بلوچستان میں جاری علیحدگی کی تحریک میں قتل و غارت گری کا ہتھیار بھی شامل ہے مگر اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نوجوان پڑھے لکھے افراد اس کھیل کا حصہ بن رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ انہوں نے اپنے ہی ملک کے خلاف عسکریت پسندی کا راستہ کیوں اختیار کیا ؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو یہ راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پیش کیوں آئی؟ایسا ماحول کیوں اور کیسے پیدا ہواکہ نوجوان نفرت کی آگ میں جلنے اور جلانے کے لیے تیار ہوئے؟ ان سوالوں کا جواب جانیں تو ریاست کی نالائقیاں بھی سمجھ میں آئیں گی اور سلجھاو کا طریقہ کار بھی۔ (ویسے میں آخری بار اپریل 2025 میں بلوچستان گیا تھا)
حي الزيتون أقدم وأكبر أحياء قطاع غزة يتعرض لمسحٍ ممنهج عن الوجود نتيجة القصف الإسرائيلي المكثف من الطائرات الحربية والمدفعية، وعمليات النسف المتواصلة.
Al-Zaytoun, Gaza’s oldest and largest neighborhood, is being systematically erased by ongoing Israeli bombardment.
یہ ہماری شامت اعمال کا نتیجہ ہے کہ ایسے ایسے نمونے ہم پر مسلط کر دئے گئے ہیں
مسجد مدنی ٹیسٹ پوائنٹ ہے
اب بھی اگر مسلک سے بالاتر ہوکر متحد نہ ہوئے تو کسی بھی مسلک کی مسجد محفوظ نہیں رہے گی
#مساجد_دشمن_حکومت
یہ مقدس اوراق، یہ مسجد کے در و دیوار،
کل روزِ محشر رب العالمین کے سامنے تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔
کب تک اپنی بربریت، سفاکیت اور درندگی پر پردہ ڈالتے رہو گے ؟
کب ہوگا تمھارے دل میں خوفِ خدا ؟
#مساجد_دشمن_حکومت
یہ میری وصیت اور میرا آخری پیغام ہے۔ اگر یہ الفاظ آپ تک پہنچ جائیں تو جان لیجیے کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
سب سے پہلے آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکتیں ہوں۔
اللہ گواہ ہے کہ میں نے اپنی پوری طاقت اور بھرپور کوشش اپنے لوگوں کا سہارا بننے اور ان کی آواز بننے میں لگا دی، جب سے میں نے آنکھ کھولی ہے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کی گلیوں اور سڑکوں میں۔ میری امید تھی کہ اللہ میری زندگی بڑھا دے تاکہ میں اپنے گھر والوں اور پیاروں کے ساتھ اپنے اصل شہر، مقبوضہ عسقلان (المجدل) واپس جا سکوں۔ مگر اللہ کی مرضی مقدم ہے اور اس کا فیصلہ حتمی ہے۔
میں نے زندگی کے ہر پہلو میں درد جھیلا ہے، بارہا مصیبت اور نقصان کا سامنا کیا، لیکن میں نے کبھی ایک لمحے کے لیے بھی حق بات کو جیسا ہے ویسا بیان کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کی، نہ اس میں ردوبدل کیا اور نہ جھوٹ کا سہارا لیا—تاکہ اللہ گواہ ہو اُن پر جو خاموش رہے، اُن پر جو ہمارے قتل کو قبول کرتے رہے، ہمارے سانسوں کو گھونٹتے رہے، اور ہمارے بچوں اور عورتوں کے بکھرے ہوئے جسم دیکھ کر بھی جن کے دل نہ پگھلے، اور جنہوں نے اس قتلِ عام کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا جو ہمارا قوم ڈیڑھ سال(اب تقریبا 2 سال)سے زیادہ عرصے سے سہہ رہی ہے۔
