سجدے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ،
زمین پر سر رکھ کے چپکے چپکے کے جانے والی سرگوشیاں، اوپر آسمانوں پر سنی جاتی ہے-
اے ہمارے رب!
تو ہمیں وہ سجدہ نصیب کر جو تیری بارگاہ میں قبول ہو جائے اور جو ہمیں تجھ سے قریب کر دے-
"دتے" کے گھر کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ چپ چاپ پنڈ سے غائب ہو گیا۔
پنڈ سے نکل کر وہ ایک مدرسے جا پہنچا۔ مدرسے کے مولوی صاحب سے اس نے کہا کہ وہ قرآن پاک حفظ کرنا چاہتا ہے۔ انگوٹھا چھاپ دتے نے مولوی صاحب کی کچھ اس طرح منت سماجت کی کہ مولوی صاحب کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے دتے کو قرآن پاک حفظ کروانا شروع کر دیا۔
دن رات محنت کر کے دتے نے ایک سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد دتہ اسی طرح خاموشی سے پنڈ واپس آ گیا۔ پنڈ کے لوگوں نے نہ اس کے غائب ہونے کا نوٹس لیا تھا اور نہ ہی واپس آنے کا، میرے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی ہیں۔
دتہ سارا دن خاموشی سے پنڈ میں مٹر گشت کرتا رہتا۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد ایک دن وہ پنڈ کی مسجد کے بلند مینار پر چڑھ گیا۔ اس زمانے میں لاؤڈ اسپیکر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مسجد کے مینار پر چڑھ کر اعلان یا اذان دیا کرتے تھے۔
دتے نے مینار پر چڑھ کر بلد آواز میں لوگوں کو بتایا کہ پچھلی رات جب میں سو رہا تھا تو خواب میں آ کر ایک فرشتے نے مجھے سینے سے لگایا، سینے سے لگاتے ہی مجھے قرآن پاک حفظ ہو گیا۔
لوگو..! یہ بہت بڑی کرامت ہے جو میرے ساتھ ہو گئی ہے۔ ان پڑھ دتے کے منہ سے یہ دعویٰ سن کر پنڈ والے ششدر ہو کر رہ گئے۔ مسجد کے مولوی صاحب بھی اعلان سن کر گھر سے باہر نکل آئے۔
پنڈ والے سب کے سب بھی چوھدری سمیت مسجد کے گرد جمع ہو گئے۔ پنڈ کا چوھدری حقے کا کش لگا کر بولا:*
"اوئے دتے تیرے پاس کیا ثبوت ہے اپنے دعوے کا..؟"
دتہ بولا:
"چوھدری جی مجھ سے پورا قرآن پاک سن لو۔"
اس کے ساتھ ہی اس نے بلند آواز میں قرآت شروع کر دی۔ پنڈ والے دتے کی قرآن پاک کی روانی دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ ادھر دتہ آنکھیں بند کئیے تلاوت میں مشغول تھا۔ میرے پنڈ کے اور ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسی کرامات دیکھنے کے حد سے زیادہ شائق ہیں۔ چٹے انپڑھ دتے کی اس کرامت نے ان کو پاگل سا کر دیا۔
تلاوت کے دوران چند جوشیلے دیہاتیوں نے نعرہ تکبیر لگانا شروع کر دیا۔ پنڈ کے مرد و زن جوش و خروش سے نعروں کے جواب دینے لگے۔
