹیز وہاں مقیم تھیں، وہ سب بلیک مارکیٹ سے ٹرانسپورٹ کے ذرائع حاصل کرکے فرار ہوچکے ہیں۔ اب وہاں یا تو عرب بدو نظر آتے ہیں یا غریب غیرملکی لیبر۔
نحوست کے یہ سائے اچانک ان تمام ممالک پر اس لئے نمودار ہوئے کیونکہ ان سب میں ایک چیز مشترک تھی:
ان لوگوں نے عمران خان کو نقصان پہنچایا اور عاصم منیر کے ساتھ تعلقات استوار کئے۔
باقی تاریخ ہے!!!