مریم نواز آپ نے ہمارے ساتھ وہ سلوک کیا کہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ہمارے گھروں میں ماتم برپا ہے عمران خان کے نام پر پابندی لگاتے ہو اس نے وہ قانون بنائے تھے کہ کسانوں کا پیسہ روکنے پر مل اونرز پر ایف آئی آرز درج ہوتی تھی وہ مسیحا تھا کسانوں کا۔
اگلے سال حکومت نہ خود گندم خریدے گی نہ آڑھتی
گندم آپ سرکاری قمیت سے 100روپے زیادہ نہیں بیچ سکتے لیکن کھاد آپ سرکار قمیت سے 1400روپے زیادہ پر بیچ سکتے ہیں
کسی کھاد ڈیلر پر پرچہ ہوا کے وہ کیوں سرکاری قیمت سے زیادہ پر کھاد بیچ رہا ہے ؟
#ImranKhanPTI#DChowk#DChowkProtest
یہ خاتون سستی روٹی کے چکر میں کسانوں کو گندم کی کاشت سے متنفر کر رہی ہے ،اگر کسانوں کے ساتھ یہی سلوک رہا تو کسان گندم کاشت نہیں کریں گے پھر اربوں ڈالر زرمبادلہ کے بدلے فنگس زدہ گندم یوکرین سے منگوا لینا۔
#DChowk
مارکیٹ میں ایک سال سے زائد عرصہ کی کھادیں پڑھی ہیں۔ پرانا سٹاک سیل ہوگا تو نیا سٹاک اور نیا ریٹ لاگو ہوگا۔ جو ریٹ حکومت نے ڈی اے پی کا طے کیا ہے اس ریٹ پر پہلے ہی مارکیٹ ہورہی ہے۔ شہباز شریف اس زرعی پیکج میں کسانوں کے ساتھ ہاتھ کرگیا ہے۔
کسان پیکج کاصفر سے گہراتعلق ہے
ڈی اے پی بوری پراعلان 2500روپے کمی کا مگر کم ہوئے 250روپے یعنی گیارہ ہزار پانچ سو سے کم ہوکر اب ریٹ گیارہ ہزار دوسوپچاس
مطلب رعائیت صفر ہٹا کر پچیس سو ہوئے
اب بجلی یونٹ پربھی کچھ ایسی ہی عنائیت ہوئی ہے
زرعی بجلی یونٹ چھ روپے سے پچاس تک لےگئے
باقی گنا،گندم سرکاری ریٹ پر بھی اعلان صفر ہے،
البتہ یوریا کھاد پرتیس ارب سبسڈی جو کسان کے نام سے سرکاری خزانے سے نکلے گی وہ اپنے حقیقی وارثان کمیشن کوٹہ مافیاز والوں تک لازمی پہنچے گی،
کسانوں کوبونس میں لمبی لائن دھکے اورصفر کی قوی امید ہے.
9500 روپے ریٹ کروایا جاتا ۔ یہ اتنا بڑا زرعی ڈاکہ ھے جس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں مل سکتی ۔ اب سمجھنے والے خود سمجھ جائیں کہ اس 90 ارب روپے کی سبسڈی کی گیم میں کس کس نے کتنا مال بنایا ھو گا۔
ایک بہت بڑے نام نہاد زرعی پیکیج کا اعلان کیا ھے جوکھاد کمپنیوں کی ڈکیٹی، قومی خزانے کی چوری اور زمیندار کو لوٹنے کا شاندار پیکیج ھے ۔ تفصیل یہ ھے کہ DAP کھاد کا انٹرنیشنل مارکیٹ میں نرخ جون میں 983 ڈالر فی ٹن تھا اور ڈالر 245 روپے کا تھا اسطرح شپمنٹ اور بیگنگ چارجز کے بغیر
ظلم کی انتہا دیکھیں کہ کھاد کمپنیوں کا منافع یقینی بنانے کے لئے عوام کے خزانے سے 58 ارب روپے اس کمی کے ادا کئے جائیں گے جو پہلے ھی ھو چکی ھے بھلا پہلے ھی کم ھوئے ریٹ پر سبسڈی کا کیا جواز بنتا ھے ۔ حق تو یہ تھا کہ موجودہ مارکیٹ ریٹ 12000 روپے میں سے 2500 روپے کم کر کے
11500 روپے میں DAP کا 50 کلو کا تھیلا پہلے ہی مارکیٹ میں بک رہا ہے۔ حکومت کہ رہی ہے کہ 11250روپے DAP کا ریٹ مقرر کر کے ہم نے 2500 روپے فی تھیلا سستی کی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حکومت کسان کو بیوقوف سمجھتی ہی نہیں کہتی بھی ہے۔
کسانوں کےلیے ڈی اے پی 8000 روپے سے کم کی جاۓ۔یوریا 1800روپے کیا جاۓ بجلی 6 سے 7 روپے یونٹ کی جاۓ گندم 3500 روپے من کی جاۓ۔گنا 400 روپے من کیا جاۓ ڈیزل 150 روپے لیٹر کیا جاۓ۔ٹریکٹروں پر ڈیوٹی %0 کی جاۓ۔