مولوی صاحب کا پورا دھیان دتے کی تلاوت کی طرف تھا وہ دتے کی غلطی پکڑنا چاہتے تھے، لیکن دتہ کی تلاوت میں ان کو کوئی غلطی نہیں مل رہی تھی۔ بالآخر مولوی جی نے اعلان کیا کہ دتہ کی کرامت حق پر مبنی ہے۔
مولوی صاحب کی بات سن کر پنڈ والوں کے جذبات اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ کچھ تو خوشی سے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ میرے پنڈ کے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ جذباتی ہو کر مینار پر چڑھنے لگے ۔انہوں نے اوپر پہنچ کر دتے کے ہاتھ پاؤں چوم کر عقیدت کا اظہار کیا اور اپنے آپ کو ان خوش نصیبوں میں شمار کرنے لگے، جنہوں نے سب سے پہلے دتے کے ہاتھ پاؤں چومے تھے۔
خیر ان عقیدت مندوں نے آنکھیں بند کر کے تلاوت کرتے ہوئے دتے کو کندھوں پر اٹھا لیا اور بہت احترام سے مینار سے نیچے اتار لائے. جبکہ دتہ ہنوز آنکھیں بند کئے تلاوت میں مشغول تھا۔ دتے کے مینار سے نیچے اترتے ہی چوھدری نے روتے ہوئے اپنے کھیسے میں سے ہاتھ ڈال کر دس کا نوٹ نکالا اور دتے کے مٹھی میں دے دیا۔ باقی گاؤں والے بھی حسب توفیق دتے کی خدمت کرنے لگے۔
دتہ پیر بن چکا تھا۔ اس کو کندھے پر اٹھا کر گھر پہنچایا گیا۔ نہلا دہلا کر نیا جوڑا پہنایا گیا۔ اس کے بعد لنگر کا اہتمام کیا گیا۔
وہ دتہ جس کو اپنی دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے تھے، اب اس کے لنگر پر غریب آ آ کر اپنا پیٹ بھرنے لگے۔ قوالوں نے مستقل دتے کے گھر پر ڈیرے لگا لئے، محفل سماع کا اہتمام کیا جانے لگا، جس میں لوگوں پر حال (وجد) طاری ہوتا۔
دتے کو اونچی سی مسند پر بٹھا کر اس کے سامنے قوالیاں کی جاتیں۔ کھسرے وغیرہ بھی مجرے پیش کرتے. یعنی اس کا گھر پورا پورا دربار بنا دیا گیا تھا۔ قصہ مختصر دتے کے مرنے کے بعد باقاعدہ عرس بھی کیا جانے لگا۔
ایک بار حفظ والے مدرسے کے قاری صاحب بھی دربار پر منت مانگنے آئے. ان کو بتایا گیا تھا کہ یہ ایک کرنی والے پیر کا دربار ہے، جہاں منتیں مانی جاتی ہیں اور ہر کام ہو جاتا ہے۔ قاری صاحب کو پیر کی کرامت کے بارے بتایا گیا۔ مزار پر لگی فوٹو دیکھ کر بوڑھے قاری صاحب کو اپنا شاگرد یاد آ گیا۔
ساری کہانی سمجھ کر قاری صاحب نے مریدوں کو اصل کہانی بتانے کی کوشش کی، مگر مریدوں نے قاری صاحب کی ٹھکائی شروع کر دی. وہ دتہ پیر جی کے خلاف ایک لفظ بھی سننے پر تیار نہ تھے. بمشکل قاری صاحب جان بچا کے بھاگے اور پھر دوبارہ دربار کے قریب جانے کی کوشش نہ کی۔
دتہ آج ہمارا سماجی اثاثہ ہے اور دھرتی پر "دتہ راج" ہے۔ یہ کہانی ہمارے معاشرتی رویوں، خاص طور پر جاہلیت اور اندھی تقلید کی درست عکاسی کرتی ہے..!!