میں تمہیں امانت سپرد کرتا ہوں—فلسطین کی امانت، جو امتِ مسلمہ کا تاج ہے، دنیا کے ہر آزاد انسان کے دل کی دھڑکن ہے۔ میں تمہیں اس کے عوام کی امانت سپرد کرتا ہوں، اس کے مظلوم اور بےگناہ بچوں کی، جنہیں خواب دیکھنے یا امن و سکون کی زندگی گزارنے کا وقت بھی نہ ملا۔ ان کے پاکیزہ جسم ہزاروں ٹن اسرائیلی بموں اور میزائلوں کے نیچے کچل دیے گئے، چیر پھاڑ ک�� دیواروں پر بکھیر دیے گئے۔
میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ زنجیریں تمہیں خاموش نہ کر سکیں اور نہ ہی سرحدیں تمہیں روک سکیں۔ تم زمین اور اس کے لوگوں کی آزادی کے لیے پل بنو، یہاں تک کہ عزت اور آزادی کا سورج ہمارے چھین�� گئے وطن پر طلوع ہو۔
میں تمہیں اپنی فیملی کی امانت سپرد کرتا ہوں۔ میں تمہیں اپنی بیٹی شَام کی امانت دیتا ہوں—میری آنکھوں کا نور—جسے میں کبھی اُس طرح بڑا ہوتا نہ دیکھ سکا، جیسا میں نے خواب دیکھا تھا۔
میں تمہیں اپنے بیٹے سلاح کی امانت دیتا ہوں، جسے میں سہارا دینا چاہتا تھا، اور زندگی بھر اس کے ساتھ رہنا چاہتا تھا، یہاں تک کہ وہ اتنا مضبوط ہو جاتا کہ میرا بوجھ اٹھا سکے اور مشن جاری رکھ سکے۔
میں تمہیں اپنی ماں کی امانت دیتا ہوں، جن کی بابرکت دعاؤں نے مجھے یہاں تک پہنچایا، جن کی دعائیں میرا قلعہ تھیں اور جن کا نور میرے لیے رہنمائی کا چراغ تھا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ��نہیں طاقت دے اور ان کی طرف سے مجھے بہترین اجر عطا فرمائے۔
میں تمہیں اپنی زندگی کی ساتھی، اپنی محبوبہ بیوی اُم سلاح (بیان) کی امانت دیتا ہوں، جن سے جنگ نے مجھے طویل دنوں اور مہینوں تک جدا رکھا۔ مگر وہ ہمارے رشتے کی وفادار رہیں، زیتون کے تنے کی طرح مضبوط اور بےلچک—صابر، اللہ پر توکل کرنے والی، اور میری غیرموجودگی میں ذمہ داری کو پوری قوت اور ایمان کے ساتھ ا��ھانے والی۔
میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ کھڑے رہنا، اللہ کے بعد ان کا سہارا بننا۔ اگر میں مر جاؤں تو میں اپنے اصولوں پر ثابت قدمی کے ساتھ مروں گا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس کے فیصلے پر راضی ہوں، اس سے ملاقات پر یقین رکھتا ہوں، اور پُر یقین ہوں کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر اور دائمی ہے۔
اے اللہ! مجھے شہداء میں شامل فرما، میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما، اور میرے خون کو میرے لوگوں اور میرے گھر والوں کے لیے آزادی کی راہ کا چراغ بنا دے۔ اگر میں نے کوتاہی کی تو مجھے معاف فرما، اور میرے لیے دعا کرنا نہ بھولنا—رحمت کی دعا، کہ میں نے اپنا وعدہ نبھایا اور اس میں کوئی تبدیلی یا خیانت نہ کی۔
غزہ کو مت بھولنا… اور مجھے بھی اپنی مخلص دعاؤں میں یاد رکھنا، بخشش اور قبولیت کے لیے۔
انس جمال الشریف
06.04.2025
(یہ وہ پیغام ہے جو ہمارے پیارے انس نے اپنی شہادت پر شائع کرنے کی وصیت کی تھی۔)