فرخ شیخ کی وال سے کاپیڈ
@RevoltSpire سرکاری جگہ پر فائرنگ کرنے والے عام شہری پر تو میرا خیال ہے کہ 7ATA لگتی ہے۔ اب دیکھیں کیا لگتا ہے۔ بہرحال صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔فریقین کیطرف سے۔ ایسےچھوٹے موٹے معاملات پولیس کو ڈیل کرنے چاہیے تھے۔ اگر سٹوڈنٹس نے کچھ غلط کیا تھا تو بھی قانون کے تحت ایکشن لیناچاہیے تھا
@Ali_MuhammadPTI اچھااااااااا
جناب سندھ طاس معاہدہ تا حال معطل ہے پاکستان کے حصے کا پانی انہوں نے روک رکھا ہے۔ اور ڈیم بنا کر پاکستان کو اس پانی سے محروم کرنے کی پلاننگ زور شور سے جاری ہے اور ہم باقی دنیا کے جھگڑے نپٹا رہے ہیں۔ہمارے راہنما ہر روز جہاز کو ٹاکی شاکی مارتے ہیں اور یہ جا وہ جا۔
@GaziAmirGujar جب ان کتوں کو سی سی ڈی بھون دے گی تو پھرکچھ لوگ آجائیں گے لو جی سی سی ڈی نے ماورائےعدالت جہنم واصل کر دیا ہے۔ ان جیسوں کاعلاج یہی ہے۔جرائم، غنڈہ گردی، ابھی بھی عام ہے۔سی سی ڈی سےالتماس ہے۔گلی محلوں میں شراب پی کر ہلڑا بازی کرنےولے کن ٹٹوں کی ٹانگ میں ہڈی بچا کرایک ادھ چھراماردیں
@Trustme568@balochi5252 ریونیو اکھٹا کرنا اچھی بات ہے لیکن اس سے پہلے کاروباری ماحول بھی بنائیں۔ یہ جو مختلف محکمے عوام پر چھوڑے ہوئے ہیں بلا وجہ کا لاک ڈاؤن مسلط کیا ہوا اس میں تھوڑا ریلیف دیں عوام کو جب یہ لگنا شروع ہو جائے گا کہ حکومت کاروباری طبقے کو تحفظ دے رہی ہے تو وہ ٹیکس اپنے آپ دیں گے۔
آپس میں جتنا مرضی لڑ لیں۔لیکن دشمن کا مقابلہ ملکر کرنا۔
اور یاد رکھنا مسلمانوں کی انڈیا میں کوئی اوقات نہیں ہے انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کی وضاحت دینا پڑتی ہے۔ ہندو انکی فیملیز کو تنگ کرتے ہیں۔ انکی مساجد کا گھیراؤ کیا جاتا ہے۔کیونکہ ان مسلمانوں نےتقسیم کے وقت انڈیا کو ترجیح دی تھی
This was the response of Pakistan when Imran Khan was the Prime minister.
He said then, we won't think of retaliation, we will retaliate and we did.
#PakistanNeedsImranKhan
السلام وعلیکم
صحیح مسلم
کتاب: ایمان کا بیان
عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اور کوئی ایسا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔
@asmashirazi عاصمہ جی آپ نے اگر سرکاری حج نہیں کیا اور اخراجات کی رسیدیں بھی آپ کے پاس موجود ہیں تو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے سرکاری حاجن کا خطاب نقادوں کے منہ پر ماریں۔ ایویں ہی سرکاری حاجن کہہ کر آپ کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔
السلام وعلیکم
صبح بخیر
صحیح مسلم
حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کا سب سے ناپسندیدہ آدمی وہ ہے جو سخت جھگڑنے والا ہو۔
https://t.co/BUTltDrmKt
السلام وعلیکم
صبح بخیر
صحیح البخاری
کتاب: ایمان کا بیان
ترجمہ:
محمد بن عرعرہ، شعبہ، زبید کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے مرجیہ (فرقہ) کی بابت پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ (بن مسعود) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
صبح بخیر
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی .
#readerpk
السلام وعلیکم
صبح بخیر
https://t.co/xRAJFQ7cns
محمد بن مثنی ابن بشر عبیداللہ بن سعدی ابن سعید معاذ بن ہشام ابوقتادہ، ابی عالیہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ مصیبت کے وقت یہ دعا پڑھیں
@GFarooqi اگر پی ٹی آئی کو ان سیٹوں پر جن پر وہ جیتی ہے اس تناسب سے اگر مخصوص نشستیں مل جاتی ہیں تو اس میں لفافہ برادری کوکیامسئلہ ہے؟؟
اوراس میں کسی دوسری جماعت کی حق تلفی بھی نہیں لوگوں کاجمہوری نظام پر بھروسہ بھی بڑھےگااداروں سے متعلق لوگوں کی منفی سوچ بھی کم ہوگی۔
Very good decision